• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوری ہونے کا دعویٰ اور جمہوری تقاضوں کی عدم تکمیل

Updated: November 01, 2026, 12:50 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

ہمیں اپنے مکمل جمہوری ہونے کا دعویٰ اور اپنی جمہوریت پر فخر ہے مگر گزشتہ چند برسوں میں جمہوریت کتنی کمزور ہوئی ہے، یہ بتانا ضروری نہیں۔ عالمی جدولوں میں ہمارا پیچھے ہونا بہت بڑی دلیل ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

میرا نظریہ یہ ہے کہ ہندوتوا کے زیر اثر ہمارا ملک ’نامکمل طور پر فرقہ وارانہ‘ (Incompletely Communal) ہوچکا ہے۔ میں اس بارے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں، لیکن بنیادی دلیل یہ ہے کہ ۲۰۰۸ء سے قبل نیپال ’ہندو راشٹر‘ بننے میں ناکام ہوا تھا۔ اس نے ’سمرتیوں ‘ میں بیان کردہ اصولوں کو قانون کا درجہ دے کر مکمل معنوں میں ہندو ملک بننا چاہا تھا مگر نہیں بن سکا۔ وہی صورتحال ہم پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ یہ ایک ساختی (Structural) مسئلہ ہے جسے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کے مثالی ملک کی بابت گرو گولوالکر کے خیالات بی جے پی کے انتخابی منشوروں کا حصہ نہیں ہیں۔ 
اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ملک سیکولر اور نارمل ہونے کی جبلت کو برقرار رکھ سکا ہے۔ ہم اس کا مشاہدہ یہ دیکھ کر بآسانی کر سکتے ہیں کہ جب حکومت یا حکومتی نمائندہ بیرونی دنیا کے رابطے میں ہوتا ہے تو اس کا برتاؤ کیسا ہوتا ہے۔ جب ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا کو لیکچر دینے اور اس کے تمغے وصول کرنے کیلئے بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں تو وہ ویسی ہی بیان بازی نہیں کرتے جیسی اندرونِ ملک کرتے ہیں۔ وہ’’وسو دیو کٹمب کم‘‘ اور ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ وہ دنیا کو یہ نہیں بتاتے کہ ہندوستان کے اندر ان کی پالیسی بلڈوزر اور بیف لنچنگ اور سی اے اے اور این آر سی اور لوَ جہاد جیسے موضوعات پر ٹکی ہوئی ہے۔ وہ اقوام متحدہ اور دیگر فورموں پر جاتے ہیں تو نہرو کا چغہ پہن کر جاتے ہیں۔ ایک جاندار ’’ہرمیٹ کریب‘‘ کا اپنا کوئی خول نہیں ہے۔ وہ مردہ جانور کا خول لیتا ہے اور اپنی حفاظت کیلئے استعمال کرتا ہے۔ بی جے پی نہروکے سیکولرازم کے ساتھ یہی کرتی ہے۔ اسے اوڑھ کر دنیا میں نکلتی ہے۔ 
وہ جس عالمگیریت کا بول بالا اور اس کی حمایت کا ڈھونگ کرتے ہیں وہ یہاں گھر میں ان کی کارستانی سے متصادم ہے جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں مثلاً ۲۰۱۵ء (گائے کا گوشت رکھنے کو جرم قرار دینا)، ۲۰۱۸ء (بین المذاہب شادی کو جرم بتانا)، ۲۰۱۹ء (تین طلاقوں کو قابل سزا بنا دینا) اور سی اے اے سے مسلمانوں کو خارج کرنا) اور اس طرح کے دیگر قوانین جو انہوں نے بنائے ہیں۔ 
یہ ایک تضاد ہے جس کی وجہ سے ہماری حکومت اندرونِ ملک بھی تنقید کا نشانہ بنتی ہے اور بیرونِ ملک بھی۔ اگست ۲۰۱۹ء میں حکومت نے کشمیر میں انٹرنیٹ بلاک کر دیا۔ اس کے چار ماہ بعد، ۶؍دسمبر کو، امریکی کانگریس میں ایک تحریک پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مودی حکومت، ہندوستانی نژاد پرمیلا جے پال (رکن امریکی کانگریس) پر لگی پابندی ہٹا لے۔ اسی ماہ ایس جے شنکر واشنگٹن میں تھے اور ایوان کی امور خارجہ کمیٹی میں قانون سازوں سے ملاقات کرنے والے تھے۔ یہ جاننے پر کہ پرمیلا میٹنگ میں موجود ہوں گی، جے شنکر نے شرکت نہیں کی۔ یہ ٹرمپ کی پہلی میعاد میں ہوا تھا اور اگرچہ یہ بل پیش کیا گیا اس پر ووٹ نہیں دیا گیا تھا۔ جب ٹرمپ ہار گئے اور بائیڈن صدر بنے تو جنوری ۲۰۲۱ء میں ہندوستان نے پابندی ہٹا دی۔ کیوں ؟ شاید اسلئے کہ ہماری حکومت نے محسوس کیا کہ وہ ڈیموکریٹس کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ 
یورپ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہاں کی پارلیمنٹ میں پانچ مختلف گروہوں نے ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۰ء کو سی اے اے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی۔ خبر یہ آئی تھی کہ اس قرارداد کو منظور کروانے کیلئے کافی ووٹ موجود تھے۔ جے شنکر ۱۷؍ فروری کو برسلز گئے تاکہ کوئی سمجھوتہ یا سودا کر سکیں۔ ہمیں اس کی تفصیل کا علم نہیں کیونکہ ایسی کئی باتیں حکومت ظاہر نہیں کرتی لیکن ہوا یہ کہ وہاں اس قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہوئی؛ اور اگرچہ یہ قانون یہاں پہلے ہی منظور ہو چکا تھا، پھر بھی مودی حکومت نے اسے مزید چار سال تک نافذ نہیں کیا۔ 
قول و فعل کے تضاد سے پیدا ہونے والی مشکلات کی مثالیں دیگر جگہوں پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ برس، ’گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز نے ہمارے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا درجہ ’’اے‘‘ سے ’’بی‘‘ کر دیا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ بنیادی وجوہات یہ تھیں کہ یہ ادارہ خود مختار نہیں تھا، پولیس کے مظالم کی تحقیقات خود پولیس ہی کر رہی تھی، اس میں تنوع کا فقدان تھا، اور یہ حکومت کی مبینہ منظم خلاف ورزیوں پر خاموش رہا تھا۔ 
یہ تمام باتیں بلا شبہ درست ہیں۔ ہم نے اس تنزلی کے خلاف اپیل دائر کی ہے اور اس پر سماعت آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔ لیکن محض اپیل کرنے کے بجائے، ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانے پر غور کرنا چاہئے، تاکہ ہم پر یہ الزام نہ لگے کہ ہم وہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو درحقیقت ہم نہیں ہیں۔ 
دُنیا جب ایسے تضاد کو دیکھتی ہے تو حکومت کا رویہ تلخ ہوجاتا ہے۔ فریڈم ہاؤس سے لے کر اکانومسٹ انٹلی جنس یونٹ تک نے اپنے جدولوں (انڈیکس) میں ہمیں جو مقام دیا اُس سے ہمارے تضاد کا بھانڈہ چوراہے پر پھوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ 
اقلیتوں پر منظم حملے عام طور پر عالمی اشاریوں یا جدولوں میں ہماری تنزلی کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس کے باوجود حکومت شاید سوچتی بھی نہیں ہے کہ ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کو اتنے کم نمبرات یا جدولوں میں اتنا پچھڑا ہوا مقام کیوں ملتا ہے۔ مسئلہ سادہ ہے: آزادی انفرادی حقوق اور انفرادی آزادی سے الگ نہیں ہے۔ ایک ایسی حکومت جو یہ سمجھتی ہے کہ جمہوریت کے تمام تقاضے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے سے پورے ہوجاتے ہیں تو صاف ہے کہ اس کا مطمح نظر محدود ہے۔ جمہوریت کے ساتھ مکمل انصاف پر اس کا یقین نہیں ہے۔ رہا سوال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا تو اس پر بھی ایسے سوالات عائد ہوچکے ہیں کہ انتخابی کمیشن اپنا دفاع بھی نہیں کر پارہا ہے۔ جب یہ صورت حال ہوگی تو جمہوریت نامکمل ہی کہلائے گی اور حکومت ہمیشہ اپنا دفاع ہی کرتی رہے گی۔ 
خلیجی ممالک اور شمالی کوریا کو فکر نہیں کہ دنیا انہیں غیر جمہوری کہتی ہے کیونکہ انہوں نے کبھی جمہوری ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر ہم نہ صرف دعویٰ بلکہ فخر کرتے ہیں لہٰذا ہمارا دامن تو صاف ہونا چاہئے، ہماری جمہوریت کو مستحکم ہونا چاہئے اور ایک ایک شہری کو اس کی گواہی دینا چاہئے۔ مگر کیا ایسا ہے؟ آپ بہتر جانتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK