فصل کی اقل ترین قیمت کاقضیہ

Updated: November 25, 2021, 6:02 PM IST

اپنے مطالبات منوانے کیلئے ملک کے کسان، جن میں سے بیشتر پنجاب، ہریانہ اور یوپی سے تعلق رکھتے ہیں، ایک سال سے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دے رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ریلی اور مہاپنچایت کررہے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اپنے مطالبات منوانے کیلئے ملک کے کسان، جن میں سے بیشتر پنجاب، ہریانہ اور یوپی سے تعلق رکھتے ہیں، ایک سال سے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دے رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں ریلی اور مہاپنچایت کررہے ہیں۔ اس دوران ۱۹؍ نومبر کو وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا کہ اُن کی حکومت عنقریب پارلیمنٹ کےسرمائی اجلاس میں متنازع تین قوانین کو منسوخ کردے گی۔ ممکن ہے یہ سمجھا گیا ہو کہ اس اعلان کے ساتھ ہی کسانوں کا احتجاج ختم ہوجائیگا مگر ایسا نہیں ہوا۔ کسانوں کا احتجاج محض متنازع زرعی قوانین کے خلاف نہیں ہے بلکہ اُن کے اور بھی کئی مطالبات ہیں۔ مثلاً ایم ایس پی (فصل کی کم از کم یا اقل ترین قیمت) کا قانون بنایا جائے، بجلی ترامیم کا بل واپس لیا جائے، اب تک کے احتجاج کے دوران فوت ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے جن کی تعداد کم و بیش ۷۰۰؍ ہے اور لکھیم پور کھیری سانحہ کے مبینہ خاطیوں میں سے ایک اجے مشرا ٹینی کو مرکزی کابینہ سے برخاست کیا جائے۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ حکومت یہ اور ایسے تمام مطالبات کو تسلیم کرلے گی مگر ان میں سے دو ایک کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان کے منظور کرلئے جانے میں حکومت کو کوئی خاص تردد نہیں ہوگا۔ جس مطالبے کے ماننے پر تردد لازمی طور پر ہوگا وہ ایم ایس پی ہے۔ 
 حکومت ربیع و خریف کی ۲۳؍ فصلیں کسانوں سے ایم ایس پی پر خریدتی ہے۔ یہ کوئی نیا فارمولہ نہیں ہے لیکن کسان جب یہ کہتے ہیں کہ حکومت ایم ایس پی کی ضمانت دے تو ان کا مطمح نظر (تین زرعی قوانین کے کالعدم ہونے کے باوجود) یہ ہوتا ہے کہ اگر ان قوانین کو کسی دوسرے انداز میں نافذ کیا گیا اور ایم ایس پی یا مارکیٹ کمیٹی(اے پی ایم سی) کا نظام ختم ہوگیا تو اُنہیں بڑے مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت نے بار بار اعلان کیا ہے کہ ایم ایس پی ختم نہیں کی جائیگی مگر کسان ایسی تحریری ضمانت چاہتے ہیں جس کی قانونی حیثیت ہو تاکہ وہ قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ اور اُس صورتحال سے بچ سکیں جس میں اُنہیں اپنی دن رات کی محنت سے اُگنے والی فصل کو اونے پونے داموں بیچنا پڑتا ہے۔ 
 اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کئی بار کہہ چکی ہے کہ ایم ایس پی کو ختم نہیں کیا جائیگا تو اسی تیقن کو تحریری اور قانونی حیثیت دینے میں کیا قباحت ہے۔ اس کے معترضین کا کہنا ہے کہ تمام فصلوں پر اقل ترین قیمت دینے کی قانونی ضمانت دے دی گئی تو دو سال میں ملک دیوالیہ ہوجائیگا۔ یہ بات سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دیئے گئے پینل کے ایک رکن انیل گھنونت نے کہی ہے۔ہمارے خیال میں یہ گمراہ کن نکتہ ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ تمام فصلیں اور پیداوار حکومت ہی کو فروخت کی جائیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے ملک کے تمام مزدور اقل ترین اُجرت (مِنیمم ویجیز) کے قانون کو پیش نظر نہیں رکھتے بلکہ جہاں جیسی مزدوری ملتی ہے اُس پر بخوشی کام کرتے ہیں۔ ایم ایس پی کیلئے حکومت کے پاس کسان تب آئے گا جب اُسے اپنی پیداوار کی اچھی قیمت بازار میں نہیں ملے گی۔ رہا سوال ملک کے ’’دیوالیہ‘‘ ہونے کا تو جن ریاستوں (مثلاً کیرالا اور ایم پی) نے ایم ایس پی کی اسکیم جاری کی ہے، کیا وہ مالی بحران کا شکار ہوئیں؟ ویسے، کسانوں اور حکومت کے درمیان ایک بڑا مسئلہ اعتماد کا بھی ہے جو تسلسل کے ساتھ مجروح ہوا ہے۔ باہمی رشتوں میں تلخی بھی آئی ہے۔ مگر اب بھی موقع ہے۔ کسانوں کو اعتماد میں لینے کی مخلصانہ کوشش ہو تو اب بھی ثمر بار ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK