سوتن

Updated: January 10, 2022, 1:11 PM IST | Mohammad Asad Ullah | Nagpur

ایک مدت سے ہمار ی بیگم پیچھے پڑی ہوئی تھیں کہ آ پ ڈرائیونگ سیکھ لیجئے ۔شتہ دنوں جب انھوں نے یہی فر مائش دہرائی تو میں نے انھیں ایک واقعہ سنایا ....

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

  ایک مدت سے ہمار ی بیگم پیچھے پڑی ہوئی تھیں کہ آ پ ڈرائیونگ سیکھ لیجئے ۔شتہ دنوں جب انھوں نے یہی فر مائش دہرائی تو میں نے انھیں ایک واقعہ سنایا ....ایک محترمہ سعودی عرب کے ایک اسکو ل میں ٹیچر تھیں۔ان کے میاں روزانہ اپنی کارسے انھیں اسکو ل چھوڑ نے جایا کرتے تھے ۔ جب کار اسکول کے سامنے رکتی، وہ صاحب بڑے تپاک سے اپنی کار سے اتر کر بیگم کے لیے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتے ۔اس رومانٹک منظر میںاپنی نصف بہتر کے لیے موجود ان کا جذبہ محبت اور احترام اس اسکول کی استانیوں اور طالبات سے زیادہ دنوں تک چھپا نہ رہ سکا اور جذبہ ٔ صادق اپنا رنگ دکھا کر رہا ۔سال بھر نہ گز را ہوگا کہ ان کی قسمت کا دروازہ کھل گیا ۔اس اسکول کی دو استانیاں اور ایک نوجوان طالبہ ان کے نکاح میں تھیں مگر یہ معاملہ الفت یامیاں کی خود سپردگی کا نہ تھا حقیقت یہ تھی کہ کارکے پچھلے دروازے میںکوئی خرابی تھی جس کے سبب وہ اندر سے کھلتا نہ تھا ،اسے باہر سے کھولنا پڑتا تھا ۔خیر اب بھی وہ صاحب مع چار بیویوں کے اسکول جاتے ہیں اور اسی تندہی سے اپنی کار کا پچھلا دروازہ کھولتے ہیں ۔یہ واقعہ سنانے کے بعد میں نے اپنی بیگم سے کہاکہ اب سوچ ر ہا ہوں میں بھی  ڈرائیونگ سیکھ ہی لوں ۔اس قصہ گوئی کی کرامت دیکھئے کہ بیگم نے اپنا ارادہ اور تیور بدلتے ہوئے ہمیں ڈرائیونگ سیکھنے سے صاف منع کردیا اور کہنے لگیں :بس بس رہنے دیجئے ،کوئی ضرورت نہیں، آ پ پیدل ہی اچھے ہیں۔ اس سے آ پ کی صحت بھی بنی رہے گی۔ سیکھ لینے میں کیا قباحت ہے ؟ آ پ ڈرائیونگ سیکھ لیں گے تو بلا وجہ اپنے نٹھلّے دوستوں،ادیبوں اور شاعروں کو شہر بھر میں گھماتے پھریں گے ،  پیٹرول کا خرچ الگ بڑھے گا ،یوںبھی گھرکا بجٹ خسارے میں چل رہا ہے ۔  سوتن کا خوف بیگم پر اس درجے حاوی تھا کہ ا نھوں نے اس کے دیگر پہلوئوں پر بھی غور کر نا مناسب نہیں سمجھا۔ مثلا ایک تو یہ کہ کار کا دروازہ درست بھی کروایاجاسکتا تھا ، دوم یہ کہ ہم کسی خلیجی ملک کے باشندے تو ہیں نہیں جہاں لوگ عبادت تو ایک ہی خدا کی کرتے ہیں مگر شادیاں چار ضرور کرتے ہیں ۔ایک بیوی والا تو وہاں بڑا قابلِ رحم بلکہ در یتیم سمجھا جاتا ہے ، ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ایک سے زیادہ بیویوں سے بندھا ہوا شوہر ہمارے سماج میں قہر بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے جبکہ کئی معاشقوں میں پھنساہوا شخص ہو یا شوہر قابل ِ رشک ہوا کرتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر اس قسم کی پینگیں بڑھانے کے وافر مواقع موجود ہیں ۔ اب شوہر ِ نامدار اپنے اور اپنی ’کتابی چہرہ ‘سہیلیوں کے نام بدل بدل کر گلوں میں رنگ بھر نے لگے ہیں ۔یہاںموجود بیویوں کی کوئی سہیلی آ گے چل کر ’سہیلا ‘نکلتی ہے البتہ شوہر کا فرینڈ آ خر تک اسی زمرے میں رہتا ہے ،بھلے ہی گرل فرینڈ کیوں نہ ہو ۔فیس بک اور واٹس ایپ پرفرضی ناموں کے ساتھ ملاقات کی خاص وجہ یہ ہے کہ ناموں کی اصلیت کھل جائے تو نہ صرف پسلیوں کے بلکہ اپنی ہڈیوں کے بھی چور چور ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ ذکر سوشل میڈیا کی سوتنوں کا ہے تو یہ لفظ اسم با مسمیٰ ہے کیوں کہ عام طور پر وہاں موجود مہ جبینوں کے تن بدن کی گنتی کی جائے تو بلا مبالغہ ان کی تعداد سو سے کہیں زیادہ نکل آ ئے گی ۔ اسی لئے ہمارے زمانے میں یہ لفظ ’’سو تن ‘‘کچھ کم پڑنے لگا ہے ۔ فیس بک کی ’’بلائے جان‘‘( بصیغۂ جمع ) تو اس لائق ہے کہ اسے  سوتن کے بجائے ’’ہزار جان‘‘ کہا جائے ۔’جھوٹ بولے کوا کاٹے‘ جیسے لوک گیتوں میں بھی  میکے چلے جانے کی دھمکی دینے والی بیویوںکے علاج کے  لئے یہی تیر بہدف نسخہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ سوتن نامی خوف کی تلوار بیوی کے سر پر ہمیشہ لٹکائے رکھے ۔ ایک نوجوان کسی بات پر ناراض ہوکر چھڑی سے اپنی بیوی کی پٹائی کرر ہا تھا۔ادھر سے ایک صاحب کا گزر ہوا ۔یہ حال دیکھا تو اس کے شوہر کو سمجھانے لگے کہ میاںبیوی کو لکڑی سے نہیں لڑکی سے مارتے ہیں ۔ان کا عندیہ سمجھتے ہی وہ بیگم ان صاحب پربرس پڑی۔’بڑے میاں ! اپنے کام سے کام رکھو ،ہمارے معاملات میں دخل نہ دو ۔پھر اپنے شوہر سے جس نے ہاتھ روک لیا تھا، مخاطب ہوکر کہا : تم اپنا کام جاری رکھو جی!‘
  دراصل یہ سوتن کا خوف ہی ہے جو بیوی کو شوہر کی نگرانی پر اکساتا ہے۔  اسے پتہ ہے میاں کے لیے چاروں طرف راستے کھلے ہیں ۔راہی کم کو ش سہی ،بے ذوق نہیں ہے، کبھی بھی بھٹک سکتا ہے ۔ بیوی نہ صر ف یہ چاہتی ہے میاںا س کے ساتھ چلے اور کسی کے ساتھ نہ چلے بلکہ اس طرح چلے جیسے وہ چلائے، اسی لیے عقلمند لوگ سنتے سب کی ہیں، کر تے وہی ہیں جو بیوی سجھائے کہ اس کا تعلق گھر کے امور ِ داخلہ سے ہے۔ میاں اپنی بیوی کو بھلے ہی’ نصف بہتر‘گر دانتا ہو، وہ خود کو’مکمل بہتر‘ سمجھتی ہے ۔ بیوی کے لئے جس شخص نے بھی ’ نصف بہتر‘ کی ترکیب ایجاد کی ہے اس بندے نے مزید بہتری کی گنجائش بہر حال رکھ چھوڑی ہے ۔ہمارے سماج میں چار شادیوں کا عمومی رواج نہیں ہے ورنہ یہ ترکیب ’ پائو بہتر ‘ ہوتی۔
 کثرتِ ازواج کا رواج خلیجی ملکوں میں زیادہ اور برصغیر میں کم ہے۔ وہاں شرعی نکاح کے ساتھ بیویاں ساتھ ہیں ۔گزشتہ دنوں خلیج ہی کے ایک اخبار میں سے خبر نقل کی گئی تھی کہ ایک ڈرائیور ایک اسکول کی چار خواتین کو اسکو ل لے جایا کرتا تھا۔چند ماہ بعد وہ چاروں استانیاں بیک وقت اس کے نکاح میں آ گئیں۔منکوحہ سوتن بھی بیوی ہی ہوتی ہے اور میاں کی محبت و دولت میں شریک ہونے والی بیوی کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ بیوی کے لئے اس کی سوتن’ تن بدن ‘محض ہوتی ہے جس سے بیوی کے تن بدن میں گاہے بگاہے آ تش زنی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں  ، جبکہ شوہر کے لیے وہ جان ، جانِ جاں ،جان ِمحفل اور جانِ بہار ہوتی ہے ۔ تمنا کا یہ دوسرا قدم ابتدا ہی میں شوہر میں یہ احساس جگا دیتا ہے کہ اس کے آنے سے میاں کی زندگی پر بہار ہوگئی ہے ،یہ اور بات ہے کہ اس کا یہ بھرم بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے ۔ کسی گھر میں سوتن کا داخلہ بیوی کے لئے سب سے بڑا سانحہ ہے کیونکہ عور ت فطری طور پر محبت کی سب سے بڑی تقسم کا ر( ِڈسٹری بیوٹر )ہے ۔ وہ اپنے والدین ، بھائی بہن ،سہیلیوں ، اساتذہ ، رشتے داروںاوراپنے شوہر و بچوں پر محبت کے ڈھیر لٹاتی ہے ۔ شوہرسے محبت کرنے والی بیوی کی محبت کا کوئی دعوے دار آ کھڑا ہو تو اس چراغِ خانہ کا چراغ پا ہو نا لازمی ہے ۔ اسی لیے وہ  اپنے شوہر کے گھر سے باہر ا لتفاتِ بے جا پر گہری نظر رکھتی ہے ۔  بیوی نہ صرف شوہر کی اوچھی بلکہ اچھی عادتوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔شوہر اچانک راہ ِ راست پر آ جائے اور عبادتوں سے اس کا شغف بڑھ جائے تو سمجھتی ہے میاں حوروں کے چکر میں پڑگیا ہے ۔شو ہر کتنا ہی کراماتی کیوں نہ ہو بیوی قائل نہیں ہوتی ۔ ایک صاحبِ کمال، جن کے چر چے پورے شہر میں تھے، انھوںنے اپنی اہلیہ کو قائل کر نے کی غرض سے یہ کرامت دکھائی کہ اپنے گھر کے اوپر اڑنے لگے۔ ان کی بیوی نے بھی یہ نظارا دیکھا تو دانتوں تلے انگلی داب لی ۔ کچھ دیر بعد وہ بزرگ جب گھر میں داخل ہوئے تو بیوی نے انھیںاڑنے والے پیر کا حال سنایا۔بڑے میاں نے فر مایا،’ اری اللہ کی بندی وہ اڑنے والا میں ہی تھا۔اب تو مانوگی ! ‘بیو ی نے یہ سن کر کہا :’ اچھا تو وہ آ پ تھے ، تبھی تو میں کہوں یہ ٹیڑھے ٹیڑھے کیوں اڑ رہے ہیں ۔‘ا ن بزرگ جیسی دیگر کرامات جن میں کچن کی صفائی اور امورِ خانہ داری داخل ہیں، انھیں بحسن و خوبی انجام دینے کے با وجود جب شوہر اپنی بیگم کو قائل نہیں کر پاتا تو اس کے پاس ایک ہی ہتھیار بچتا ہے جس کا نام سوتن ہے ۔  بیوی اور اس کی سوتن کے ساتھ بیک وقت نباہ یقیناً ایک مشکل کام ہے کہ دونوں آ گ پانی ہیں ۔دو بیویوں کے ساتھ نباہ کرنا گویا دو کشتیوں کی سواری ہے ۔ اگر کسی کو چار مل جائیں تو اللہ دے اور بندہ لے ۔یہ جائز ہے مگر بقول ابنِ انشا اس شرط کے ساتھ کہ چاروں کے ساتھ سلوک یکساں ہو ۔مگر اکثر ہوتا یہ ہے کہ چاروں کا سلوک میاں کے ساتھ یکساں ہوتا ہے۔ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ، بیویوں کے ساتھ انصاف کر نے کی مخلصانہ کو شش کرے ،  بیوی کو اپنی طرف مائل کر نے اور قائل کرنے کی لاکھ کوشش کر ڈالے، لیکن سوتن اگر موجود ہے تو بیوی اپنے میاں کے کلیجے کو طعنوں اور طنز کے تیروں سے گھائل کئے بغیر نہیں رہتی ۔  شوہر اگر انصاف کے ترازو کی ڈنڈی اپنی بیوی کی طرف جھکتی رکھے تب بھی بیوی اس پر نا انصافی کا الزام ضرور لگاتی ہے  ۔
 ایک صاحب کی دو بیویاں تھیں۔ زندگی بھر انھوںنے انصاف کا دامن کبھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا،دونوں کے ساتھ برابر سلوک کرتے رہے ۔اتفاق دیکھئے کہ ان کی دونوں بیویوں نے ایک ہی دن اس دنیا سے رخت ِ سفر باندھا۔( ممکن ہے اس میں بھی یہ جذبہ کار فر ما رہا ہوگا کہ میں کیوں پیچھے رہوں ) گھر سے جنازہ نکالنے کی باری آ ئی تو میاں سوچ میں پڑ گئے کہ پہلے کسے نکالیں ۔ گھر میں ایک ہی دروازہ تھا ۔ بہت غور کیا اور آخر دیوار میں ایک نیا دروازہ فوراً بنایا گیا اور پھر دونوں جنازے بیک وقت نکالے گئے۔ رات میں پہلی بیوی ان کے خواب میں آ ئی اور ان پر خوب بر سی، کہنے لگی : تم نے میری سوتن کے جنازے کو نئے دروازے سے نکالا اور مجھے پرانے دروازے سے؛تم نے میرے ساتھ ناانصافی کی،  میںحشر میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔ ہر وہ شے جو میاں بیوی کے درمیان رکاوٹ بنے، بیوی اسے اپنی سوتن سمجھتی ہے ۔میاں سے نظریں ملانے میں عینک مانع ہو تو و ہ بھی سوتن ہے ۔ میاں کتاب کو تھام لے اور اس پرنظریں جمائے رہے تو پھرقیامت ہے کہ اس پر بیگم کو نظر انداز کر نے کا طعنہ ضرور دیا جائے گا۔ میاں کو کرکٹ کی لت ہو ،شراب کا شوق ہو ،وہ مشاعروں سے دلچپسی رکھتا ہو، تاش ،کیرم یا اس قسم کے کسی کھیل کا رسیا ہو سفر کا شوق ہو ، تو یہ سب بیوی کے لئے سوتنیں ہیں ۔ فی زمانہ موبائل اور لیپ ٹاپ کا شمار ٹاپ کلاس سوتنوں میں ہونے لگا ہے ۔ اس قسم کی چیزیں ایک نہ دو سیکڑوں ہیں ۔ شاید اسی لیے ان تمام اشیا کو’ سو تن ‘شمار کیا جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK