کیپٹل ہل تشدد : کئی ممالک کیلئے خطرہ کی گھنٹی

Updated: January 10, 2021, 6:36 AM IST | Mubasshir Akbar

گزشتہ کچھ برس میں پوری دنیا میں شدت پسندی کی لہر چلی ہے جسے عوام کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل ہو گئی ہے اور اس لہر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جمہوریت کی بیخ کنی کی جارہی ہے، جمہوریتوں اور جمہوری اداروں کو اس خطرہ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے

Capitalo Hill - Pic : PTI
امریکہ کا یہ بد ترین سانحہ مدتوں یاد رکھا جائے گا

 گزشتہ برس نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے بعد وہاں بننے والی حکومت کی تصویر بالکل واضح ہو گئی تھی ۔ یہ طے ہو گیا تھا کہ جو بائیڈن، جو امریکہ کے سب سے عمر دراز صدر منتخب ہوئے ہیں جنوری میں اقتدار سنبھالیں گے اور ڈونالڈ ٹرمپ جنہیں توقع کے عین مطابق شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اقتدار چھوڑ دیں گےلیکن نتائج کے سامنے آنے کے ساتھ ہی جس طرح کی تصویر امریکی الیکشن کی ابھری اس سے واضح ہو گیا کہ یہ اتنا آسان بھی نہیں ہو گا کیوں کہ ٹرمپ اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعہ انتخابی نتائج پر کئی مرتبہ سوالیہ نشان لگائے اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ایک جھوٹ اگر بار بار بولا جائے تو وہ سچ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ٹرمپ کےمعاملے میں بھی یہی ہوا ۔ انہوں نے اتنی مرتبہ جھوٹ بولا کہ ان کے حامیوں کو محسوس ہونے لگا کہ انتخابی نتائج میں گڑ بڑ ہے جسے وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر ہی درست کرسکیںگے۔ اسی وجہ سے امریکہ جمہوریت کے قلعہ کیپٹل ہل پر جو کچھ ہوا اس کی توقع کی جاسکتی تھی لیکن یہ جس پیمانے پر ہوا اس کی توقع شائد امریکہ پولیس، انتظامیہ اور یہاں تک کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی نہیں رہی ہو گی۔
 یہ کافی حیرت انگیز بات ہے کہ امریکہ جسے دنیا کی سب سے پرانی جمہوریتوں میں سے ایک ہونے کا شرف حاصل ہے اور جس کی جمہوریت پوری دنیا کے لئے قابل تقلید مانی جاتی ہے ، وہاںپر جمہوری عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے باغی بھیڑ  نے پارلیمنٹ پر حملہ کردیا۔ اس میں کچھ امریکہ کے رخصت پذیر صدر ٹرمپ کی غلطی ہے تو کچھ جمہوری اداروں کی بھی خامی ہے۔  ان حالات میں جب ٹرمپ مسلسل  انتخابی نتیجوں پر بیانات داغ رہے تھے، جمہوری عمل کو داغدارقرار دینے کی کوششیں کررہے تھے ، ان اداروں کے سربراہان کا فرض تھا کہ وہ سامنے آتے اور ٹرمپ کے جھوٹ کو بے نقاب کرتے لیکن انہوں نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی ۔جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تب کہیں جاکر ان لوگوں نے ٹرمپ کی روش کو نشانہ بنایا ۔ یہاں ہم امریکی میڈیا کی  تعریف کرنا چاہیں گے کہ اس نے وطن عزیز کے میڈیا کی طرح برسراقتدار طبقے کی ہمنوائی  اختیار نہیں کرلی ہے بلکہ  جب جب اور جیسے جیسے موقع ملا ہے اس نے ٹرمپ کے اقدامات کی قلعی کھولی۔ ان کے غیرجمہوری طرزعمل پر انگلی اٹھائی ہے اورنتائج کی پروا کئے بغیر جمہوریت کی حفاظت کو مقدم رکھتے ہوئے  اقدامات   کئے ہیں۔
 کیپٹل ہل پرٹرمپ حامیوں کی چڑھائی کو جس طرح سے امریکہ میڈیا نے بغاوت کا نام دیا اور کئی جگہوں پر اسے بغاوت قرار دے دیا گیا وہ  قابل تعریف ہے ۔ کیپٹل ہل پرچڑھائی کی جو تصاویر عام ہوئیں انہیں دیکھ کریہی محسوس ہو رہا تھا کہ یہ حملہ انتہائی منظم تھا کیوں کہ ٹرمپ حامی پوری تیاری کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔ واضح رہے کہ کیپٹل ہل امریکی پارلیمنٹ کی عمارت کا نام ہے اور اس کی حفاظت کے لئےکئی سطحوںکا حفاظتی گھیرا موجود رہتا ہے۔اس کے باوجود اگر مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر تک پہنچ گئے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس لاوے کو ابلنےکا موقع دیا گیا ۔ انتخابی نتائج پر مہر لگانے اور  ووٹوں کی تصدیق کے لئے ہی امریکی کانگریس کا سیشن بلایا گیا تھا لیکن باغی بھیڑ نے وہاں پہنچ کر اتنا ہنگامہ کیا کہ کئی اراکین کو حفاظتی بنکرس میں پناہ لینی پڑی ۔  حالات اتنے خراب ہوئے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی روک دینے کی نوبت آگئی ۔ یہ حالات کسی بھی جمہوریت کے لئے نیک علامت نہیں ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اس وقت پوری دنیا کی جمہوریتوںکو اسی طرح کے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ہر حکومت میں اس طرح کے عناصر موجود ہیں جواپنے فائدہ کے لئے عوام کو بغاوت پر اتارنے کےلئے تیار رہتےہیں۔
  امریکہ کے اتنے طویل عرصے تک جمہوریت کے سائے تلےرہنے اور جمہوریت کی حفاظت کرنے والے اداروں کو مضبوط ترین ستون بنادینے کے باوجود یہ حیرت انگیز بھی ہے اور افسوسناک بھی کہ  وہاں اب بھی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جو آمرانہ طرز کی روش اختیار کئے ہوئے اور  جب جب موقع ملتا ہے اسے ظاہر کرنے میںبھی کوئی عار محسوس نہیں کرتی ۔ ٹرمپ نے جس طرح سے عوام کو اکسایا اور انہیں تشدد پر آمادہ کیا وہ بلاشبہ امریکی تاریخ کے سیاہ باب میں ایک اور اضافہ ہوگا لیکن   ٹرمپ نے جس طرح سے شکست قبول کی کیا وہ یہی کام پہلے نہیں کرسکتے تھے؟ انہوں نے کوئی چارہ نہ دیکھ کر ہی شکست قبول کی اور اقتدار کی منتقلی کو راضی ہوئے لیکن اس دوران امریکی جمہوریت او ر اس کے اداروں کو جتنا نقصان پہنچایا جاسکتا تھا، انہوںنے پہنچادیا۔
 امریکہ میں پنپنے والے حالات نے پوری دنیا کی جمہوریتوں کےلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے کیوں کہ اگر شدت پسند فریق کے حق میں نتائج نہیں آئے تو وہ اسی طرح بغاوت کا طریق کار استعمال کرسکتے ہیں۔ کیپٹل ہل پر حملے نے یہ بھی واضح کردیا کہ اگر باغی بھیڑ کے قدموں تلے مقدس ترین ادارے بھی آجائیں تو وہ انہیں روندنے سے باز نہیں آئیں گے ۔گزشتہ کچھ برس میں پوری دنیا میں شدت پسندی کی لہر چلی ہے جسے عوام  کے ایک بڑے طبقے کی حمایت حاصل ہو گئی ہے اور اس لہر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جمہوریت کی بیخ کنی کی جارہی ہے۔ یہ کام وطن عزیز میں بھی ہو رہا ہے، امریکہ میں بھی ، فرانس میں بھی اور  برطانیہ میں بھی۔ غرض  ہر اس ملک میں یہ روش اپنائی جارہی ہے جہاں پر جمہوریت نہایت مستحکم ہے ۔ کیپٹل ہل پر حملہ نے کئی ممالک کو ہوشیار بھی کردیا ہے کہ اگر ان کے یہاں ایسے نتائج آئیں اور کوئی آمرانہ طرز کی حکومت قائم ہے تو اس سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں کیوں کہ آج نہیں تو کل یہ حالات تقریباً ہر بڑی جمہوریت میں پیش آنے والے ہیں۔ بہر حال ہمیں  امریکی عوام کی ستائش تو کرنی ہی ہو گی کہ انہوں نے ایک ہی غلطی کو دوبارہ نہیں دہرایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK