یوم اطفال اور فکر ِ اطفال

Updated: November 14, 2021, 7:53 AM IST | Mumbai

پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم ولادت چونکہ یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملک کے اولین وزیر اعظم کے معتقد وہ تمام لوگ، جو اُن کی دور اندیشی، دور بینی اور نظریاتی وسعت کے قائل ہیں، اس دن یہ عزم کریں کہ ملک کے بچوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپنے آس پاس کی دُنیا کو بھی حساس بنائیں گے اور خود بھی اس کیلئے سرگرم رہیں گے۔

Pandit Jawaharlal Nehru
پنڈت جواہر لال نہرو

 پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم ولادت چونکہ یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملک کے اولین وزیر اعظم کے معتقد وہ تمام لوگ، جو اُن کی دور اندیشی، دور بینی اور نظریاتی وسعت کے قائل ہیں، اس دن یہ عزم کریں کہ ملک کے بچوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپنے آس پاس کی دُنیا کو بھی حساس بنائیں گے اور خود بھی اس کیلئے سرگرم رہیں گے۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ اس وسیع و عریض ملک میں بچوں کے ساتھ سب خیریت نہیں ہے۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کے اعداددوشمار کے مطابق ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۹ء کے درمیانی تیس سال میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات میں  ۴ء۵؍ فیصد سالانہ کی کمی آئی ہے چنانچہ ۱۹۹۰ء میں ۳۴؍ لاکھ بچے تغذیہ کی کمی یا امراض کے سبب فوت ہوجاتے تھے، تیس سال بعد ۲۰۱۹ء میں یہ تعداد ۸؍ لاکھ ۲۴؍ ہزار رہ گئی مگر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ اپنے آپ میں یہ تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے اس لئے اُن تمام عوامل کے خلاف سرگرم ہونے کی ضرورت ہے جن سے پانچ سال سے کم عمر کے بچے جی نہیں پاتے۔
 بچوں کی تعلیم اور تربیت بہت ضروری ہے تاکہ وہ تعلیم یافتہ اور ذمہ دار شہری بنیں اور سرزمین وطن کیلئے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ایک زمانہ تھا جب زیادہ تر بچے اسکول سے دور رہتے تھے مگر سابقہ حکومتوں کی مسلسل کاوشوں کے سبب اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن نے حالات کو مزید بہتر بنایا مگر آج بھی خاصی تعداد ایسے بچوں کی ہے جو ناگزیر وجوہات کی بناء پر اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگست ۲۰۲۱ء میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے تعلیم اور ہنر کے محکمہ جات کے انضمام کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک کے اسکولوں میں ۳۵؍ کروڑ طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر ۱۵؍ کروڑ اب بھی ایسے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔اس سے اندازہ کیجئے کہ اُن تمام لوگوں پر، جو تعلیم کی اہمیت سے واقف ہیں، اسکول نہ جانے والے طلبہ کو اسکول تک پہنچانے کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ تنہا حکومت کا کام نہیں ہے۔ یہ عام انسانوں کا بھی کام ہے کہ اپنے آس پاس جس کسی بچے کو دیکھیں کہ اسکول نہیں جاتا ہے، اُس کے والدین کو آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچے کو اسکول بھیجے۔ اگر اُنہیں کسی دشواری کا سامنا ہے تو کوشش یہ ہو کہ اس دشواری کو دور کیا جائے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں یا رشتہ داروں کے بچوں کی فکر تو کرتے ہیں لیکن دیگر کی نہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ سے آس پاس کے بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں رہ جاتا۔ 
 تعلیم ہی کا ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ پرائمری اسکول کی سطح پر ۱ء۵؍ فیصد، اپر پرائمری کی سطح پر ۱ء۸؍ فیصد اور سیکنڈری کی سطح پر ۱۷؍ فیصد بچے سلسلہ ٔ تعلیم منقطع کردیتے ہیں۔ براہ راست ذمہ داری والدین کی ہے مگر سماج کی بہتر تشکیل کا خواب دیکھنے والے لوگ بھی ذمہ دار ہیں، بالواسطہ ہی سہی۔
 ایک اہم نکتہ بچوں کی تربیت کا ہے۔ دورِ حاضر میں تعلیم کی اہمیت تو تسلیم کی جارہی ہے مگر تربیت کی ضرورت کو یا تو محسوس ہی نہیں کیا جارہا ہے یا اس طرف کم کم ہی توجہ دی جارہی ہے۔ ایک تبتی کہاوت ہے کہ ’’تعلیم کے بغیر بچہ ایسا ہے جیسے پروں کے بغیر پرندہ۔‘‘ اس میں ہم یہ اضافہ کرنا چاہیں گے کہ تربیت کے بغیر بچہ ایسا ہے جیسے طاقت ِپرواز کے بغیر پرندہ۔ تعلیم زندگی گزارنے کے سلیقے سے آشنا کراتی ہے تو تربیت یہ سلیقہ پیدا کرتی ہے۔ کاش یہ دور تربیت کی اہمیت کو سمجھے!n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK