صحابہ کرام ؓ ہم سب کے لئے مشعلِ راہ ہیں

Updated: September 11, 2020, 11:53 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

ان حضرات ؓ سے محبت، سرکار دو عالمؐ سے سچی محبت کا ذریعہ بنتی ہے اور حب رسولؐ میں اضافے و استحکام کا راستہ ہموار کرتی ہے

Madina Sharif - Pic : INN
مدینہ شریف ۔ تصویر : آئی این این

اللہ تبارک و تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت کے  ہزارہا شواہد میں سے ایک یہ ہے کہ راہِ مستقیم کی طرف اُن کی رہنمائی کیلئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک نبیوں کا ایک طویل سلسلہ قائم فرمایا۔اِس عظیم مشن کیلئے نبیوں کو اُن صفات سے مزین کیا جو ایک داعی ٔ ہدایت کے لئے لابدی ہے؛ چنانچہ تمام انبیائے کرام عزم و حوصلہ، زہد و تقویٰ، امانت و دیانت اور صبر و متانت کا پیکر ہونے کے ساتھ معصوم عن الخطاء بھی تھے یہی وجہ ہے کہ اُن کی سیرت ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ انہوں نے ہر طوفانِ بلاخیز کا جواں مردی سے مقابلہ کیا اور اپنے مشن سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ چونکہ انبیائے کرام کا مِشن بڑا تھا اور اُن کا دائرۂ کار بھی وسیع تھا اِس وجہ سے شروع سے ہی اللہ رب العزت نے اپنی حکمتِ کاملہ سے ہر نبی کے ساتھ کچھ جاں نثاروں کو بھی اُن کے تعاون کے لئے منتخب فرمایا جنہیں ہم ماقبل کے انبیاء کے حواری اور نبی اکرم ﷺ کے صحابی کے طور پر جانتے ہیں۔ یہ وہ ستودہ صفات ہستیاں تھیں جنہوں نے متعلقہ مشن کیلئے اپنا سب کچھ نچھاور کردیااور اُن کی قربانیوں کے صدقے میں اِن شخصیات کو اللہ رب العزت نے نبیوں کے بعد سب سے بلند مقام و مرتبہ سے نوازا۔
جہاں تک حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کی بات ہے، وہ اِس اعتبار سے اور بھی ممتاز ہیں کہ نبی اکرم ﷺ آخری نبی تھے، اس وجہ سے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں بھی اور بعد میں بھی شریعت محمدی کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری اُن کے کاندھوں پر تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اصحابِ رسول ﷺ  نے نہایت خلوص اور دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔ شریعتِ اسلامی کے دو بنیادی مآخذ قرآن و حدیث کو یاد کرنے، محفوظ رکھنے، جمع کرنے، لکھنے اور اُن کو عام کرنے کے حوالے سے اصحابِ رسول ﷺ کی جو خدمات ہیں وہ اُمت محمدیہ کی روشن تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ دوسرے نبیوں کی تعلیمات کے ساتھ جو المیہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ اُن کے گزر جانے کے بعد لوگوں نے اُس میں اپنی طرف سے مختلف مقاصد کے لئے حذف و اضافہ سے کام لیا جس کی وجہ سے اصل تعلیم باقی نہ رہی اور لوگ گمراہیوں کی دلدل میں پھنس گئے؛ لیکن اسلامی تعلیمات کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور اُس کے اولین ذریعے کے طور پر اللہ رب العزت نے اصحابِ رسول کو چنا۔
آج مسلمان قرآن و حدیث کے مستند ہونے کے حوالے سے اعتماد کی بلندی پر اگر ہیں تو اُس کا سہرہ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے سر جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے تعلق سے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:’’بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے، ان لوگوں کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔‘‘ (سورہ الحجرات: ۳)
اس سے صحابہ کرامؓ کے تقویٰ کی بلندی ہم پر واضح ہوتی ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو صحابہ کرامؓ سے محبت اور عقیدت کا تعلق رکھتے ہوئے اُن کے کارناموں اور اُن کی حیات کے تذکروں سے اپنے شب و روز کو معمور کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔
  یہ وہ شخصیات ہیں جن سے  اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنی رضامندی کا پروانہ کچھ  اِس طرح سنایا: ’’اور جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے خلوص (نیکو کاری) کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے ان کیلئے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، (اور وہ) ان میں ہمیشہ ہمیش رہیںگے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘  (التوبہ: ۱۰۰)
رسولؐ کریم  نے بِلا استثناء تمام صحابہ ؓ کے تعلق  سے صاف لفظوں میں یہ فرمادیا ہے کہ : ’’میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، اُن میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پا جائو گے۔‘‘ (ترمذی)۔  آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ان ’’نجوم ہدایت‘‘ نے دین کی سربلندی کو برقرار رکھنے اور بعد کی نسلوں تک دین کی صحیح تفہیم کیلئے جو کچھ کیا ہم اُس سے کیا کیا سیکھ سکتے ہیں۔
صحابہ کرام سے جو سب سے اہم بات سیکھی جاسکتی ہے وہ ہے رسول ؐ سے محبت۔ ان شخصیات نے اللہ کے رسول سے محبت کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ جن سے ہمیں بڑی روشنی ملتی ہے اور اُن کے حب رسول سے استفادہ کیا جائے تو ہمارے اندر بھی رسول کی محبت مستحکم ہوگی۔ 
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ صحابہ کرام ہمارے محسن ہیںجن کے ذریعہ سے دین اور اسوۂ رسولؐ اپنی پوری حقیقت اور صحت کے ساتھ ہم تک پہنچا چنانچہ صحابہ کرامؓ سے محبت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ممکن نہیں اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی مشکل ہے کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ بالکل اسی طرح گزاری جس طرح اُنہوں نے آپؐ کو دیکھا۔ ان میں کئی صحابہ ایسے ہیں جنہوں نے آپؐ سے سوال پوچھ کر اپنے اشکالات دور کئے یعنی قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے رہنمائی کا دروازہ کھول دیا جبکہ بعض کو آپؐ نے روک کر یا بلا کر تلقین کی یا نصیحت فرمائی۔ 
آج صحابہ کرام میں سے ایک ایک کی  زندگی کے واقعات میں ہمارے لئے نصیحت ہے۔ کاش ہم اس حقیقت کو محسوس کریں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے ذریعہ رب العالمین نے دین کی تفہیم اور احکام کی توضیح کے نقطۂ نظر سے مسلمانوں کیلئے کتنی اہم رہنمائی کا انتظام فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم  پر لازم ہے کہ حیاتِ صحابہ کا مطالعہ کریں، اُن سے روزانہ کچھ نہ کچھ سیکھیں اور جو کچھ بھی سیکھا ہے اُس کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں یعنی اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام سے سچی محبت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK