شہریت ترمیمی قانون, این آر سی اور طلبہ کا احتجاج

Updated: January 15, 2020, 10:40 AM IST | Parvez Hafiz

سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر مخالف احتجاج میں بڑی تعداد میں مسلم طلبہ بھی شامل ہیں لیکن وہ سب مسلم نہیں بلکہ ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے برادران وطن کے ساتھ مودی اور شاہ کی ہندوستان کے آئین کو بدل دینے کی کوششوں کیخلاف احتجاج کررہے ہیں۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

 پندرہ دسمبر کو جامعہ ملیہ کے طلبہ پر ہوئے پویس مظالم کے خلاف ہندوستان بھر میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جو زبردست احتجاج شروع ہوئے تھے وہ آج تک اسی شدت سے جاری ہیں۔ ان احتجاجات کا اولین مقصدجامعہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مظلوم طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ لیکن دیکھتے دیکھتےان کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا۔جس احتجاج کا آغاز تعلیمی کیمپس سے ہوا تھا اس کو سڑکوں پر آنے میں دیر نہیں لگی۔ ہمیں ان نوجوانوں کو سیلوٹ کرنا چاہئے جن کے جذ بۂ انسانیت اور ارادوں کی پختگی میں اتنی صداقت تھی کہ ان سے متاثر ہوکر ہر عمر کے عام شہری بشمول خواتین بھی اس میں جوق در جوق شامل ہوگئیں۔ آج بلاشبہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر مخالف احتجاج ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں ہر مذہب اور شعبۂ فکر کے لوگ حصہ لے رہے ہیں۔
  مودی نے ۲۰۱۹ء  میں اپنی دوسری اننگ کا آغاز’’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کے پر فریب نعرے سے کیا تھا۔ چھ ماہ کے اندر یہ واضح ہوگیا ہے کہ اندھ بھکتوں کو چھوڑ کر مودی نے سب کا ساتھ اور وشواس دونوں گنوا دیا ہے۔ اور سچائی یہ ہے کہ اسٹوڈنٹس نے مودی کے چہرے سے یہ نقاب اتارنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔طلبہ خواہ جامعہ کے ہوں یا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے، حق کے راستے پر چلنے اور جابر حکمرانوں کے سامنے سینہ سپر ہونےکیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اسی لئے مودی کی یہ آمرانہ سرکار ان نوجوان طلبہ سے اس قدر ڈررہی ہے اور اسی لئے وہ ان پر اتنے مظالم بھی ڈھارہی ہے۔ نوجوان حکومت سے سوال کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک سے انہیں نوکریا ں نہیں مل گئیں اور نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردینے سے ان کے والدین کی غریبی دور ہو گئی۔ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے رکھنےکیلئے بی جے پی کا مستقل مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے کا گیم پلان بھی ان کی سمجھ میں آگیا ہے۔ ان کے جوش و ولولہ کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح ہمارے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کررہے ہیں اسی طرح ہمارے نوجوان سڑکوں پر ملک کے آئین اور جمہوریت کا تحفظ کررہے ہیں۔یہ نوجوان جنگ آزادی کی تحریک میں شامل نہیں تھے لیکن آج اس آزادی کی حفاظت کیلئے لڑ رہے ہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ اپوزیشن نے نہ تو پارلیمنٹ کے اندر اور نہ ہی پارلیمنٹ کے باہر مودی اور شاہ کے شہریت ترمیمی قانون کی اس منظم طریقے سے مخالفت کی جو اس سے متوقع تھی۔ اسلئے مودی اور شاہ کی یہ الزام تراشی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ کانگریس اوردیگر پارٹیاں اپنا سیاسی اُلو سیدھا کرنے کیلئے اس قانون کیخلاف احتجاج کروارہی ہیں۔  حزب اختلاف  کی عدم موجودگی کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوگیا تھا اسے نئی نسل کے ان نوجوانوں نے پُرکردیا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بہت سوں نے تو مودی کو  ووٹ بھی دیئے تھے۔  
 آج ہندوستان کی ۱۳۵؍کروڑ آبادی میں۶۵؍ فیصد شہریوں کی عمر۳۵؍ سال سے کم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ملک کی بھاری اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس بھاری اکثریت کا ایک بڑا طبقہ مودی حکومت سے بر گشتہ ہوچکا ہے۔ کروڑوں نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والی سرکار کی نااہلی اور نوٹ بندی جیسے تباہ کن فیصلوں کی وجہ سے پچھلے پانچ برسوں میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔دوسری جانب یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیمی نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے۔ یوں تو مودی سرکار کی ناکامیوں سے پورا ملک پریشان ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان کسی کا اگر ہوا ہے تو وہ یہ نوجوان ہیں۔ طلبہ پر پولیس کا وحشیانہ کریک ڈاؤن تو بس ایک ٹریگر تھا جس سے وہ غصہ جو کافی دنوں سے ان کے دلوں میں سلگ رہا تھا، لاوا بن کر ابل پڑا۔ نوجوان اب صرف احتجاج نہیں کررہے ہیں وہ ہندوستان میں ایک نیا انقلاب لارہے ہیں حالانکہ انہیں پتہ ہے کہ انقلاب کی راہ بہت کٹھن ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس فرسودہ اور جابرانہ نظام کے خلاف انقلابی سڑکوں پر نکلتے ہیں وہ نظام ان کے انقلاب کو کچلنے کیلئے اپنی پوری طاقت لگادیتی ہے۔ وہ تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑتی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو یا جامعہ جہاں پولیس نے یا پھر جے این یو جہاں پولیس کے تعاون سے نقاب پوش غنڈوں نے طلبہ کو جس درندگی کا نشانہ بنایا وہ ایک آمرانہ نظام کے جابرانہ اقدام کی مزاحمت کر نے کی سزا تھی۔ پھر بھی ان نوجوانوں کے قدم ذرا بھی نہیں لڑ کھڑا ئے ہیں۔ کریک ڈاؤن کے اگلے دن جامعہ ملیہ کی کم عمر ہندو طالبہ نے، رات کے اندھیرے میں لائبریری، واش روم یہاں تک کہ لڑکیوں کے ہوسٹل میں گھس کر پولیس اہلکاروں کے تانڈو کی دہشت ناک تفصیل بیان کرکے پوچھا: ’’کیا یہی ڈیموکریسی ہے؟‘‘ اس نے یہ بھی وضاحت کردی کہ گر چہ وہ مسلم نہیں تھی پھر بھی پہلے دن سے احتجاج کی فرنٹ لائن میں کھڑی تھی کیونکہ جن(مسلمانوں) کی شہریت چھن جانے کا خطرہ ہے وہ انہیں اپنے گھر کے افراد سمجھتی ہے۔   اس  کمسن طالبہ کا یہ عاقلانہ بیان حکومت کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ تھا جس کی بازگشت ساری دنیا میں سنی گئی اور ساری دنیا کو یہ پتہ چل گیا کہ ایک مطلق العنان حکومت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو کس طرح پامال کر رہی ہے۔تحریک میں بڑی تعداد میں مسلم طلبہ بھی شامل ہیں لیکن وہ سب مسلم نہیں بلکہ ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے برادران وطن کے ساتھ مودی اور شاہ کی ہندوستان کے آئین کو بدل دینے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ 
 ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن طلبہ کی تحریک سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اندھیرے میں امید کی کرن قرار دیا۔ ’’جب مختلف مذاہب کے نو جوان، جب ہندو اور مسلمان نوجوان شانہ بشانہ، قومی پرچم کے پیچھے مارچ کررہے ہیں تو وہ ان مصنوعی دیواروں کو منہدم کررہے ہیں جو سیاسی قائدین نے اپنے مفاد کی خاطر تعمیرکی ہے۔‘‘ مودی جی جب دو دن کے دورے پر کولکاتاتشریف لائے تو ہزاروں نوجوانوں نے ان کی آمد کیخلاف اور شہریت قانون کیخلاف زبردست احتجاج کیا۔ بڑے بڑے سیاہ بینرز جن پر’’مودی گو بیک‘‘ لکھا تھا اٹھائے جمہوریت کے یہ سپاہی،بھوک وپیاس اور سرد موسم کی پرواہ کئے بغیر اس وقت تک سڑکوں پر رہے جب تک وزیر اعظم بنگال کی سر زمین پر رہے۔حسن اتفاق دیکھئے کہ اتوار کے دن جب مودی کے خلاف نوجوان شہر نشاط میں مظاہرے کررہے تھے وہ سوامی وویکانند کا جنم دن تھا جسے ملک ’’قومی یوم نوجوان‘‘ کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK