ادب اطفال:ماضی، موجودہ صورتحال اور امکانات

Updated: November 15, 2022, 12:41 PM IST | Afzal Osmani | Mumbai

بچوں کا ادب تخلیق کرنا ایک مشکل کام ہے۔اردو کے آغاز سے اب تک متعدد شعرا و ادبا نے ادب اطفال کے عمدہ فن پارے تخلیق کئے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔گزشتہ روز یوم اطفال پر ادب اطفال کی اہم شخصیات سےگفتگو کی گئی جو یہاںپیش کی جارہی ہے۔

This literature focuses on child psychology ideas and reforms .Picture:INN
اس ادب میں بچوں کی نفسیات،خیالات اور اصلاحات پر ساری توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ ۔ تصویر:آئی این این

موضوعات میں بہت تبدیلی آئی ہے
 ڈاکٹر صادقہ نواب سحرکا نام اردو ادب کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔وہ ایک کامیاب ادیبہ و شاعرہ تو ہیں ، ساتھ ہی انہوں نے ادب اطفال میں بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔  ادب اطفال میں ماضی و حال کا موازنہ کرتے ہوئے صادقہ نواب کہتی ہیں کہ’’عصر حاضر میں بچوں کا ادب ،اس کے موضوعات اور اصلاحات اس طرح نہیں پائی جاتی جیسے ماضی میں پائی جاتی تھیں۔اب دیومالائی کہانیوںکی جگہ حقیقت نگاری نے لے لی۔‘‘ اطفال موجودہ ادب سے کتنا مستفید ہورہے ہیں؟اس سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ’’اس سچائی سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ اب کے بچے ادب اطفال یا دیگر کتابیں پڑھنا زیادہ پسند نہیں کرتے مگر وہیں یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ انہی میں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اس ادب سے نہ صرف استفادہ کررہے ہیں بلکہ خود بھی کہانیاں یا ادب تخلیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال ایک بچی کی لکھی ہوئی خوبصورت کتاب’’ sushi ‘‘ ہےجو بہت مشہور ہوئی۔‘‘ واضح رہے کہ صادقہ نواب سحر درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہونے کے ساتھ ادب اطفال کی تخلیق میں بھی سرگرم ہیں۔ان کے دو شعری مجموعے’’پھول سے پیارے جگنو‘‘اور جگمگ تارے‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔
الیکٹرانک آلات مطالعہ میں کمی کی وجہ 
 آفتاب حسنین ادب اطفال کا ایک معروف نام ہیں۔ انہوں نے بچوں کیلئے کئی کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز اسکول کے زمانے سے کیا تھا جو بدستور جاری ہے۔  آفتاب حسنین نےبچوں کے ادب پر روشنی ڈالتے ہوئےکہا کہ ’’ادب اطفال ،ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتے آئی ہے۔ اسماعیل میرٹھی،حامد اللہ افسر اور حفیظ میرٹھی کی تخلیقات اس دور کے تقاضوں کی ترجمان ہیں جسے ہم ادب اطفال کا سنہرا دور کہہ سکتے ہیں ۔‘‘موجودہ ادب اطفال کی تصانیف کی صورتحال کیا ہے؟ اس پر انہوںنے کہا کہ’’۷۰؍ کی دہائی میں ۱۶؍،۱۶؍ صفحات پر مشتمل بچوں کی کہانیاں کتابی شکل میں شائع ہوتی تھیںاور تیزی سے فروخت ہوجاتی تھیں۔اس کی وجہ کچھ بھی نہیںسوائےاس کہ اس وقت بچوں میں ادب اطفال کے مطالعہ کا رجحان بہت زیادہ تھا جبکہ آج موبائل اور دیگر آلات کے آجانے سےان میںیہ رجحان مفقود ہوتا نظر آرہا ہے۔اس لئے ناشر حضرات بھی ادب اطفال کی کتابیں کم تعدادمیں شائع کررہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ آفتاب حسنین کی کہانیوں کے ۴؍ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔جن میں ’’کہانی نگر‘‘،’’ایک گھر کہانیوں کا‘‘ ، ’’جادوگر اور پانچ کہانیاں ‘‘، اور ’’کہانیاں جانوروں کی‘‘ شامل ہیں۔انہیں کئی ادبی ایوارڈ سے نوازا بھی جا چکا ہے۔
سائنسی ادب بچوں میں مقبول
