• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ ہماری سیٹوں کے بجائے مودی وارانسی کی خبر لیں‘‘

Updated: October 30, 2026, 1:04 PM IST | Agency | New Delhi

جے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی کو یہ غور کرنا چاہئےکہ وہ وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب وارانسی کی سیٹیں کیوں ہارگئی ؟ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ بی جے پی تکبر چھوڑے،یہ اسے لے ڈوبے گا۔ پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور بیلٹ پیپر پر انتخاب کرانے کیلئے للکارا۔

Congress Party President Mallikarjun Kharge. Photo: INN
کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے۔ تصویر: آئی این این

ایم ایل سی انتخاب میں ناگپور سیٹ پر قبضہ کرنے کے بعد کانگریس پی ایم مودی کو بری طرح نشانے پر لے رہی ہے۔ پی ایم مودی نے گزشتہ روز ایم ایل سی انتخاب میں کانگریس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ بیلٹ پیپر سے انتخاب کے باوجود ہر جگہ شکست ملی۔ اب آر ایس ایس کے قلعہ ناگپور میں فتحیابی نے کانگریس کو جوابی حملہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے تو اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’پروچن منتری جی کو خود احتسابی کی ضرورت ہے، لیکن وہ دوسروں کو ’پروَچن‘ (تبلیغ) دے رہے ہیں۔‘‘دراصل بی جے پی کو صرف ناگپور میں ہی شکست نہیں ملی ہے، بلکہ پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی کی دونوں سیٹوں پر بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ۴؍ریاستوں کی ۲۸؍ ایم ایل سی سیٹوں میں سے این ڈی اے کو ۱۶؍ سیٹوں پر، جبکہ دیگر پارٹیوں کو ۱۲؍ سیٹوں پر جیت ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈران پون کھیڑا اور جئے رام رمیش خاص طور سے پی ایم مودی کے ذریعہ گزشتہ روز کی گئی سوشل میڈیا پوسٹ پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں پی ایم مودی کو نصیحت کی ہے کہ ’’کانگریس کی سیٹیں گننے سے پہلے کاش یہ بھی غور کر لیتے کہ ان کے اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کی دونوں سیٹوں پر بی جے پی کیوں ہاری، اور آر ایس ایس کے قلعہ ناگپور میں کانگریس نے بی جے پی کو کس طرح شکست دی؟‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مودی جی، ٹرولنگ بند کیجیے۔ کروڑوں کنبے کمر توڑ مہنگائی سے پریشان ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں اور نجی سرمایہ کاری ٹھپ پڑی ہے۔ تکبر چھوڑ کر ان ایشوز پر غور کیجیے۔‘‘جئے رام رمیش نے اس  پوسٹ میں ان سیٹوں کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، جہاں بی جے پی کو ناکامی ہاتھ لگی ہے۔ انھوں نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’’وارانسی اور ناگپور سے لے کر لکھنؤ، پریاگ راج، پٹنہ  کے عوام نے واضح طور سے آپ کی پالیسیوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاس کی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات

دوسری جانب اپوزیشن کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کئی اہم مسائل پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔کرناٹک میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج سے متعلق پوچھے جانے پر کھرگے نے کہا کہ ’’ہم اب بھی بیلٹ پیپر  سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ جیت رہے ہیں، ہمیں میدان نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو یہ تکبر نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ پارلیمنٹ تحلیل کر دے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرا لے۔انہوں نے کہا کہ جس دن بی جے پی نے بیلٹ پیپر پر انتخاب کرایا اسی دن مرکز سے اس کا بوریا بستر گول ہو جائے گا۔ 

کھرگے نے ووٹ چوری پر کیا کہا؟
ملکارجن کھرگے نے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف جنگ کو پوری طاقت سے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج جاری ہےکیونکہ ’ووٹ چوری‘ ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن میں جو بے ضابطگیاں کی ہیں، ان کے خلاف ہم یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج آگے بھی جاری رہے گا اور تمام پارٹیاں ہماری حمایت کر رہی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ پورے ملک سے لوگ ہمارے ساتھ آ رہے ہیں۔ ہم لڑیں گے، کیونکہ جمہوریت میں جب تک آپ جدوجہد نہیں کرتے، تب تک لوگ بیدار نہیں ہوتے۔ہم نے لوگوں کو بیدار کرنا شروع کردیا ہے۔ ہمیں یقین ہےکہ اس بیداری کا بہت اچھا نتیجہ بہت جلد نکلے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK