کیا وطن عزیز میں محکمۂ پولیس بدعنوانی سے پاک ہو سکتا ہے؟

Updated: March 14, 2021, 9:17 PM IST | Jamal Rizvi

مختلف اداروں کے ذریعہ سرکاری ، نیم سرکاری اور عوامی شعبوں کی صورتحال سے متعلق جو سروے کئے جاتے ہیں، ان میں اکثر یہی شعبہ بدعنوانی کے معاملے میں سر فہرست رہتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

گزشتہ دنوں ایک ایسی خبر نظر سے گزری جس پر پہلی نظر میں یقین کرنا مشکل تھالیکن چونکہ یہ خبر ایک موقراخبار میں مصدقہ حوالوں کے ساتھ شائع ہوئی تھی لہٰذا اس خبر پر یقین نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس خبر کے مطابق اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے حسین گنج علاقہ میں واقع ایک شاپنگ مال میں ایک پولیس اہلکار چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ۔ اس پولیس اہلکار نے چوری کرنے کا جو طریقہ استعمال کیا تھا، اس کے سبب وردی کی حرمت پر بھی سوالیہ نشان لگا۔ اس نے اپنی وردی کے نیچے کئی نئی شرٹس پہن رکھی تھیں لیکن مال سے باہر نکلتے ہوئے ان شرٹس پرلگے ہوئے ٹیگ کے سبب وہ پکڑا گیا۔ پہلے تو اس نے اپنے محکمے کا رعب جمانے کی کوشش کی لیکن شاپنگ مال کے ملازمین اس کی دھونس میں نہیں آئے اور اسے اسی پولیس محکمے کی تحویل میں دے دیا جس سے وہ وابستہ تھا اور جس کا اہم کام سماج میںایسے افعال کو انجام دینے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا ہے۔
 اس خبر کے چند روز بعد اسی طرز کی ایک اور خبر پر نظر پڑی ۔ اتفاق سے اس خبر کا تعلق بھی اترپردیش سے ہے۔ اس ریاست کے شہر بریلی سے متعلق اس خبر کے مطابق ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کرنیوالے پولیس اہلکاروں کو جب ٹی ٹی ای نے اس طرح سفر نہ کرنے کی تنبیہ کی تو یہ پولیس اہلکار اس سے بد کلامی کرنے لگے اور کچھ پولیس والوں نے اس ٹی ٹی ای کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کر دی۔ان دونوں خبروں کو پڑھنے کے بعد ایک بار پھر اس بات کا احساس شدت کے ساتھ ہوا کہ وطن عزیز میں جن شعبوں کی ابتر صورتحال سماج میں پیچیدہ مسائل کے پیدا ہونے کا سبب ہے ان میں پولیس محکمہ سر فہرست ہے۔ مختلف اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ سرکاری ، نیم سرکاری اور عوامی شعبوں کی صورتحال کے متعلق جو سروے وقتاً فوقتاً کئے جاتے ہیں، ان میں بھی یہ شعبہ بدعنوانی کے معاملے میں بیشتر سر فہرست ہی رہتا ہے۔اس محکمے کی اولین ذمہ داری سماجی نظم و نسق کو بہتر بنائے رکھنا اور عوام کیلئے ایسا ماحول تعمیر کرنا ہے جس میںوہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے سلسلے میں مطمئن رہ کر روزمرہ زندگی کو خوشحال بنانے کی تدابیر کر سکیں۔اگر اس تناظر میں پولیس محکمے کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو معاملہ بیشتر برعکس نظر آتا ہے۔ پولیس محکمے میں بد عنوانی کا معاملہ کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک گیر سطح پر یہ محکمہ تقریباً ایک ہی راستے پر گامزن نظر آتا ہے اور اس راستے میں یہ محکمہ اپنے فرض کی تکمیل کو ترجیح دینے کے بجائے ان حربوں کے استعمال پر زیادہ توجہ دیتا ہے جن کے ذریعہ عوام پر اپنی دھونس جما کر اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کام کرنے کی آزادی حاصل کی جا سکے۔پولیس محکمے کا رویہ نہ صرف سماجی نظم و نسق میں خرابی کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے بلکہ اس سے ان عناصر کو بھی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے جو قانون کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مفاد کی راہ ہموار کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔
 سماج کو شر پسند اورتخریبی عناصر سے محفوظ رکھنے والا یہ شعبہ اس وقت بدعنوانی کی جس سطح پر پہنچ چکا ہے وہ ایک ایسی افسوس ناک حقیقت ہے جو قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سماج کے شریف افراد ، جو قانون کا احترام کرنے اور زندگی میں جائز و ناجائز کاموں کے درمیان تفریق کو برقرار رکھنے میں یقین کرتے ہیں، ان کے یقین کو اس محکمے کی بدعنوانی مسلسل مجروح کررہی ہے ۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بدعنوانی میں ملوث پولیس  اہلکار ان شریف افراد کو بلاسبب قانون کی جکڑ بندیوں میں الجھا دیتے ہیں جو زندگی کے ہر قدم پر قانون کی پاسداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ابھی سطور بالا میں جن واقعات کا ذکر کیا گیا ان سے پہلا تاثر یہی پیدا ہوتا ہے کہ سماج کو چوری چکاری سے محفوظ رکھنے پر مامور محکمے سے وابستہ افراد جب خود ہی ایسے فعل کے مرتکب ہونے لگیں تو ایسے سماج میں امن اور خو شحالی کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے؟ پولیس محکمے کی اصلاح کی بات اکثر پالیسی سازوں کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن جیسا کہ اس ملک میں ہوتا رہا ہے کہ اکثر اس طرح کے اہم حساس موضوعات سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں وہی کچھ معاملہ اس محکمے میں اصلاح کا بھی ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کے ذریعہ جب اس طرح کا موضوع اٹھایا جاتا ہے تو مخالف پارٹیاں اسے سیاسی رنگ دے کر اس میں اپنا سیاسی مفاد تلاش کرنے لگتی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی اس روش سے ہوتا یہ ہے کہ ایسے مسائل جن کا موزوں حل تلاش کرنا لازمی ہوتا ہے وہ بھی سیاستدانوں کے زبانی گھمسان میں گم ہوجاتے ہیں ۔
 پولیس محکمے میں تقریباً ہر سطح پر بدعنوانی کے ایسے معاملات عہد حاضر کے ہندوستانی سماج کی ایسی تلخ سچائی بن چکے ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔چونکہ یہ محکمہ عوام کی روزمرہ زندگی میں ایک اہم جزو کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ عوام اور پولیس محکمے کے مابین رابطے کی اس نوعیت کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس محکمے سے وابستہ اہلکاروں کو ان کے فرض کے تئیں بیدار اور حساس بنایا جائے ۔ اس محکمے میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد ٹریننگ کا جو نظم ہے اس میں پولیس اہلکاروں کو یہی پاٹھ پڑھایا جاتا ہے کہ وہ انسانی سماج کے متعلق اپنی ذمہ داری کو بغیر کسی تعصب اور مصلحت کے پورا کریں گے اور معاشرہ میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے ہر وہ تدبیر کریں گے جس کے ذریعہ ایک پر امن اور خوشحال سماج کی تشکیل کی راہ آسان ہو سکے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد جب پولیس اہلکار باقاعدہ طور پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو اس پاٹھ کا بیشتر حصہ یا تو بھول چکے ہوتے ہیں یا اگر اس محکمے سے سماجی وابستگی کے بعض نکات ان کے پیش نظر ہوتے بھی ہیں تو وہ ان کو قانونی سطح پر قابل عمل بنانے کے بجائے اپنے مفاد کو یقینی بنانے پر اپنا سارا زور اور توجہ صرف کرتے ہیں۔ چونکہ قانون کی روسے یہ محکمہ بعض ایسے اختیارات کا حامل ہوتا ہے کہ عوام خود بخود نفسیاتی طور پر اس سے مرعوب رہتے ہیں اور عوام کے اسی نفسیاتی رویے کا فائدہ اٹھا کر بعض پولیس اہلکار ہر وہ کام کرنا اپنا منصبی حق سمجھتے ہیں جس کے ذریعہ مالی مفاد کی راہ آسان ہوتی ہو۔ اب تو یہ معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ چوروں سے حفاظت کرنے والے پولیس اہلکار خود بھی چوری کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔
 اب تک اس محکمے کی بدعنوانی کا معاملہ بیشتر ایسا تھا کہ رشوت کے بل پر بدعنوان پولیس اہلکاروں کے ذریعہ سیاہ کو سفید بنانا اور سفید کو سیاہ کرنا ان کے معمول میں شامل تھا لیکن اب اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر چوری جیسے بد فعل کو انجام دینا اور اپنی وردی کا رعب دکھا کر قانون کے بنا کردہ اصول و ضوابط کو مسخ کرنا بدعنوان پولیس اہلکاروں کیلئے کوئی بڑی بات نہیں رہ گئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ سماج کے ایماندار اور شریف افراد پولیس والوں سے دوری بنائے  رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ اگر چہ بہ ظاہر یہ کوئی بڑی بات نہ لگے لیکن درحقیقت یہ سماجی سطح پر ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جو نظم و نسق کو بہتر بنائے رکھنے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ یہ محکمہ سماج سے اپنی وابستگی کے متعلق اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ اسے اس کی مطلق پروا نہیں کہ اس محکمے میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی عوام کیلئے کن مسائل کا سبب بنتی ہے اور ان مسائل کی وجہ سے سماجی نظم ونسق کو بہتر بنائے رکھنے کی راہ روز بہ روز کس قدر پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔ معاشرے کی خوشحالی اور ترقی کا دار ومدار بڑی حد تک سماجی نظم و نسق کے بہتر ہونے پر ہوتا ہے اور اگر اسی میں خرابی پیدا ہو جائے تو سماجی خوشحالی اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
 ارباب اقتدار کو پولیس محکمے میں بڑھتی ہو ئی بدعنوانی کے متعلق سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست دانوں کے ذریعہ اس محکمے کو اپنی سیاسی ضرورت کا آلہ  ٔ کار بنانے کے بجائے اس کے معمول کو قانون کے مطابق ڈھالنے کوترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ محکمہ دیانت داری کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کرنے لگے تو ہی ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہو سکتا ہے ۔ جب تک یہ خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہوتا تب تک سماج میں ان قدروں کی ترویج نہیں ہو سکے گی جو انسانیت کی بقا کیلئے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ اس اہم کام کی شروعات اگر اب سے ہی ہو جائے تو بھی غنیمت ہے کیوں کہ موجودہ سماجی نظام میں پولیس محکمے کی جو حیثیت ہے اسے پوری طرح نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ممکن ہے کہ یہ محکمہ جائز اور ناجائز کاموں کے درمیان تفریق کو بالائے طاق رکھ کر  صرف اپنے مالی مفاد کو پیش نظر رکھے اور ارباب سیاست متواتر یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ وہ ایک خوشحال اور پرامن سماج بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK