کووِڈ۱۹؍ کی وبا اور فرقہ پرستی کی بلا کی بنا پر اب ہمیں اپنے ہرنظام اور اُ س کے ہر پہلو پر غور و فکر کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ اُن میں دینی مدارس سر فہرست ہیں۔ ایسے میں ہمارا ہدف یہ ہونا چاہئےکہ دینی مدارس سے فارغ طلبہ کی زندگی مثالی ہو، وہ خوشحال اور خودکفیل ہوں اور قوم و ملّت کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہوں
مدارس کے طلبہ کافی ذہین ہوتے ہیں
ہمارے دینی مدارس کے ذمّہ داران، اُن کے فارغین اور معاشرے کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلانا چاہیں گے کہ آج جدید علوم سے بیزاری، غفلت اور معلومات کی کمی کی بنا پر ہمارے بیشتر مسلم ممالک کی حیثیت کیا رہ گئی ہے، اس کیلئے ایک مثال کافی ہے، وہ ہے حالیہ امریکہ صدارتی الیکشن کی۔ اس الیکشن میں پوری دنیا کی نظریں اس پر ٹکی تھیں کہ کون جیتا، ٹرمپ یا بائیڈن البتہ اِن دونوں میں سے کوئی بھی جیتے ہمارے مسلم ممالک جیتنے والے شخص کو اپنے اپنے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دینے کیلئے ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری اس مجبوری و ذلّت ک وجہ ہے جدید علوم اورٹیکنالوجی سے محرومی۔ اسلئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس محاذ پرہمارے دینی مدارس سے فارغین کی ایک نہیں بلکہ کئی بٹالین تیار کرلیں۔اس ملک میں بھی ہماری سیاسی بے وزنی اپنی انتہا کو ہے۔ اس ملک کے موجودہ حکمراں گروہ کیلئے اقلیتوں کو اذیّت پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کا ’بے مثل‘ فارمولہ ہاتھ لگا ہے لہٰذا وہ اقلیتی تعلیمی ادارے پر ضرب کرتا ہی رہے گا۔ اِن حالات میں ہمیں ہمارا’ہوم ورک‘ سنجیدگی سے کرنا ہوگا۔ یہ پریوار ہمارے اداروں اور قوم کو بھی ’قومی دھارا‘سے جُڑنے کی تلقین کرتی رہتی ہے البتہ اِن کی بدنام زمانہ قومی دھارا کی تعریف ہی میں بغض و تعصّب ہے کہ اقلیتیں اپنی تہذیب و شناخت کو بھول جائیں۔ ہم اس ’دھارا‘ کی بات تو نہیں کرتے البتہ ہمارے دینی تعلیمی اداروں کے فارغین زندگی کی دھارا سے جُڑ جائیں، اس کی خواہش یقیناً رکھتے ہیں۔
ہمارے اِن دینی تعلیمی مدارس کے فارغین کو عصری تعلیم سے جوڑنا ناممکن تو ہرگز نہیں، مشکل بھی نہیں البتہ محنت طلب کام ضرور ہے۔ ہر نیک اور فلاحی منصوبے کیلئے ہمیشہ نیک نیتی اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں اب ضرورت آن پڑی ہے کہ دینی مدارس سے فارغ طلبہ کو عصری تعلیم اور روزگار کی دھارا سے جوڑنے کیلئے ایک کم و بیش دوسالہ بریج کورس تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسا کورس جو اِن طلبہ میں وسیع النظری، وسیع القلبی اور وسیع المشربی کا باعث بنے۔ ایک ایسا کورس جو بین المسالک اور بین المذاہب مفاہمت کیلئے نمایاں کردار ادا کرے۔ یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے۔آج ہمارے یہاں مسلکی فروعی اور فقہی اختلافات جگ ظاہر ہیں۔ مسلمانوں میں معمولی معمولی مسلکی اختلافات آگے چل کر کس قدر بھیانک شکل اختیار کر رہے ہیں اس کا مشاہدہ ہم بخوبی کر رہے ہیں کہ صرف عقائد کی بناء پر چند مسلم ممالک دوسرے مسلم ممالک میں صرف خون ریزی نہیں کررہے ہیںبلکہ ڈرون حملے تک ہو رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں خوش ہیں کہ اِن اختلافات کی بناء پر یہ مسلم ممالک اُن کی ہتھیاروں کی فیکٹری کے سب سے بڑے خریدار بن گئے ہیں۔
اس انتہائی افسوس ناک اور دردناک صورتِ حال کا ایک ہی علاج ہے کہ اب ہم ہمارے یہاں ایک مہذب اور صحت مند افہام و تفہیم کی فضا قائم کریں کیوں کہ آج مسلکی نظریاتی اختلافات ہی کی بناء پر ہمارے طلبہ میں بھی ایک دوسرے کے تئیں صرف کراہت نہیں بلکہ نفرت کے جذبات تک پیدا ہورہے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم دینی وعصری تعلیم کو جوڑنے والے پُل کو تعمیر کرنے سے پہلے اتحاد بین المسلمین کیلئے ایک مضبوط پُل کی تعمیر کریں لہٰذا ہمارے اس برج کورس کے پہلے مضمون کا نام ہو ’اتّحاد باوجود اختلافات‘۔ اس مضمون کا نصاب کیا ہو؟ اور اُس میں کیا پڑھایا جائے؟
