کیا نیتاؤں کی گمشدگی کے پوسٹرانھیں حساس بنا سکتے ہیں؟

Updated: June 07, 2020, 4:05 AM IST | Jamal Rizvi

سادھوی پرگیہ کی گمشدگی کے پوسٹر مخالف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد کی جانب ہی سے چسپاں کئے گئے ہوں تو بھی اس سچائی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کامیابی ملنے کے بعد سے اب تک وہ برائے نام ہی عوام سے رابطے میں رہی ہیں۔کامیاب ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی انھوںنے واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے حلقہ ٔ انتخاب کی سڑکوں اور نالیوں کی مرمت کروانے کیلئے پارلیمنٹ کی رکن نہیں بنی ہیں۔ ایسے میں ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے؟

Sadhvi Pragya Poster - Pic : INN
سادھوی پرگیہ پوسٹر ۔ تصویر : آئی این این

آزاد ہندوستان کی سیاست میں عوامی مسائل کے متعلق سیاست دانوںکارویہ اکثر و بیشتر بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس موضوع پر مختلف زاویئے سے غور و فکر کرنے کے بعد سیاسی ماہرین کی اکثریت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس ملک میں نظام حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی عوام کے مسائل کی نوعیت کم و بیش وہی ہے جو ۱۹۴۷ء سے قبل تھی۔ یہ ضرور ہے کہ انھیں زندگی کے بعض شعبوں میں کچھ ایسی بنیادی قسم کی سہولتیں میسر آئی ہیں جو زندگی میں ترقی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔عوام کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور ان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کیلئے آئین میں جو التزامات  کئے گئےہیں، ان کی بہتر اور موثر تعمیل کیلئے ضروری ہے کہ سیاست داں عوام کے تئیں اپنے فرائض کو سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔اس ضمن میں ان لیڈروں کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہے جو ملک کے انتخابی عمل میں شریک ہو کر کامیاب ہوتے ہیں اور ایک عوامی نمائندہ کی حیثیت سے مرکزی اور ریاستی ایوانوں میں اپنے حلقہ ٔ انتخاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایسے عوامی نمائندوں سے اصولی طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حلقہ ٔانتخاب کے عوام اور اقتدار کے درمیان اس کڑی کے طور پر کام کریں گے جو عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں معاون ہوگی۔اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام سے رابطہ میں رہیں اور ان کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوشش کریں۔عوام اور عوامی نمائندوں کے مابین رابطہ سے متعلق ان اصولی باتوں کے حوالے سے اگر اس ملک کے عوامی نمائندوں کے طرز عمل پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال بہت اطمینان بخش نہیں نظر آتی۔
 گزشتہ دنوں بھوپال سے بی جے پی کی رکن پارلیمان پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی گمشدگی کے پوسٹر شہر کی دیواروں پر چسپا ں کر کے عوام نے یہ واضح کر دیا کہ ان لیڈروں کو صرف الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے تک اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام کی فکر ہوتی ہے۔اس ملک کے عوامی نمائندوں کا عوام سے رابطہ انتخاب میں کامیابی ملنے کے بعد بتدریج کم ہونے لگتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ عوام کو ان کی گمشدگی کے پوسٹر دیواروں پر چسپاں کرنے پڑتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ پرگیہ سنگھ کی گمشدگی کا اعلان کرنے والے یہ پوسٹر، ہندوستانی سیاست میں اس نوعیت کا پہلا معاملہ نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی مختلف حلقہ ٔ انتخاب سے اس طرح کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اکثر اپوزیشن پارٹی کے اراکین اس طرح کے پوسٹر چسپاں کر کے یہ جتانا چاہتے ہیں کہ جس لیڈر کو عوام نے اپنے اور اپنے علاقہ کی ترقی کیلئے منتخب کیا تھا، اسے اس بات کی مطلق فکر نہیں ہے کہ اس کے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام کن مسائل سے دوچار ہیں۔اس طرح کی منفی تشہیر جب مخالف پارٹی یا پارٹیوں کی طرف سے کی جاتی ہے تو اس کا واحد مقصد موجودہ عوامی نمائندے کی امیج کو متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن سادھوی پرگیہ کے معاملے کو اس زاویہ سے نہیں دیکھنا چاہئے ۔ 
 یہ ممکن ہے کہ سادھوی پرگیہ کی گمشدگی کے پوسٹر بھوپا ل میں مخالف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد کی جانب ہی سے چسپاں کئے گئے ہوں تو بھی اس حقیقت کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پارلیمانی انتخاب میں کامیابی ملنے کے بعد سے اب تک وہ برائے نام اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام سے رابطہ میں رہی ہیں۔بھوپال میں ان کی گمشدگی کے پوسٹر چسپاں کئے جانے سے قبل بھی اپنے حلقہ ٔ انتخاب  کے متعلق ان کے غیر سنجیدہ رویہ سے متعلق خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔الیکشن میںکامیابی ملنے کے تھوڑے دنوں بعد ہی انھوںنے اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام سے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے حلقہ ٔ انتخاب کی سڑکوں اور نالیوں کی مرمت کروانے  کیلئے پارلیمنٹ کی رکن نہیں بنی ہیں۔جو عوامی نمائندہ اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام اور ان کے مسائل کو اس نظر سے دیکھتا ہو، اس سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ عوامی مسائل کے تدارک کیلئے سنجیدہ کوشش کرے گا۔
 پرگیہ سنگھ کا معاملہ یوں بھی دوسرے سیاست دانوں سے مختلف ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ انھیں پارلیمانی انتخاب کا امیدوار بنانے سے لے کر الیکشن میں کامیابی ملنے کے بعد ان کے رویہ اور بعض حساس قسم کے موضوعات پر ان کے بیانات پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔اس حقیقت کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ انھیں مرکزی ایوان میں بیٹھنے کا موقع صرف اسلئے  ملا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت پر مبنی سیاست کا رجحان عوامی مسائل و مفاد والی سیاست کے رجحان پر غالب آ چکا ہے۔ ان کی یا ان جیسے دوسرے لیڈروں کی فہم و بصار ت بس اپنے ان اہداف کو سر کرنے تک محدود ہے جو مذہبی شدت پسندی پر مبنی ہوتے ہیں۔ سیاست کا مذہب سے یہ گٹھ جوڑسماجی اور معاشی مسائل سے وابستہ ان حقائق کو دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے جو کسی ملک یا معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے رکاوٹ بنتے ہیں اور چونکہ ایسے سیاستدانوں کو عوامی نمائندہ کے طور پر مرکزی یا  ریاستی ایوانوں میں بیٹھنے کا موقع ملتا ہے لہٰذا وہ عوام سے اپنے رابطہ کو بنائے رکھنے کیلئے انھیں ایسے معاملات میں  الجھائے رکھنا چاہتے ہیں جو اُن کیلئے عوام کے متواتر جذباتی استحصال کی زمین تیار کر سکیں۔
  پرگیہ سنگھ نے گوڈسے اور مہاتما گاندھی کے متعلق جو بیانات دئیے تھے، وہ شدت پسند بھگوا آئیڈیالوجی کی ترجمانی کے ساتھ ہی عوام کے جذباتی استحصال کا بھی ایک حربہ تھا۔دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ذریعہ ہندوستان کو فرقہ واریت پر مبنی سیاست کے دام میں لانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس ملک سے سیکولر سیاسی رویہ پوری طرح معدوم نہیں ہو سکا ہے ۔ شاید اسی لئے پرگیہ سنگھ کے ناتھو رام گوڈسے سے متعلق بیانات پر وزیراعظم نے شدید ناراضگی اور بی جے پی کے قومی صدر نے کارروائی کرنے والے بیانات میڈیا میں جاری کئے تھے۔ بی جے پی کے ان دو قد آور لیڈروں کے اس رد عمل کے تقریباً ایک سال بعد بھی عوام کو اب تک یہ پتہ نہیں چل سکاکہ پرگیہ  سنگھ کے خلاف ان کی  پارٹی کی جانب سے کیاکارروائی کی گئی؟
 بی جے پی کے قومی صدر کارروائی کے اعلان کے بعد بھی کوئی کارروائی نہ کر سکے لیکن پرگیہ سنگھ کے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام نے جو کارروائی کی، وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ مذہبی شناخت و شہرت کے سہارے عملی سیاست میں آنے والے افراد عوامی مسائل کے متعلق سنجیدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی انھیں عوام کے مفاد کی مطلق پروا ہوتی ہے۔ایسے افراد کو مرکزی یا ریاستی ایوانوں تک پہنچانے والے عوام بھی اس صورتحال کیلئے بڑی حد تک ذمہ دا ر ہوتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ عوامی معاملات و مسائل کے متعلق ایسے غیر حساس و غیر سنجیدہ افراد کو ایوان سیاست تک پہنچانے کے واحد ذمہ دار وہ عوام ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر اپنے قیمتی ووٹ انھیں دیتے ہیں۔ رائے دہندگان کے قیمتی ووٹوں کے سہارے کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ نام نہاد قسم کے عوامی نمائندے عوام سے اس قدر لاتعلق ہوجاتے ہیں کہ ان کی گمشدگی کے پوسٹر ان کے حلقہ ٔ انتخاب میں چسپاں کرنے پڑتے ہیں۔ کسی عوامی نمائندہ کے متعلق عوام کے اس رد عمل کو محض سیاسی مخالفین کی سازش یا کارستانی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ عوامی نمائندوں کا اپنے حلقہ ٔ انتخاب کے عوام سے ایسا انوکھا رابطہ اس عہد کی ہندوستانی سیاست کی بڑی سچائی ہے۔اس تلخ حقیقت میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک کہ عوامی نمائندوں کے اندر جواب دہی کا احساس نہ پیدا ہو ۔ اس کے ساتھ ہی عوام کو بھی اپنی سیاسی حساسیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
 اس ملک کے عوام جب تک یہ محسوس نہیں کریں گے کہ جمہوری طرز سیاست میں وہ ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتے ہیں اورانتخابی عمل میں ان کی شراکت اس طرز سیاست میں ان کے مفاد کو یقینی بنانے کی ایک تدبیر ہے تب تک ان کے علاقہ کے عوامی نمائندے ان کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کریں گے ۔عوامی نمائندوں کو اپنے مسائل و مفاد کے متعلق حساس و سنجیدہ بنانے کا کام عوام ہی کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کیلئے مذہبی تنگ نظری اور شدت پسندی سے بالاتر ہو کر صرف سماجی بہبود و ترقی کے متعلق سوچنا ہوگا ۔ اگر عوام اس انداز سے سوچنا شروع کر دیں تو فرقہ واریت کے بجائے عوامی مسائل و مفاد پر مبنی سیاسی رجحان کو فروغ ملے گا اور ، پھر اسی صورت میں کسی عوامی نمائندہ کی گمشدگی کے پوسٹر اس کے علاقے میں چسپاں کرنے کی نوبت نہیں آئے گی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK