وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک نجکاری کے فیصلے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس تبصرے کہ کانگریس بینک بناتی تھی، مودی حکومت بیچتی ہے، پر جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کیا۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک نجکاری کے فیصلے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس تبصرے کہ کانگریس بینک بناتی تھی، مودی حکومت بیچتی ہے، پر جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کیا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک نجکاری کے فیصلے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے اس تبصرے کہ کانگریس بینک بناتی تھی، مودی حکومت بیچتی ہے، پر جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومتوں کے دور میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اپنی ذاتی تنظیموں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا اور بینک ملازمین پر دباؤ ڈال کر اپنے چہیتوں کو قرض دلوائے جاتے تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک تنظیم نو میں تمام مناسب طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے اور حکومت اس بات کو پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شردھا کپور کی فلم ’’ایٹھا‘‘ کا ٹریلر جاری، رندیپ ہڈا بھی نظر آئیں گے
وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آزادی کے کچھ عرصے بعد سے کانگریس کے دور میں سامنے آنے والے مختلف معروف مالیاتی گھپلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے دور میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کس طرح اپنی ذاتی تنظیموں کے طور پر استعمال کیا۔ قرض دینے کے محتاط اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بینک ملازمین پر اپنی مرضی کے مطابق قرض دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
سیتارمن نے ماروتی کو قرض دینے کے معاملے میں سنجے گاندھی کی جانب سے سینٹرل بینک آف انڈیا پر مبینہ دباؤ، ۱۹۸۰ء کی دہائی میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور میں وزیر مملکت برائے خزانہ رہنے والے بی جناردن پجاری کی جانب سے بینک ملازمین پر قرض جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت میں وزیر رہتے ہوئے پون کمار بنسل کی جانب سے اپنے خاندان سے وابستہ کاروباروں کو قرض دینے کے لیے کینرا بینک پر دباؤ ڈالنے جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھئے:لکشیا سین، پی وی سندھو، انمول کھرَب اور انّتی ہڈا کوارٹر فائنل میں
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں بینکنگ کا نظام طاقتور لوگوں کے لیے فون بک اور عام شہریوں کے لیے قواعد و ضوابط کی کتاب کی طرح تھا۔ تعلقات اور جوڑ توڑ کے ذریعے بینکنگ کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ عام لوگوں کے لیے اب قرض حاصل کرنا آسان ہے اور بینک ملازمین پر فون کال کے ذریعے قرض دینے کا دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ آئی ڈی بی آئی بینک ہمیں خستہ حال حالت میں ملا تھا، کیونکہ کانگریس کے رہنماؤں سے قریبی تعلقات رکھنے والے بڑے کاروباری گروپوں، مثلاً ویڈیوکون، ونسَم، اے بی جی شپ یارڈ اور کنگ فشر وغیرہ کو قرض دینے کے لیے خود آئی ڈی بی آئی کو مجبور کیا گیا تھا۔ یہ قرضے ڈوبے ہوئے قرضوں میں تبدیل ہو گئے، جس سے بینک کو بھاری نقصان پہنچا۔ ہم نے اس صورت حال کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے پیشہ ورانہ طرز عمل، دانش مندی اور۲۵؍ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ازسرنو سرمایہ کاری کے ذریعے آئی ڈی بی آئی بینک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ اب یہ بینک ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے۔ آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک تنظیم نو میں تمام مناسب طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے اور ہم نے کل ہی اس بات کو واضح کر دیا تھا۔
وزیر خزانہ سیتارمن نے متعدد مثالیں پیش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کانگریس کے رہنما بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔ انہوں نے گاندھی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ رافیل کے معاملے میں آپ کے جھوٹ ناکام ہوئے اور بے نقاب ہو گئے تھے۔ آپ کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