جدید فٹ بال کی سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اب بڑی ٹیموں اور چھوٹی ٹیموں کے درمیان زیادہ فرق نہیں رہا، یہی غیر یقینی کیفیت اس کھیل کو سبھی کا پسندیدہ بناتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 7:13 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
جدید فٹ بال کی سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اب بڑی ٹیموں اور چھوٹی ٹیموں کے درمیان زیادہ فرق نہیں رہا، یہی غیر یقینی کیفیت اس کھیل کو سبھی کا پسندیدہ بناتی ہے۔
دنیا میں اگر کسی ایک کھیل کو انسانیت کی مشترکہ زبان کہا جا سکتا ہے تو وہ فٹ بال ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس کے لئے نہ کسی مترجم کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ کسی خاص ثقافتی پس منظر کی۔ ایک گیند، دو گول پوسٹ اور بائیس کھلاڑی کروڑوں لوگوں کے جذبات کو اپنے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ کو صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا عوامی اور ثقافتی میلہ تصور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اولمپک کھیلوں کا ایونٹ اس سے کہیں بڑا ہو تا ہے کیوں کہ اس میں مختلف کھیل شامل ہوتے ہیں لیکن فٹ بال ورلڈ کپ کی مقبولیت اور اس سے وابستہ جذبات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ہر چار سال بعد پوری دنیا کئی ہفتوں تک اسی کے رنگ میں رنگی نظر آتی ہے۔
اس مرتبہ کا ورلڈ کپ کئی حوالوں سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف دنیا کی بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لئےصف آرا ہیں تو دوسری جانب ٹورنامنٹ کی نئی ساخت، اس کا غیرمعمولی دورانیہ، امریکہ کا بڑھتا ہوا کردار اور کھیل کی بڑھتی ہوئی تجارتی حیثیت نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ یوں یہ ورلڈ کپ صرف فٹ بال کے مقابلوں تک محدود نہیں بلکہ کھیل، سیاست، معیشت اور عالمی طاقت کے توازن کی ایک دلچسپ کہانی بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پی ایم نے عوام سے احتیاط کی اپیل کیوں کی؟ معیشت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ؟
فٹ بال ورلڈ کپ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ قوموں کے درمیان مسابقت کو جنگ کے میدان سے نکال کر کھیل کے میدان میں لے آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب قوموں کی برتری فوجی طاقت یا نوآبادیاتی تسلط سے ناپی جاتی تھی لیکن آج کھیل بھی قومی وقار کا ایک اہم پیمانہ بن چکا ہے۔ برازیل کے لئے فٹ بال قومی شناخت کا حصہ ہے، ارجنٹائنا کے لئے یہ جذبات کا دوسرا نام ہے جبکہ جرمنی، فرانس اور اسپین جیسے ممالک اسے اپنی اجتماعی قوت اور نظم و ضبط کی علامت سمجھتے ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران جب اسٹیڈیم میں قومی ترانے گونجتے ہیں تو کھلاڑی صرف اپنی ٹیم کی نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنے ملک کی تاریخ، ثقافت اور عوامی امیدوں کو بھی اپنے ساتھ لئے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک گول پر پورا ملک جشن مناتا ہے اور ایک شکست قومی مایوسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ فٹ بال کے شائقین کے لئے یہ محض ۹۰؍ منٹ کا کھیل نہیں بلکہ خوابوں اور احساسات کا ایک مکمل جہان ہے۔
اس بار ورلڈ کپ کی ایک نمایاں خصوصیت ۴۸؍ ٹیموں کی شرکت ہے۔ ماضی میں ۳۲؍ ٹیمیں حصہ لیا کرتی تھیں لیکن اب ٹورنامنٹ کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے دنیا کے زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔ افریقہ، ایشیا اور شمالی امریکہ کے کئی ایسے ممالک جو پہلے کوالیفائنگ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے، اب عالمی منظرنامے کا حصہ بن سکیں گے۔ اس توسیع سے فٹ بال کی جغرافیائی حدود مزید پھیلیں گی۔ ممکن ہے کہ آج جو چھوٹی ٹیمیں عالمی سطح پر تجربہ حاصل کر رہی ہیں وہ کل کی بڑی طاقت بن جائیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور مراکش کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے چند دہائیوں کے دوران خود کو عالمی فٹ بال میں اہم مقام دلایا ہے۔ اس لحاظ سے زیادہ ٹیموں کی شمولیت کھیل کے فروغ اور عالمی نمائندگی کیلئے ایک مثبت قدم معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم کو عام کرنے کا زبانی دعویٰ اور تعلیمی شعبےکی حقیقی صورتحال
تاہم ہر تبدیلی کی طرح اس فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ کی اصل کشش اس کی مسابقتی سختی میں تھی۔ جب صرف بہترین ٹیمیں میدان میں اترتی تھیں تو ہر میچ ایک بڑے مقابلے کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نسبتاً کمزور ٹیموں کی شمولیت بعض میچوں کو یکطرفہ بنا سکتی ہے۔ اگر کسی مقابلے میں ایک مضبوط ٹیم کمزور حریف کو پانچ یا چھ گول سے شکست دے دے تو شائقین کے لئے اس میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے طویل دورانیے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ جدید فٹ بال پہلے ہی کھلاڑیوں پر بے پناہ جسمانی اور ذہنی دباؤ ڈال رہا ہے۔ یورپ کے بڑے کلبوں سے وابستہ ستارے سال بھر مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ایسے میں ایک طویل ورلڈ کپ کھلاڑیوں کی تھکن، انجریوں اور کارکردگی میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
کئی سابق کھلاڑی اور کوچیز اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ فٹ بال کے منتظمین کھیل کے معیار سے زیادہ مالی فوائد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ زیادہ ٹیموں اور زیادہ میچوں کا مطلب زیادہ اشتہارات، زیادہ اسپانسرشپ، زیادہ ٹکٹوں کی فروخت اور زیادہ ٹیلی ویژن آمدنی ہے۔ ناقدین پوچھتے ہیں کہ کیا فٹ بال آہستہ آہستہ کھیل کم اور کاروبار زیادہ بنتا جا رہا ہے؟ اس پورے منظرنامے میں امریکہ کا کردار خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ فٹ بال روایتی طور پر یورپ اور جنوبی امریکہ کا کھیل سمجھا جاتا رہا ہے۔ برازیل، ارجنٹائنا، جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک نے عشروں تک اس کھیل پر حکمرانی کی ہے۔ امریکہ اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے لیکن فٹ بال کے میدان میں اس کی حیثیت نسبتاً محدود رہی ہے لیکن اب صورتحال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ نہ صرف اس عالمی میلے کی میزبانی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ وہ فٹ بال کو اپنی ثقافتی اور معاشی طاقت کے ایک نئے ستون کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ فٹ بال کے ذریعے اپنی ’’سافٹ پاور‘‘ کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ جس طرح ہالی ووڈ، ٹیکنالوجی اور پاپ کلچر نے امریکی اثرورسوخ کو دنیا بھر میں پھیلایا اسی طرح فٹ بال بھی مستقبل میں اس حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر عالمی فٹ بال کی معیشت کا مرکز آہستہ آہستہ امریکہ کی طرف منتقل ہونے لگا تو کھیل کی سیاست میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی سماج کو درپیش معاشی بحران اہم یا فکری بحران؟
میدان کے اندر مقابلوں کی بات کی جائے تو اس بار بھی روایتی طاقتیں سب کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ارجنٹائنا اپنے اعزاز کے دفاع کیلئے میدان میں اترے گا جبکہ فرانس مسلسل تیسری بار فائنل تک پہنچنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ برازیل اپنی گم شدہ عظمت واپس حاصل کرنے کیلئے بے تاب ہے اور انگلینڈ ایک طویل انتظار کے خاتمے کی امید لگائے ہوئے ہے۔ جرمنی، اسپین اور پرتگال جیسی ٹیموں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم جدید فٹ بال کی سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اب بڑی ٹیموں اور چھوٹی ٹیموں کے درمیان فرق پہلے جیسا نہیں رہا۔ حالانکہ کچھ بڑی ٹیمیں اپنے شاندار کھیل کے ذریعے فرق پیدا کردیتی ہیں لیکن وہ بہت کم میچوں میں ہوتا ہے۔ مراکش کی تاریخی پیش قدمی، جاپان کی حیران کن فتوحات اور کئی دیگر ٹیموں کی غیرمتوقع کامیابیاں ثابت کر چکی ہیں کہ عالمی فٹ بال میں اب کوئی نتیجہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہوسکتا۔ یہی غیریقینی کیفیت شائقین کو اس کھیل سے جوڑے رکھتی ہے۔ اس مرتبہ کے ورلڈ کپ پر تنقیدیں بھی ہیں، سوالات بھی ہیں اور خدشات بھی مگر ان سب کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ فٹ بال آج بھی دنیا کے کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