 نذیرفتح پوری ماہنامہ ’’ اسباق‘‘ کے مدیر ہیں۔ موصوف نے شاعری اور نثر نگاری میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ انہوںنے ۲؍ تاریخی و سوانحی ناول بھی لکھے ہیںجو مالیگاؤں سے شائع ہوئے۔ موجودہ دور میںادب اطفال کی صورتحال بتاتے ہوئے نذیر فتح پوری کہتے ہیں کہ’’آج بھی ہمارے بچے دلچسپ کہانیاں اور آسان نظمیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔اگر چہ ادب اطفال پر کئی کتابیں شائع ہو رہی ہیں مگریہ سلسلہ تسلی بخش نہیں ہے۔‘‘ادب اطفال میں اب کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’عصر حاضر میں بچوں کیلئے سائنسی ادب اور سائنسی نظمیں بھی تخلیق کی جارہی ہیں ۔ اس موضوع پر پہلے نہیں لکھا جاتا تھا۔ بچوں میں سائنسی نظمیں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ادیب زمانوں کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ادب تخلیق کررہا ہے اس کے باوجود ادب اطفال کے ادبا و شعرا پر انگلیاںاٹھتی رہتی ہے۔ مگر ایک اچھا ادیب ان باتوں پر کان نہ دھرتے ہوئے ادب اطفال کی تخلیق و ترسیل میں مصروف ہے۔‘‘ واضح رہے کہ نذیر فتح پوری کی کتابوں کی مجموعی تعداد ۵۴؍ سے تجاوز کر چکی ہے۔جن میں ۷؍ کتب ادب اطفال کے متعلق ہیں ۔شعری مجموعہ’’بچو! آؤ گیت سنائیں‘‘اور کہانیوں کا مجموعہ ’’میرا دیش میاں‘‘منظر عام پر آچکےہیں ۔
بچوں کے مزاج کا ادراک ضروری  
 شجاع الدین شاہد نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز ادب اطفال سے کیا۔انہوں نے حالات حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کیلئے کئی نظمیں لکھیں۔ ان کی نظمیں پند و نصائح سے مملو ہیں۔ ادب اطفال کا موازنہ کرتے ہوئے شجاع الدین شاہد نے کہا کہ ’’اردو کے ابتدائی دور میں بچوں کو زیادہ تر فارسی کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں جیسے گلستان،بوستان،کریما اور خسرو کی خالق باری وغیرہ۔ ان کہانیوں میں بچوں کی دلچسپی اور ذہن کے مطابق واقعات کو قلمبند کیا گیا ہے۔زمانہ حال میں لکھا جانے والا بچوں کا ادب غیر معیاری تو نہیں البتہ آج کل کے بچوں کے مزاج کا ادب نہیں لگتامگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کے ادیب ایسے بھی ہیں جنہوں نے وقت کی نبض کو پکڑا ہے اور آسان لفظیات میں اپنی تخلیقات پیش کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نےمزید کہا کہ ادب اطفال میں نظموں کے علاوہ کہانیوں کی کتابیں بھی کثیر تعداد میں شائع ہو رہی ہیں۔ سرکاری اکیڈمیوں کے علاوہ غیر سرکاری ادارے بھی ادیبوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔‘‘ واضح رہے کہ شجاع الدین شاہد کا شعری مجموعہ ’’ گلشن گلشن پھول کھلے‘‘ اور ’’آنچ مہکتے ہوئے لفظوںکی‘‘(۲۰۱۵ء) منظر عام پر آچکا ہے۔ کہانیوں کا مجموعہ’’ ایک تھا گدھا‘‘ زیر طبع ہے۔ انہیں کئی ریاستی اعزاز سے نوازاگیا ہے۔
اس کا مقصد ذہنی آبیاری
 ادب اطفال کو مالا مال کرنے والے ادبا میں ایک نام ایم مبین کا بھی ہے۔انہوں نے بچوں کیلئے کئی قابل قدر تخلیقات سپرد قلم کیں۔انہوں نے اردو اور ہندی میں بھی ادب تخلیق کئے ۔   ادب اطفال کی اہمیت بتاتے ہوئے ایم مبین کہتے ہیں کہ ’’ادب اطفال کے مطالعے سے بچوں کی ذہنی آبیاری ہوتی ہے اور وہ مستقبل میں ادب کے با ذوق قارئین بنتے ہیں ۔ اس لئے ادب اطفال کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ما ضی میں اس کی اہمیت کو ہر کوئی سمجھتا تھا اس لئے ادب اطفال پر نہ صرف مخصوص ادیب توجہ دیتے تھے بلکہ معروف ادیب اور شعراء بھی بچوں کیلئے باقاعدگی سے لکھتے تھے ۔ ‘‘بچوں میں ادب اطفال کے مطالعے کی ترغیب کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’اسکولوں اور گھروںمیںادب اطفال کے مطالعے کے ایک دو گھنٹے لازمی طور پر نکالنے چاہئیں ۔ والدین بھی اسےاپنی ذمہ داری خیال کریں۔اس کے بعد ہی ہم ادبی رسائل و جرائد کے مطالعے کی تفہیم کے قابل بن سکتے ہیں ۔‘‘ واضح رہے کہ ایم مبین کی اردو زبان میں کل ۲۸؍ تصانیف شائع ہوکر مقبول ہوئی ہیں ۔جن میں ادب اطفال پر ان کی ایک درجن سے زیادہ تخلیقات موجود ہیں ۔ ’’گدھے کی جوانی ‘‘ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

urdu books Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK