Inquilab Logo Happiest Places to Work

کالج ڈائری: نیا سفر، نئے راستے، نئی منزلیں

Updated: June 14, 2026, 7:18 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

طلبہ یادرکھیں کہ مصنوعی ذہانت تو ابھی آئی ہے، مصنوعی محبت تو کب کی آچکی ہے۔ نوجوانو! آپ کے والدین نے آپ کو کالج میں فرینڈ شپ اور بریک اَپ کیلئے نہیں بھیجا ہے۔ اسلئے آپ کے کالج نامے میں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہمارے لاکھوں طلبہ اسکول کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کالج کی طرف رواں دواں ہیں۔ اُن طلبہ کیلئے کالج کی زندگی کا موجودہ منظر نامہ:
نیا ماحول :
گاؤں سے شہر کی طرف آنے والے۱۵۔ ۱۶؍ سال کے یہ طلبہ بڑی اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ اب گاؤں بھی گلوبل ولیج بن گئے ہیں۔ اِس کے باوجود اس کچی عمر میں اُن کا سب سے بڑا مسئلہ رہتا ہے امّی ابّوکی یاد، اسکول کے کلاس روم کی یادیں، گاؤں کی پگڈنڈیاں ، نانی دادی، اساتذہ اور دوست احباب۔ اس بناء پر وہ شہر کے نئے ماحول سے مانوس نہیں ہو پاتے۔ دونوں ماحول کا واضح فرق کیا ہے؟ کالج میں کوئی یونیفارم نہیں یعنی امارت دکھانے کی پوری آزادی۔ بستہ نہیں یعنی کتاب بیزاری، حاضری سے چھٹکارہ یعنی ’اپنی مرضی‘ کے دَور کا آغاز۔ یہ اور بات ہے کہ گاؤں اور شہر کی زندگی میں کچھ باتیں مشترک بھی ہو چکی ہیں کیونکہ دونوں ہی کے نوجوان اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اُن کے پاس موبائل ڈیٹا ہے اور اُن کے پاس وائے فائے کی سہولت بھی ہے۔ 
طوطا چشمی:
عزیز طلبہ! آپ کے نئے سفر کے آغاز ہی میں آپ کو اپنے اکثر رشتہ داروں کے اصل رنگ دکھائی دینے شروع ہو جاتے ہیں۔ اکثر رشتہ داروں کے ماتھے پر بَل آنا شروع ہوجاتا ہے کہ یہ بچّہ اب پڑھے گا، ترقی کرے گا، خوب خوب روپیہ پیسہ کمائے گا۔ دراصل اگر گائوں کے اُس بچّے نے محنت کی ہے اور اُسے جاری رکھے گا تو کامیابی اُس کے نصیب ہی میں لکھی ہوئی ہے۔ اُسے کوئی بھی روک نہیں سکتا البتہ اکثر رشتہ داروں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اپنے حسد و جلن سے بھی کوئی روک نہیں پائے گا کیوں کہ حسد و جلن کی آگ میں حسد و جلن کرنے والا ہی جلتا رہتا ہے۔ 
نفسا نفسی:
اسٹوڈنٹس ہوسٹل میں بھانت بھانت کے بچّے ملیں گے۔ اچھے بچّے بھی ملیں گے مگر اچھے ہی ملیں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں۔ کچھ بچّے اپنے ماحول کا بھی تعارف آپ سے کریں گے۔ آپ اگر کالج کی بُک بینک پر منحصر ہیں تب ممکن ہے وہ بچّے اپنی کتابوں سے استفادہ کرنے نہیں دیں گے نوٹس نہیں دیں گے۔ اگرتعلیمی لوازمات کیلئے ٹرسٹ یا فلاحی اِدارے کے پتے اُن کے پاس ہوں گے وہ بھی شیئر نہیں کریں گے۔ بیمار ہونے پر ڈاکٹر کے پاس لے جانے کیلئے بھی مدد نہیں کریں گے۔ اس پر کوئی افسوس نہ کریں کیوں کہ نفسا نفسی کا یہ عیب بڑوں سے بچّوں میں آتا ہے۔ اگر وہ کچھ ایسے پس منظر سے آرہے ہیں جہاں دوسروں کی مدد کرنے کی تربیت ہی نہ دی ہو، اُس مزاج میں تبدیلی پیدا کرنے میں آپ وقت ضائع نہ کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: نوجوانو! قرآن کا یہ پیغام سن لو’’علم والے اور بغیرعلم والے برابر نہیں ہوسکتے‘‘