(۱) تمام مسالک کے عقائد کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے ۔
(۲) دوسروں کے عقائد کو سمجھنا اور اُن کا احترام کرنا۔
(۳) حجّت ، تکرار اور مناظرے کی کیفیت سے بچنا۔
(۴) مختلف عقائد کے طلبہ ایک بینچ پر بیٹھیں۔ مثلاً دیوبندی مدرسے کا فارغ بریلوی عقیدے کے طالب علم کے ساتھ بیٹھے یا حنفی عقیدے کا طالب علم اہلِ حدیث عقیدے کے طالب علم کے ساتھ بینچ شیئر کرے۔
دوران کورس عملی کام کے پریڈ میںوہ ایک دوسرے سے بڑے ہی خوشگوار ماحول میں یہ کلام کریں کہ’’میں نماز میں رفع الیدین کرتاہوں، آپ نہیں کرتے، پھر بھی آپ میرے دوست بن جائیں‘‘ یا ’’میں آمین بأواز بلند پڑھتا ہوں، آپ نہیں۔ کیاآپ مجھے قبول کریں گے؟ ‘‘ ہمیں اللہ کی ذات سے اُمّید ہے کہ یہ جملے سُننے کے بعد وہ نہ صرف قبول کریں گے بلکہ نم آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے گلے ملیںگے۔ عالمی سطح پر بھائی چارگی کی باتیںکرنے سے پہلے ہمیںہمارے گھر درست کرنے ہوں گے۔اگر ہم اس میںکامیاب ہوگئے تو یقین جانئے ہم اپنے وسائل، قوت اور وقت کا بہترین استعمال کر پائیں گے کیوں کہ اُس وقت ہمارا نصب العین صرف ایک ہی ہوگا ’تعمیر قوم‘۔
اب آئیے دینی مدارس سے فارغین کو عصری و جدید علوم سے جوڑنے والے بریج کورس کا ایک خاکہ تیار کریں۔ اس کو عملی شکل دے کر اگر اس پر سنجیدگی سے محنت ہوئی تو ہمیں یقین ہے کہ دینی مدرسے کا ہر فارغ صرف دو سال کے قلیل عرصہ میںعصری تعلیم کے انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ سے برابر بلکہ آگے بھی دکھائی دے گا۔ اس ضمن میں پیشِ رفت کرتے وقت ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ وہ مضامین جو مدارس کے فارغین کو مفصل طور پر پڑھائے گئے ہیں اُنھیں بریج کورس میں نہ دُہرائیں جیسے تاریخ، منطق اور فقہ وغیرہ بلکہ اب اُنھیں جدید مضامین سے متعارف کرانا ہے بلکہ اُن میں مہارت بھی دلانی ہے۔ اُن کی فہرست اور اُن پر عمل درآمد کرنے کی منصوبہ بندی ایسی ہو ۔
(۱)ریاضی: آج دینی مدارس میں جمع ، نفی ، ضرب و تقسیم وغیرہ کے ابتدائی حساب سکھائے جاتے ہیں البتہ اب بریج کورس میں اجزائے ضربی، عاداعظم، ذواضاف اقل، فیصد، نفع نقصان ، فیثا غورث، علمِ ہندسہ میں دائرے کی خصوصیات، مماثلت، ہندسی عمل، ہمزاد مساوات، مربعی مساوات اور ترمیم وغیرہ سکھائی جائے۔ ریاضی پڑھاتے وقت اِن باتوں کا خیال رکھئے ۔
(۱) خالص (Pure) ریاضی کے بجائے قابلِ عمل (Applied) ریاضی پڑھایا جائے۔ جو طلبہ سائنس اسٹریم سے متعلق کریئر منتخب کرنے والے ہیں اُن کیلئے ہر موضوع پر اگر پانچ مشقیں کرائی جائیں تو کامرس /آرٹس منتخب کرنے والے طلبہ کیلئے دو مشقیں ۔ نظام الاوقات میں ہفتے میں پانچ روز ۴۵؍منٹ کا ایک پریڈ ریاضی کا ہوا۔
(۲)ذہنی آزمائش۔ ہر مقابلہ جاتی امتحان میں ذہنی آزمائش سب سے کلیدی موضوع ہوتا ہے۔ یہ ریاضی ہی کا حصّہ ہے البتہ اس میں روایتی ریاضی مضمون پڑھانے کے بجائے ذہنی آزمائش کے سوالات حل کرنے کی تکنیک سکھائی جائے۔ ذہنی آزمائش کے سوالات دماغ نامی مشین کیلئے تیل کاکام کرتے ہیں۔ ہفتے کے چھٹے دِن ریاضی کے پریڈ کے بجائے پورے ایک گھنٹے کا پریڈ اس کیلئے مختص ہو۔ کسی بھی مقابلہ جاتی امتحان میں ذہنی آزمائش کے سوالات کیلئے سب سے زیادہ نمبرات مختص ہوتے ہیں۔ طلبہ کی حاضر دماغی اور قوتِ فیصلہ کا امتحان یہی سوالات ہیں۔ فارغین دینی مدارس اگر مینجمنٹ کورسیس کرنا چاہتے ہیں تو ذہنی آزمائش سوالات میں انھیں خوب خوب مشق کرنا چا ہئے۔