مغربی بنگال میں، ایک عام بیانیہ یہ ہے کہ بی جے پی نے فیصلہ کن طور پر ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو شکست دی ہے۔ تاہم، اعداد و شمار پر قریبی نظر ڈالیں تو ایک مختلف تصویر سے سابقہ پڑتاہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 7:14 PM IST | Sagarika Ghose | Mumbai
مغربی بنگال میں، ایک عام بیانیہ یہ ہے کہ بی جے پی نے فیصلہ کن طور پر ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو شکست دی ہے۔ تاہم، اعداد و شمار پر قریبی نظر ڈالیں تو ایک مختلف تصویر سے سابقہ پڑتاہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ان دنوں اپوزیشن کی سیاسی موت لکھنے کا موسم آگیا ہے۔ ’سب ختم ہوگیا‘...’ واپسی کا کوئی امکان نہیں ‘.... ’اپوزیشن کا خاتمہ جیسے بیانات لگاتار سننے کو مل رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین اپوزیشن کا ’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘ لکھنے میں مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس بنگال میں ہار گئی ہے۔ مضبوط اپوزیشن لیڈر ممتا بنرجی اب وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ کانگریس کو بے لگام اور بے سمت بتایا جا رہا ہے۔ ڈی ایم کے کو ایک نئی طاقت نے زیر کر لیا ہے.... اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مودی کو شکست دینا ناممکن ہے۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟اس تعلق سے حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مغربی بنگال میں، ایک عام بیانیہ یہ ہے کہ بی جے پی نے فیصلہ کن طور پر ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو شکست دی ہے۔ تاہم، اعداد و شمار پر قریبی نظر ڈالیں تو ایک مختلف تصویر سے سابقہ پڑتاہے۔ بنگال میں بی جے پی کو۴۵ء۹؍ فیصد جبکہ ترنمول کانگریس کو ۴۰ء۶؍ فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ۱۵؍ سال سے اقتدار میں رہنے اور مسلسل سیاسی، ادارہ جاتی اور میڈیا کی مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود، ’فاتح‘ اور ’مفتوح‘ کے درمیان فرق صرف۵؍ فیصد کا ہے۔ ووٹوں کے لحاظ سے، بی جے پی کو۲ء۹۳؍ کروڑجبکہ ترنمول کانگریس کو۲ء۶۰؍ کروڑ ووٹ ملے ہیں۔ تقریباً۱۰؍ کروڑ کی آبادی والی ریاست میں یہ فرق تقریباً صرف ۳۳؍ لاکھ ووٹوں کا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر ترنمول، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹوں کو ایک ساتھ ملالیا جائے تو بی جے پی مخالف ووٹوں کا فیصد بی جے پی کے ووٹ شیئر سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ بات واضح ہے: بنگال میں بی جے پی کو ووٹ دینےوالوں سے زیادہ لوگوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ جی ہاں، موجودہ انتخابی نظام کی وجہ سے، بی جے پی۲۰۰؍سے زیادہ سیٹوں پر اپنا ووٹ شیئر تبدیل کرنے میں کامیاب رہی لیکن اعداد و شمار اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ بنگال اچانک مودی کی قیادت والی بی جے پی کا گڑھ بن گیا ہے۔ یہ ایک واضح سچائی ہے کہ بنگال نے بی جے پی کو پوری طرح سے قبول نہیں کیا ہے۔ اس کے بجائے، ریاست میں ایک سخت مقابلہ ہوا، جس میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ ایک پارٹی کی کھلے عام حمایت کے الزامات کے درمیان بی جے پی نے تھوڑے سے فرق سےجیت حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی سماج کو درپیش معاشی بحران اہم یا فکری بحران؟
ایک اور اہم نکتے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان مجموعی ووٹوں کا فرق صرف ۳۳؍ لاکھ ووٹوں کا ہے، لیکن انتہائی متنازع ’ایس آئی آر‘ مشق کے بعد۳۴؍لاکھ ووٹرز کے معاملات ہنوز زیر التواء ہیں جنہیں اسمبلی انتخابات میں ووٹ دینے سے روک دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے متعصبانہ رویے، انتخابات کی نگرانی کرنے والے دو بڑے افسران اب بنگال میں بی جے پی حکومت میں بطور چیف سیکریٹری اور بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے مشیر کے طور پر شامل ہو گئے ہیں، نے بنگال کے انتخابات کو شروع سے آخر تک متاثر کیا ہے۔ اگر۳۴؍ لاکھ افراد سے ان کے ووٹنگ کا حق نہ چھین لیا جاتا تو بنگال میں نتائج کچھ مختلف ہو سکتے تھے۔
ووٹر لسٹ سے۹۱؍ لاکھ نام نکال دیئے گئے۔ مرکزی فورسز نے گنتی کے عمل میں مداخلت کی، گنتی کی میزوں پر بیٹھے کاؤنٹنگ ایجنٹوں کو پیٹا گیا اور قریبی مقابلےوالے حلقوں میں انتہائی مشکوک انداز میں نتائج کے اطلاعات ظاہر کئے گئے۔ راجرہاٹ، نیو ٹاؤن کا معاملہ خاصا پریشان کن ہے۔ مسلم اکثریتی بوتھ میں آخری منٹ کی ووٹنگ نے نتیجہ بی جے پی کے حق میں کر دیا۔ اس کی وجہ سے سنگین سوالات اٹھے۔ یہ انتخابی پٹیشن کا موضوع بننے کا امکان ہے۔ راجرہاٹ نیو ٹاؤن میں بی جے پی نے۳۱۶؍ ووٹوں سے سیٹ جیت لی۔
جنگی پارہ میں، جہاں ایس آئی آر سے وابستہ حذف شدہ ووٹروں کی تعداد۱۷؍ ہزار سے زیادہ تھی، ترنمول کا امیدوار ۸۶۲؍ووٹوں سے ہار گیا۔ اگر حذف شدہ ووٹروں میں سے کچھ کو ووٹ دینے کی اجازت ہوتی تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔
ان حلقوں میں جہاں ’ایس آئی آر‘ میں حذف کیے گئے ووٹرز کی تعداد جیتنے والے فرق سے نمایاں طور پر زیادہ تھی، نتائج حذف کئے بغیر بھی مختلف ہو سکتے تھے۔ آیا یہ رپورٹیں آخرکار قانونی جانچ پڑتال کا فیصلہ کرتی ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ ۲۰۲۶ء کے بنگال اسمبلی انتخابات آزادی کے بعد کے ہندوستان میں سب سے زیادہ مشکوک اور متنازع انتخابات میں سے ایک رہیں گے۔ بنگال کے نتائج کو بی جے پی کی سادہ توثیق سے تعبیر کرنا ناسمجھی کی بات ہے۔ ممتا بنرجی کی سیکولر سیاست کا اپنا نظریہ ہے۔ اس وژن نے ترنمول کانگریس کو اس کی موجودہ پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔ کانگریس کو سیکولرازم کے لیے نسبتاً متوازن اور عملی انداز کو ترک کرنا اور ممتا کے ماڈل کو اپنانا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔
کانگریس کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ’مسلمان میرے ووٹر ہیں ‘ کی حکمت عملی اپنانے کے بجائے اچھی حکمرانی اور تمام برادریوں کے ساتھ یکساں سلوک کا وعدہ کرے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اداریوں میں سیاسی تضادات اور تکنیکی چیلنجوں پر خصوصی توجہ رہی
یہ دلائل صرف مغربی بنگال تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے کانگریس کو خاصا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ وہی حکمت عملی تھی جو سونیا گاندھی نے یو پی اے بنانے کیلئے اختیار کی تھی، اور یہی حکمت عملی تھی جس نے حکومت کو دو میعاد پوری کرنے میں مدد کی، لیکن زیادہ تر انضمام ناکامی سے دوچار ہیں۔ ایک علاقائی لیڈر، جو پہلے ہی سے اپنی پارٹی کا سپریم لیڈر ہے، ریاستی کانگریس کا صدر کیوں بنے گا اور ہائی کمان یعنی ملکارجن کھرگے یا راہل گاندھی کے حکم پر عمل کیوں کرے گا؟
غیر بی جے پی اتحاد تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ یو پی اے کی طرح کام کرے، جہاں ہر پارٹی کے لیڈروں کو کابینہ کے مساوی ارکان سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس کے پرانے لیڈروں کو واپس لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اندرونی مخالفت یا قیادت کے ناقص فیصلوں کی وجہ سے مجبور ہو گئے ہیں، جیسے امریندر سنگھ، لیکن سچ یہ ہے کہ کانگریس کوئی ایسی مشین نہیں ہے جو اپنے بل بوتے پر الیکشن جیت سکے۔ کوئی بھی علاقائی پارٹی اس کے ساتھ ضم ہونے سے زیادہ حاصل نہیں کر سکے گی جب تک کہ پارٹی مکمل طور پر کمزور اور مجبور نہ ہو جائے۔
آپ اس بات پر بحث کر سکتے ہیں کہ ترنمول کانگریس اس وقت ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے، لیکن ممتا بنرجی اپنے لبرل خیر خواہوں سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ انضمام ان کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔
ممتا بنرجی کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی پرانی شبیہ پر نچلی سطح کے لیڈر کے طور پر واپس آئیں اور اپنی مقبولیت دوبارہ حاصل کریں۔ ۱۹۷۷ء میں، جب اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا اور ان کی پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے انہیں چھوڑ دیا تھا، وہ اپنی کھوئی ہوئی عوامی حمایت کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے اکیلے ہی میدان میں اتر گئی تھیں۔ یہ آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے ایسا کیا اور کامیابی حاصل کی۔
یہی ممتا بنرجی کیلئے بھی واحد راستہ ہے۔
ہاں یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ وہ اندرا گاندھی نہیں ہیں .... لیکن صرف کوئی احمق ہی انہیں سیاست سے باہر سمجھے گا۔