بے یقینی:
بچّو!کا لج میں جس نئی زندگی سے آپ متعارف ہونے جارہے ہیں اْس میں آپ کو فوکس رہنا ہے کیونکہ یہاں پر آپ کو بہکانے کیلئے اندرونی و بیرونی عناصر دونوں متحرک ہیں۔ اندرونی یعنی کالج کے سینئر طلبہ جن میں ایک بڑی اکثریت بغیر کسی مقصد یا گول کے کالج آتی ہے۔ یہ خودبھی تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور اچھے و سنجیدہ طلبہ کو بہکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ بیرونی رُکاوٹوں کا پہلے نام ہوا کرتا تھا: ماموں چاچا وغیرہ۔ اب اس کا نام ہے: موشل میڈیا خاص طور پر واٹس اپ اور انسٹا گرام۔ وہاں تو گمراہی کی یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں۔ وہاں ایک (اُستاد نہیں ) ’پروفیسر‘ طلبہ کی ہمہ وقت گمراہی میں مشغول رہتے ہیں۔ یہی افراد کا لج کے نئے طلبہ کو مسلسل گمراہ کرتے رہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے راتوں رات لکھ پتی یاکروڑ پٹی کیسے بن سکتے ہیں۔ کالج کی پڑھائی اُس میں یکسوئی وغیرہ پیدا کرنے کے بجائے، ہلدی لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا کیسے آئیے، اُس کے بڑے ’معتبر‘ نسخے وہ بتاتے رہتے ہیں۔ بچّوں، زمانۂ قدیم ہویا اے آئی کا، ہر دَور میں سکّہ صرف محنت ہی کا چلے گا۔ 
سوشل میڈیا کے یہ گرو ہر بار اپنے ان ’ما ہرانہ‘ مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں کہ کون سے کر یئرس ٹکیں گے اور کونسے غائب ہوجائیں گے۔ اُن کے ان مشوروں کا لب لباب یہ بھی ہے کہ سارے کر یئرس اپنی اہمیت کھونے والے ہیں، سارے جاب جانے والے ہیں وغیرہ، حالانکہ ان کی اس بکواس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ مایوسی اور بے یقینی ہی کا شکار رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی ذہنیت کا غلام بنانے پر تُلے رہتے ہیں 
کالج کی زندگی کی اصطلاحات :
آج کل کالج کے طلبہ کی اصطلاحات کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ اُن میں سے دو کا بڑا چرچاہے۔ فرینڈ شپ اور بریک اَپ۔ عزیز طلبہ ان کا دُور دُور تک آپ کے کر یئر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بچّوں !ہم سب کچّی مٹّی کے بنے ہوئے ہیں۔ کم عمر میں ہارمونز کی تبدیلیوں سے کچھ نوجوان ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس دَور میں کبھی ذہین بچّے اچھے لگتے، کبھی خوب رو یا خوب صورت بچّے اچھے لگے ہیں، کبھی اسمارٹ، کبھی فیشن کرنے والے تو کبھی ڈریسنگ مارنے والوں سے آپ متاثر ہوتے ہیں۔ دراصل یہ سب وقتی کشش ہے۔ ایسی دوستی اکثر ٹکتی نہیں اور پھر وہ بریک اَپ ہو جاتا ہے اور وہ بریک اپ کا بوجھ لے کر کالج میں، لیب میں، لائبریری میں بڑی بے دِلی کے ساتھ گھومتے رہتاہے۔ اُس کا دوست کسی دوسرے کے ساتھ دکھائی دے تو اُس کے اسکول کے ۹۲؍ فیصد مارکس ۶۲؍فیصد بن جاتے ہیں۔ طلبہ یادرکھیں کہ مصنوعی ذہانت تو ابھی آئی ہے، مصنوعی محبت تو کب کی آچکی ہے۔ نوجوانو! آپ کے والدین نے آپ کو کالج میں فرینڈ شپ اور بریک اَپ کیلئے نہیں بھیجا ہے۔ اسلئے آپ کے کالج نامے میں اس کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تعلیمی نظام: چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

کالج کی زندگی کی ایک اور اصطلاح کا نام ہے : پاکٹ مَنی۔ طلبہ جب گھر سے کالج کو روانہ ہوتے ہیں تب راستے میں کٹھّی میٹھی چیز یں وغیرہ کو دیکھ کر للچاتے ہیں۔ جیب خالی ہو تو زیادہ بھوک بھی لگتی ہے۔ اس صورت میں طلبہ کو پاکٹ مَنی یعنی جیب خرچ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ بڑے گھروں کے طلبہ ہزاروں روپے کی پاکٹ مَنی رکھتے ہیں البتہ پھر اُن میں اکثر بگڑ بھی جاتے ہیں اسلئےپاکٹ مَنی کو مثبت طریقے سے استعمال کر یں اور دوستوں کو متاثر کرنے کا نہ سوچیں۔ 
لائبریری اور کینٹین:
لائبریری کالج کا ہی حصہ ہے مگر کئی بچّوں کیلئے کینٹین کالج کا زیادہ اہم حصہ ہے۔ شیخی بگھارنے والے اکثر طلبہ کینٹین میں دکھائی دیتے ہیں۔ سارے پروفیسروں کی برائی کرتے اور نئے طلبہ کو بہکاتے ہیں۔ لائبریری اور اب ای لائبریری سنجیدہ، طلبہ کا ٹھکانہ ہے۔ اچھے اور سنجیدہ طلبہ کو ہم نے لائبریری کیلئے یہ نغمہ گاتے سنا ہے : میرا تو جو بھی قدم ہے، وہ تیری راہ میں ہے۔ جب کہ موج مستی کی غرض سے آئے طلبہ لائبریری کیلئے یہ گاتے ہیں : تیری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم آج کے بعد!
ٹرین میں پڑھائی :
گاؤں سے شہر کی طرف کوچ کرنے والے طلبہ کو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے کسی رشتے دار سے لوکل ٹرین کے فرسٹ کلاس کی پاس کیلئے درخواست کیجئے۔ سفر میں اکثر وقت کافی درکار ہوتا ہے۔ فرسٹ کلاس کی پاس کے بعددو گھنٹے کے سفر میں ۲؍ قسطوں میں ۴۰۔ ۴۵؍منٹ پڑھائی کرسکتے ہیں۔ عزیز طلبہ! آپ کو بتائیں کہ میں نے اپنی ۱۷؍ کتابوں میں سے دادر، رتناگری لوکل ٹرین میں دو کتابیں لکھیں۔ لوکل ٹرین یعنی پھیری والوں کے شور و غل میں بھی میں نے فوکس ہو کر دو کتابیں تحریر کر ڈالیں، جنھیں واقعی پڑھنا، لکھا ہے وہ کہیں بھی پڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ اُس کا فوکس اور توجہ پھیری والوں کی آواز پر نہیں بلکہ اپنے مقصد پررہتی ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK