نظر کا زاویہ بدلے تو کچھ دکھائی دے

Updated: September 17, 2022, 1:44 PM IST | Shahid Lateef | Mumbai

دینی مدرسوں پر پہلے بھی اُنگلیاں اُٹھتی رہی ہیں اور اب تو ان کے خلاف بُلڈوزر چل رہے ہیں۔ مگر انصاف کا تقاضا کچھ اور ہے۔ یہ دیکھا اور محسوس کیا جانا چاہئے کہ یہ درسگاہیں کیا ہیں، کیوں ہیں اور کس نوع کی خدمت انجام دے رہی ہیں۔ یہ جانے اور سمجھے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

دینی تعلیم کے اداروں یعنی مدرسوں پر بدخواہوں کی نظر پہلے بھی تھی۔ اب وہی نظر’’نظارہ‘‘ پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام کی اکثریت، جو سادہ لوح افراد پر مشتمل ہے، اس خام خیالی میں مبتلا ہو کہ یقیناً کچھ غلط یا غیر قانونی ہورہا تھا تبھی تو حکومت نے اتنی بڑی کارروائی کی!  مدرسہ کی عمارت ڈھانے کے واقعات ابھی جاری ہی تھے کہ مدارس کے سروے کا حکم صادر فرما دیا گیا۔ یوپی میں اِن دنوں یہ  ’’اشد ضروری کام‘‘ پورے زوروشور اور جذب و جنوں کے ساتھ جاری ہے۔ ا س کا مقصد ملک کے اکثریتی ووٹوں کے ارتکاز (پولرائزیشن) کی کوشش کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ پولرائزیشن کی سیاست وہ ہے جو غیر ضروری کو ضروری اور فضول کو افضل بنا دیتی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو عصری درسگاہوں میں ایسے کئی کام ہیں جو حکومت کی فوری توجہ کے مستحق ہیں مگر توجہ اُدھر نہیں گئی۔ توجہ اِن مدارس پر مرکوز ہوئی جن میں اکثریت اُن کی ہے جو اپنے وسائل خود پیدا کرکے تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور اس طرح حکومت کی مدد کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، اِن مدارس کا احسان ماننا چاہئے کہ یہاں کی خاک سے ایسے افراد پیدا ہوئے جن کی خدمات کے اعتراف کے بغیر ملک کی تاریخ اپنے غیر جانبدار ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ جدوجہد آزادی کے اولین شہید صحافی مولوی باقر سے لے کر مولانا ابوالکلام آزاد تک بے شمار بالغ نظر شخصیات انہی مدارس نے پیدا کی ہیں۔ جس طرح دارالقضاۃ کا نظام ملک کے نظام ِعدل کی مدد کرتے ہوئے اس کا بوجھ ہلکا کرتا ہے بالکل اُسی طرح مدارس کا نظام ملک کے تعلیمی نظام کی مدد کرتا ہے اور اس کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔ حکومت کو اس نظام کا شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا اور اس کی جانب بہ نظر استحسان دیکھنا چاہئے تھا مگر شکریہ ادا ہوگا یا احسان مانا جائیگا تو پولرائزیشن کا سکہ کیسے چلے گا؟   مدارس کے نظام میں کوتاہیاں ہوسکتی ہیں۔ حساب کتاب کی تصدیق شدہ (آڈیٹیڈ) کاپی ہر سال معینہ مدت میں متعلقہ محکموں میں جمع کرانے سے لے کر جن عمارات میں مدارس جاری ہیں اُن کے قانونی تقاضوں پر پورا اُترنے تک، طلبہ کو مقررہ معیارات کے مطابق تعلیمی ماحول فراہم کرنے سے لے کر دینی علوم کے ساتھ  عصری علوم کی تدریس تک بہت سی چیزیں اصلاح طلب بھی ہوسکتی ہیں مگر یہ تکنیکی اُمور مدرسوں کو سرے سے مسترد کرنے، اُن پرسنگین الزامات عائد کرنے یا اُن کا سروے کرانے کا جواز نہیں بنتے۔ ایسی خامیاں تو عصری تعلیم کے تقریباً ہر سرکاری ادارے میں پائی جاتی ہیں۔ کہیں اساتذہ کم ہیں تو کہیں اساتذہ کو تنخواہ ہی میسر نہیں، کہیں عمارت شکستہ ہے تو کہیں سائنسی تجربہ گاہ نہیں، کہیں کھیل کا میدان نہیں ہے تو کہیں بیت الخلاء نہیں، کہیں یہ حال ہے کہ اساتذہ حاضر نہیں مگر حاضری لگی ہوئی ہے اور کہیں زباندانی کے اساتذہ سائنسی مضامین کی تدریس پر (یا اس کے برعکس) مامور کردیئے جاتے ہیں۔ سروے تو اِن اداروں کا ہونا چاہئے تھا تاکہ یہ معلوم ہوتا کہ کہاں کس طرح کے انفراسٹرکچر اور سپورٹ کی ضرورت ہے اور کہاں کیا درکار ہے۔ یہ حکومت کا فرض اسلئے بھی تھا اور ہے کہ حکومت ان اداروں کی سرپرست ہے ۔ اسی سرپرستی کے مقصد سے انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) کی وزارت، جو اَب وزارت تعلیم ہوگئی ہے، قائم ہے اور جس کا اچھا خاصا بجٹ (۶۴؍ ہزار کروڑ روپے سالانہ) ہے۔ مدارس دینیہ کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے معاملات میں حکومت کو فریضہ ٔ سرپرستی سے بری کرکے وہ نظیر قائم کی ہے جو کوئی نہیں کرتا۔ یہ ادارے نہ تو گرانٹ مانگتے ہیں نہ ہی وسائل ِتعلیم بشمول انفراسٹرکچر طلب کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی اعتبار سے ملک کے نظام ِ تعلیم پر بوجھ نہیں بنتے۔ اس کے باوجود یہ عتاب کا شکار بنیں یہ انصاف نہیں، سخت ناانصافی ہے۔  انہی مدارس دینیہ نے جب محسوس کیا کہ بدلتے وقت کے ساتھ عصری علوم کی تدریس بھی ناگزیر ہے تو یہاں یہ سلسلہ بھی جاری کردیا گیا۔ تب بھی حکومت کے آگے دست طلب دراز نہیں کیا گیا۔ ملک کے طول و عرض میں بہت سے مدارس عصری علوم جیسے سائنس، ریاضی، انگریزی اور کمپیوٹر وغیرہ بھی طلبہ کو سکھارہے ہیں۔ پھر یہاں تعلیم کا معیار عصری تعلیم گاہوں سے کافی بہتر ہے۔ یہاں کے طلبہ کی علمی استعداد بھی قابل ذکر ہوتی ہے جبکہ عصری تعلیمی اداروں کے مسائل آئے دن موضوع بحث بنتے رہتے ہیں کہ پانچویں جماعت کا طالب علم دوسری جماعت کی ریاضی کا سوال حل نہیں کرسکتا، یا، چوتھی جماعت کا طالب علم انگریزی کے آسان الفاظ بھی نہیں لکھ سکتا۔ مدارس کے اساتذہ کم تنخواہ پانے کے باوجود مطمئن رہتے ہیں۔ اس کی مثال Job Satisfaction (اطمینانِ خدمات) کے ایک سروے سے ملتی ہے جو شوپیان (کشمیر) میں کیا گیا تھا۔ ریسرچ ریویو جرنل (جلد ۴، شمارہ ۱، جنوری ۲۰۱۹ء) میں شائع شدہ اس سروے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شوپیان کے مدرسوں کے ۱۴؍ فیصد اساتذہ کے اطمینان ِ خدمات کی سطح کافی بلند، ۴۵؍ فیصد کی سطح بلند، ۲۱؍ فیصد کی سطح اوسط سے زیادہ اور ۱۰؍ فیصد کی سطح اوسط ہے۔ سروے میں اوسط سے کم اطمینان، بے اطمینانی اور کافی بے اطمینانی کے بھی کالم تھے مگر ان تینوں کالموں کے آگے صفر، صفر اور صفر لکھا ہوا تھا۔ یہ ہے مدارس کے اساتذہ کا اپنی خدمات کے تئیں اطمینان۔ ہوسکتا ہے پورے ملک کے مدارس میں یہی کیفیت ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجموعی کیفیت اس سے مختلف ہو مگر ہمارا آپ کا مشاہدہ بھی بہت کچھ کہتا ہے۔ مدارس کے اساتذہ میں تدریسی خدمات کے تئیں بے اطمینانی تو ہرگز نہیں پائی جاتی بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ ایک سے زائد وجوہات کی بناء پر خود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں۔ اسکے برخلاف عصری اداروں کا سروے کروالیجئے اور دیکھ لیجئے کہ کہاں کتنا اطمینان ہے۔ اس کی جھلک آئے دن کی خبروں سے ملتی رہتی ہے۔ مدارس، ملک کی خاصی بڑی آبادی کی ایک ایسی ضرورت کو پورا کرتے ہیں جسے حکومت نہ تو محسوس کرسکتی ہے نہ ہی اس کی تکمیل کی متحمل ہوسکتی ہے۔ اس زاویہ سے بھی یہ غیر معمولی خدمت ہے اور اس بناء پر لازم ہے کہ مدارس کو ہدف بنانے کا رویہ بدلے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK