Inquilab Logo Happiest Places to Work

میناکشی نٹراجن کی امیدواری اور چھینا جھپٹی کی سیاست

Updated: June 14, 2026, 7:15 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اپنی نشستیں  بڑھانے کیلئے حکمراں  محاذ کا طرز عمل انتخابی عمل کو ’بائی پاس‘کرنے کی شرمناک کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ۔

Congress protests against rigging in Rajya Sabha elections in Madhya Pradesh Photo: PTI
مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا کیلئے ہونےوالے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف کانگریس کااحتجاج تصویر: پی ٹی آئی

مدھیہ پردیش اسمبلی سے راجیہ سبھا کیلئے کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کی امیدواری کے خارج ہونے اور بی جے پی کے تینوں  امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہو جانے سے چندی گڑھ کے ریٹرننگ آفیسرانل مسیح کا واقعہ یاد آگیا جن کی وہ حرکت کیمرہ میں  قید ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں   چندی گڑھ میں  بی جے پی کا میئر ’’جیت ‘‘گیاتھا۔ چونکہ معاملہ کیمرہ میں  قید ہوگیاتھا اس لئے سپریم کورٹ تک پہنچا اور اس وقت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چڈ نے نہ صرف ریٹرننگ آفیسر کے ذریعہ خراب کئے گئے ۸؍ ووٹس کو بحال کیا بلکہ اُن کو شامل کر کے دوبارہ گنتی کا حکم دیا اور عام آدمی پارٹی کے میئر کی جیت ہوئی۔ وہ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چڈ نے انتخابی عمل کے تقدس کے تحفظ میں سپریم کورٹ کے رول کو باور کراتے ہوئے سخت لہجے میں  کہاتھا کہ ’’یہ جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہے، جوکچھ ہوااُس سے ہم حیران رہ گئے، ہم اس طرح  جمہوریت کو قتل نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘
انل مسیح والا معاملہ اس لحاظ سےمختلف تھا کہ اس میں جمہوریت کے قتل کی کوشش کیمرہ میں  قید ہوگئی اور سپریم کورٹ کو واضح طور پر بھی نظر آگئی ، نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے بروقت مداخلت کرکے اسے بچا لیا۔ ورنہ گزشتہ چند برسوں  میں  عام سیاسی مبصرین اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کو کتنے ہی معاملات جمہوریت کے قتل یا اس کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف لگے مگر عدالتوں نے ایسا محسوس نہیں کیا اور انہوں نے بروقت مداخلت کی ضرورت نہیں سمجھی۔ میناکشی نٹراجن کو بھی سپریم کورٹ سے راحت نہیں  ملی۔ سپریم کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ نے تکنیکی نکتہ کا حوالہ دیتے ہوئے بہت ہی واضح طور پر کہا ہے کہ ’’فیصلہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، ایک بار نامزدگی خارج ہوجائےتو اس کا حل (سپریم کورٹ میں نہیں ) کہیں اور (یعنی الیکشن کمیشن کے پاس) ہے۔ کیا اِس کورٹ کا کوئی ایسا فیصلہ (بطور مثال) موجود ہےجس میں ہم نے اس مرحلہ میں  مداخلت کی ہو؟‘‘ اس طرح کانگریس اور میناکشی نٹراجن کے پاس الیکشن کمیشن سے استدعا اور ہائی کورٹ میں الیکشن پٹیشن کا متبادل ہی بچا ہے۔ الیکشن کمیشن سے استدعا کی جاچکی ہے اور اس نے اس کو خاطر میں  لانے کے بجائے مدھیہ پردیش سے بی جےپی کے تینوں  امیدواروں  کو بلا مقابلہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب قرار دے دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عبادت گاہوں کے تحفظ کےقانون کے ساتھ کھلواڑ

میناکشی نٹراجن اور کانگریس اب قانونی لڑائی لڑتی رہیں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی راجیہ سبھا میں کانگریس کی ایک ایسی سیٹ چھین لینے میں  کامیاب ہوگئی ہے جو اس کی نہیں  تھی۔ چھینا جھپٹی کی یہ سیاست نئی نہیں ہے۔ راجیہ سبھا کی سیٹوں  کی چھینا جھپٹی پر ایک نظر ڈالیں تو ۳۰؍ اپریل کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۱۰؍ برسوں   میں بی جےپی نے ایوان بالا کیلئے ۶۸؍ ایسی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے جہاں سے کامیابی کیلئے اس کے پاس اراکین اسمبلی کی ضروری تعداد نہیں تھی، اس کے باوجود وہ ان میں  سے ۶۲؍ سیٹیں جیتنے میں  کامیاب ہوگئی۔ مدھیہ پردیش میں  جو کچھ ہوا وہ اس میں   اضافہ ہے۔ یہ بی جےپی کی اس جارحیت کا مظہر ہے جس جارحیت کے ساتھ وہ جلد از جلد لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں   خود کو دو تہائی اکثریت کے قریب لے جانا چاہتی ہے۔ راجیہ سبھا میں  عام آدمی پارٹی کے ۸؍ اراکین کی بغاوت اور بی جےپی میں شمولیت، لوک سبھا میں ٹی ایم سی کے ۲۰؍ اراکین کا ’’اصل ٹی ایم سی‘‘ ہونے کا دعویٰ اور راجیہ سبھا کے ٹی ایم سی کے اراکین کا یکے بعد دیگرے استعفیٰ ایوان بالا اور زیریں  میں زعفرانی پارٹی اورا س کے حامیوں کی تعداد بڑھانے کی مہم کا ہی حصہ ہے۔ مغربی بنگال میں  ٹی ایم سی کے ۶۰؍ اراکین اسمبلی کی بغاوت بھی اس میں  معاون ہے کیوں کہ اس طرح بنگال اسمبلی سے منتخب ہونےوالے ٹی ایم سی کے اراکین مستعفی ہو کر دوبارہ بی جےپی کے امیدوار کے طور پر منتخب ہوسکتے ہیں۔ 
راجیہ سبھا اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کیلئے حکمراں  محاذ کی یہ جارحانہ مہم اسے بڑی حدتک اپنے مقصد میں کامیاب کرتی بھی نظر آرہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب فلور مینجمنٹ میں ماہر زعفرانی پارٹی اُن آئینی ترمیمات کو منظور کرانے میں  کامیاب ہوجائے جن کیلئے دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔ مثلاً لوک سبھا میں حکمراں  محاذ کے اراکین کی تعداد اس وقت ۲۹۳؍ ہے۔ ٹی ایم سی کے ۲۰؍ اراکین کی حمایت ملنے کے بعد یہ تعداد ۳۱۳؍ ہوجائےگی۔ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا جائے یا دَل بدلی مخالف قانون کے التزامات یاد دلائے جائیں، اس بات کا امکان کم ہے کہ بغاوت کرکے علاحدہ گروپ یا اصل ٹی ایم سی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ۲۰؍ اراکین پارلیمان کو کہیں کوئی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑےگا۔ زیادہ اندیشہ اسی بات کا ہے کہ ممتا بنرجی اُدھو ٹھاکرے اور شرد پوار کی طرح  اپنی پارٹی اور انتخابی نشان ہی نہ کھو بیٹھیں۔ یعنی لوک سبھا میں  حکمراں  محاذ کی سیٹوں میں ۲۰؍ کا اضافہ کم وبیش یقینی ہے۔ اُدھر راجیہ سبھا میں بھی زعفرانی اتحاد تیزی سے اپنی تعداد بڑھا رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے۸؍ اراکین کے ساتھ آنے کے بعد ٹی ایم سی کے ۳؍ اراکین کے استعفیٰ کو بی جےپی کی تعداد میں اضافہ کے طورپر دیکھا جانا چاہئے۔ ضمنی الیکشن میں  ان کے منتخب ہوکر آنے کے بعد راجیہ سبھا میں  حکمراں  محاذ کی تعداد ۱۵۱؍ ہوجائےگی۔  

یہ بھی پڑھئے: رامپور سے بھوانی پور تک، طاقت کا استعمال اور اعتماد کا بحران

اب لوٹتے ہیں کانگریس لیڈرمیناکشی نٹراجن کے معاملہ پر۔ جس بنیاد پر ان کی امیدواری خارج کی گئی ہے اس نے ایک بار پھرعوامی سطح پر الیکشن کمیشن کے غیر جانبدار نہ ہونے کی شبیہ پر مہر لگا دی ہے۔ ان کی نامزدگی ریٹرننگ آفیسرنے بی جےپی کے اس اعتراض پر مسترد کر دی کہ انہوں نے اپنے انتخابی حلف نامے میں حیدرآباد میں زیر التوا ایک فوجداری مقدمے کاذکر نہیں کیا۔ تلنگانہ کیلئے کانگریس کی انچارج کی حیثیت سے ان کا نام ۲۰۲۵ء میں تیلگو دیشم پارٹی کی ایک سابق کارپوریٹر کی جانب سے حیدرآباد کے ایڈیشنل میٹروپولیٹن کورٹ میں  دائر کی گئی ایک نجی شکایت میں مدعا علیہان میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ شکایت براہ راست میناکشی نٹراجن کے خلاف نہیں تھی بلکہ کانگریس کے ایک دوسرے لیڈر کےمبینہ نامناسب رویے اور مجرمانہ دھمکیوں کے الزامات پر مبنی تھی جس میں  میناکشی کو صرف اس بنیاد پر فریق بنایاگیا کہ انہوں نے مذکورہ لیڈر کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی تھی۔ چونکہ عدالت نے شکایت میں نامزد تمام افرادکو نوٹس جاری کیا اس لئے میناکشی نٹراجن کو بھی نوٹس جاری کیاگیا۔ ماہرین کے مطابق ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے اس کو نامزدگی مسترد کرنے کی بنیاد بنانا من مانی ہی نہیں لگتی بلکہ اس سے سازش کا تاثر بھی ملتا ہے۔ مجرمانہ مقدمات کے انکشاف سے متعلق قانون بالکل واضح ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت صرف ان مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہےجن میں ۲؍ سال یا اس سے زیادہ سزا کا التزام ہو اور اس سے بھی اہم یہ کہ صرف ان ہی مقدمات کا پرچہ نامزدگی میں  ذکر ضروری ہے جن میں فرد جرم عائد ہو چکی ہو۔ حیرت انگیزطور پر الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر تک پہنچ کر کانگریس نے اس کی نشاندہی کی مگر راحت نہیں دی گئی اوربی جےپی کے مہیش کیوٹ کو بلامقابلہ فاتح قرار دے دیاگیا۔ یہ پورا معاملہ انتخابی عمل کو بائی پاس کرنے کےمترادف ہے جس سے ملک میں  انتخابات کے انعقاد کی افادیت پر بھی سوال قائم ہوجاتاہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK