اِسی ماحول میں کچھ غور بھی ہو، فکر بھی ہو

Updated: February 15, 2020, 10:54 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

اس حقیقت سے کون واقف نہیں ، اور ......کون ہے جو یہ جملہ پہلی بار سن رہا ہے کہ ہندوستانی سماج میں خواتین کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا ؟ اس کے باوجود سماج اپنے رویہ کا جائزہ نہیں لیتا جبکہ جب بھی ضرورت ہوتی ہے، خواتین قربانی پیش کرنے میں تامل نہیں کرتیں ۔

اِسی ماحول میں کچھ غور بھی ہو، فکر بھی ہو
سی اے اے کے خلاف خواتین کا احتجاج۔ تصویر: آئی این این

آج سب سے پہلے یہ فہرست ملاحظہ فرما لیجئے جو ویسے تو کافی طویل ہوسکتی ہے مگر یہاں محض چند ناموں پر اکتفا کیا جارہا ہے: شاہین باغ (دہلی)، روشن باغ (الہ آباد)، شانتی باغ (گیا)، ممبئی باغ (ممبئی)، اور ایسے کئی دوسرے باغ جو خود کو شاہین باغ ہی سے منسوب کئے ہوئے ہیں مثلاً میرا روڈ موبائل شاہین باغ، ممبرا شاہین باغ، کونڈوا شاہین باغ، مالیگاؤں شاہین باغ اور جلگاؤں شاہین باغ۔ اس کے علاوہ کئی پارک، میدان اور ہال مثلاً محمد علی پارک (کانپور)، اقبال میدان (بھوپال)، پارک اسٹریٹ (کولکاتا) اور البرٹ ہال (جے پور)۔ یہ تمام مظاہرہ گاہیں ہیں جن میں کئی دیگر قدروں کے علاوہ دو قدریں خاص طور پر مشترک ہیں ۔ ایک تو یہ کہ تمام مظاہرے سی اے اے، این سی آر اور این آر پی کے خلاف جاری ہیں اور دوسری یہ کہ ہر مظاہرہ میں قائدین بھی خواتین ہیں اور مظاہرین بھی خواتین۔
  عالم یہ ہے کہ ان مظاہروں کے مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے کہ آزادی کے بعد سے اب تک اس نوعیت کا احتجاج کبھی نہیں ہوا جیسا کہ شاہین باغ (دہلی) کی قیادت، سیادت اور تقلید میں ملک کی متعدد ریاستوں میں جاری و ساری ہے۔ قومی اور عالمی سطح پر ایک اہم مقصد کیلئے ہندوستانی خواتین کبھی اس طرح بحث کا موضوع نہیں رہی ہوں گی جتنا کہ اَب ہیں ۔ معلوم ہوا کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف فی الحال خواتین ہی ڈھال بنی ہوئی ہیں ۔ سخت مزاحمت کا مظاہرہ بھی اُنہی کی جانب سے ہورہا ہے۔ قربانیاں بھی وہی دے رہی ہیں اور بے خوفی و بے باکی کا مظاہرہ بھی وہی کررہی ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر، وہ مزاحمت کی علامت ہی نہیں ہیں ، مزاحمت کا چہرہ بھی ہیں اور اس کی آبرو بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جرأت مثال بن رہی ہے اور لوگ باگ ان کے حوصلوں اور قربانیوں کو سلام کررہے ہیں ۔ یہ تصویر کا ایک رُخ ہے ۔
 تصویر کا دوسرا رُخ جاننے سے قبل اس مضمون نگارکے ساتھ ممبئی یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک ’’برین اسٹارمنگ سیشن‘‘ کی مختصر سی روداد سن لیجئے۔ طلبہ سے کہا گیا کہ ملک میں خواتین پر مظالم کی جو خبریں آئے دن اخبارات میں شائع ہوتی ہیں اُن سے آپ واقف ہیں ۔ اس پس منظر میں یہ بتائیے کہ ان مظالم کے اسباب کیا ہیں ۔ طلبہ نے رُک رُک کر، سوچ سوچ کر مختلف اسباب (مثلاً جہیز، مردوں کا احساس برتری، صنفی امتیاز، خواتین میں تعلیم کی کمی، اپنے حقوق سے لاعلمی، خود کفیل نہ ہونا اور اگر خود کفیل ہیں تو گھر اور دفتر کی دوہری ذمہ داری وغیرہ) بتانے کا سلسلہ شروع کیا۔ جب اُن سے کہا گیا کہ مزید بتائیے تو اُنہوں نے تسلسل کے ساتھ غوروخوض کیا اور پھر چند ایسے اسباب کی نشاندہی کی جو اُس وقت اِس مضمون نگار کے ذہن میں بھی نہیں تھیں ، مثلاً: سچ بولنے اور برحق ہونے کے باوجود گھر اور خاندان میں تنہا پڑ جانا، اُن کی قربانیوں کی ناقدری، خود آگہی کا فقدان، جسمانی طور پر کمزور ہونا، مظلومیت کو مقدر سمجھنا، طبقاتی فرق، توہم پرستی اور فرسودہ خیالی، مزاج کی عدم مطابقت، غیر لچکدار رویہ، اولاد نہ ہونا یا یکے بعد دیگرے لڑکیوں کی پیدائش وغیرہ۔ یقین جانئے دیکھتے دیکھتے تختہ ٔ سیاہ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جس پر مزید کچھ لکھا جاسکے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی سماج کی بہت سی خواتین کتنے مسائل اور مصائب میں گھری رہتی ہیں ۔ اب ان دو تصویروں کا تضاد بھی ملاحظہ فرمالیجئے:
 خواتین ملک گھر میں پھیلے ہوئے شاہین باغوں ہی کی آبرو نہیں ، وہ ایک ایک فرد اور ایک ایک گھر کی بھی آبرو ہیں ۔ وہ خاندانوں کی بھی آبرو ہیں اور پورے سماج کی بھی۔ اس کے باوجود خواتین کے ساتھ سماج کا طرز فکر اور طرز عمل اکثر بہت غلط ہوجاتا ہے۔ ممکن ہے موجودہ ماحول میں تصویر کے بیان کردہ دو رُخ محل نظر معلوم ہوں ۔ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ یہ وقت نہیں ہے ان باتوں کا مگر سچی بات یہ ہے کہ ان پر غوروفکر کا اس سے اچھا موقع اور ماحول آسانی سے دستیاب نہیں ہوسکتا۔ جن خواتین پر پورا ملک ناز کررہا ہے، اُنہی خواتین کی بابت سوچنے اور اپنے سلوک کا جائزہ لینے کا یہی بہتر وقت ہے۔ کوئی ایسا شخص جسے ہم نے نظر انداز کیا ہو یا جس کے ساتھ ہمارا طرز عمل اچھا نہ رہا ہو، وہ جب ہم پر احسان کرتا ہے تو دل میں ہوک سی اُٹھتی ہے اور اپنی کوتاہی کا احساس ہوتا ہے۔ 
 یہ اس لئے ہوتا ہے کہ (باضمیر لوگوں میں ) احسان سے احساس کا بڑا تعلق ہوتا ہے۔ شاہین باغات میں احتجاجی مظاہروں کی روح رواں خواتین کیا احسان نہیں کررہی ہیں ؟ ان کے احسان کو محسوس کرتے ہوئے سماج اگر اپنے طرز عمل کا جائزہ نہ لے تو ممکن ہے کہ اس سے بہتر موقع پھر نہ ملے۔ اگر سماج کے افراد خواتین کو مزاحمت کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ یہ صرف شاہین باغ کی نہیں ، گھر کی بھی روح رواں ہیں ۔ اگر انہیں گھر اور خاندان کی روح رواں تسلیم نہیں کیا جاتا ہے تو کم از کم اتنا تو مان ہی لینا چاہئے کہ مردوزن دونوں روح رواں ہیں ۔ پھر انہیں پاؤں کی جوتی سمجھنے یا ناقص العقل کہنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ بہت سی عورتیں بھی عورتوں کی دشمن بن جاتی ہیں اور اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتیں ۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے مرد تو متاثر ہوتے ہی ہیں ، عورتیں بھی محفوظ نہیں رہ پاتیں اور گھر کی بات گھر گھر جا کر رُسوائی کا سبب بنتی ہے۔ 
 اقوام عالم کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ، ہر دور میں عورت نے مرد کا ساتھ دیا ہے۔ وہ آج بھی اپنا یہ فرض ادا کررہی ہے مگر مرد یا یہ کہہ کیجئے کہ سماج پر مردوں کی بالادستی اُس کی قربانیوں کا نہ تو شمار اور احساس کرتی ہے نہ ہی اُن قربانیوں کا عملی اعتراف۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی قربانیوں کو اُس کا فرض اور اپنا حق سمجھتے ہوئے احسان کا بدلہ احسان سے نہیں دیا جاتا۔ عورت کے ساتھ ہندوستانی سماج کے ناروا سلوک کی داستان کافی طویل ہے۔ اس کے ہر باب میں کئی باب اور ہر زیادتی میں کئی زیادتیاں پوشیدہ رہتی ہیں ۔ دورِ حاضر میں خواتین کے خلاف جرائم بلکہ سنگین جرائم کی تعداد اسی لئے تشویشناک ہوگئی ہے کہ عورت جو ماں ہے، بہن ہے، بیوی ہے اور بیٹی ہے، کبھی لائق اعتنا نہیں سمجھی جاتی۔ آخر کب تک اُس کی اہمیت کو مسترد کیا جائیگا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK