• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کانگریس کو بی جے پی کے ساتھ ہی گہلوت اورکمل ناتھ جیسے لیڈروں سےبھی لڑنےکی ضرورت ہے

Updated: November 12, 2023, 4:17 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

ایک طویل عرصے تک اقتدا ر سے بے دخلی کے بعد قومی سطح پر کانگریس کی قبولیت کا راستہ کچھ کچھ ہموار ہونے لگا ہے۔

Ashok Gehlot. Photo: INN
اشوک گہلوت۔ تصویر : آئی این این

ایک طویل عرصے تک اقتدار سے بے دخلی کے بعد قومی سطح پر کانگریس کی قبولیت کا راستہ کچھ کچھ ہموار ہونے لگا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ ہی بی جے پی کی حکمرانی اور اس کی پالیسی سے لوگ عاجز اور پریشان ہیں۔ امید بھری نگاہوں سے عوام کانگریس کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ نفرت کے بازارمیں محبت کی دکان کے خریداروں کی تعداد ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔اس کے اثرات ریاستی انتخابات کے نتائج پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ ہماچل پردیش کے بعد کرناٹک میں کانگریس کی فتح اس کا بین ثبوت ہے۔ ان کامیابیوں نے کانگریس کارکنوں کو پُرجوش اور عوام کو پُراعتماد کردیا ہے۔’بھارت جوڑو یاترا‘ کے بعد راہل گاندھی نے کانگریس کو جس رُخ پر موڑنے کی کوشش کی ہے، اس کی ملک گیر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ہورہی ہے۔
 ایسے میں جبکہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، اگر کانگریس اپنے ہدف سےپیچھے رہ جاتی ہے تو اس کی وجہ راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ اور دوسری ریاستوں میں ان کے جیسے دوسرے لیڈران ہوں گے جنہوں نے اپنا راستہ کانگریس سے الگ منتخب کیا ہے۔ حالیہ کچھ مہینوں میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب کانگریس کے ان سینئر لیڈروں بالخصوص گہلوت اور کمل ناتھ نے پارٹی، پارٹی کارکنان اور عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ پارٹی کے نہیں بلکہ پارٹی اُن کی محتاج ہے۔ پارٹی کے فیصلوں کو ٹھینگا دِکھا کر انہوں نے بارہا باور کرایا ہے کہ وہ پارٹی سے بڑے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرسکتے ہیں۔ دونوں لیڈروں کے ان رویوں کی وجہ سے کانگریس کو جو سیاسی فائدہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں مل پارہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے دوسری ریاستوں میں بھی نقصان کا خدشہ ہے۔
کانگریس کیلئے حالات اچھے ضرور بن رہے ہیں ، مستقبل بھی تابناک نظر آرہا ہے لیکن فی الحال وہ سیاسی طور پر اتنی مضبوط نہیں ہے کہ اشوک گہلوت اور کمل ناتھ کے خلاف ایکشن لے سکے۔ اشوک گہلوت اور کمل ناتھ اُس کی اسی کمزوری کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ یہ دونوں صرف اپنی پارٹی ہی کا نہیں بلکہ بی جے پی سے مقابلے کیلئے قومی سطح پر تشکیل دیئے گئے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں ۔ سال رواں میں ۱۴؍ ستمبر کو ’انڈیا‘ اتحاد نے اتفاق رائے سے ایک فیصلہ کیا تھا جس کے تحت ملک کے اُن ۱۴؍ ٹی وی اینکروں کا بائیکاٹ کرنا تھا، جو بی جےپی کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے ملک میں نفرت کا بازار گرم کرتے ہیں ۔ ملک کی تاریخ کا یہ پہلا موقع تھا کہ اس طرح فہرست جاری کرکے کچھ اینکروں کے بائیکاٹ کااعلان کیا گیا تھا۔ یہ بہت بڑا اور ایک ’بولڈ‘ قدم تھا۔ کہنے کو تو یہ ’انڈیا‘ اتحاد کا فیصلہ تھالیکن سب جانتے ہیں کہ اس پرمہر کانگریس کی ایما پر ہی لگی تھی۔ میڈیا میں اس کااعلان بھی کانگریس ہی نے کیا تھا اور اس بات کی خواہش ظاہر کی تھی کہ اس سے اتفاق کرنے والے دوسرے لوگ بھی بائیکاٹ کی اس مہم میں اس کا ساتھ دیں .... افسوس کہ اس فیصلے کو ابھی ۲؍ ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ کمل ناتھ نے کانگریس اور ’انڈیا‘ اتحاد کو رُسواکردیا۔ انہوں نے ۱۴؍ اینکروں کی اس فہرست میں نویں مقام پر براجمان ’ٹائمز ناؤ‘کی صحافی ’ناویکا کمار‘ کو انٹرویو دے کر ’انڈیا‘ اتحاد میں خلفشار جیسی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اتحاد میں شامل کئی جماعتوں نے کمل ناتھ کے اس قدم کی مذمت کی ہے اور اس کیلئے کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب کمل ناتھ کی وجہ سے کانگریس قیادت کو ملک کے سامنے اپنی صورت چھپانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے’انڈیا‘کی اہم اتحادی سماجوادی پارٹی کے سربراہ کو ’اکھلیش وکھلیش‘ کہہ کر ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے اکھلیش یادو سے بات کرکے کسی طرح اس تنازع پر دھول ڈالنے کی کوشش ضرور کی لیکن کمل ناتھ کے رویے میں ہنوز کوئی تبدیلی آتی نظر نہیں آرہی ہے۔ 

اس سے قبل ہندوراشٹر کا مطالبہ کرنے والے ’بلڈوزر حامی‘ متنازع ہندوتواوادی  یوٹیوبر دھیریندر شاستری (باگیشور دھام) کی میزبانی کرکے بھی انہوں نے کانگریس کو ملک کے سامنے دفاعی پوزیشن میں کھڑا کردیا تھا۔ دہرہ دون کے مشہور تعلیم ادارے ’دون اسکول‘ میں سنجے گاندھی کے ہم جماعت کمل ناتھ میں بھی وہی ’ایٹی ٹیوڈ‘ ہے۔ سنجے گاندھی کے توسط سے۱۹۸۰ء میں انہوں نے باقاعدہ کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور چھندواڑہ لوک سبھا حلقے سے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد ۹؍ مرتبہ لوک سبھا پہنچ چکے ہیں۔ان کا شمار کانگریس کے سینئر ترین لیڈروں میں ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کمل ناتھ پارٹی میں دوسرے لیڈروں، حتی کہ پارٹی قیادت کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ آج مدھیہ پردیش میں کانگریس کی پوزیشن قدرے بہتر ہے ،  ایسے میں انہیں لگتا ہے کہ یہ سب انہی کی وجہ ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ 
 کمل ناتھ ہی کی طرح اشوک گہلوت نے بھی کئی بار پارٹی کے فیصلوں سے انحراف کیا ہے اور اس طرح اعلیٰ کمان کو پریشان کیا اور عوام کو تذبذب میں ڈالا ہے۔ سچن پائلٹ کے معاملے پر گزشتہ سال اُنہوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا اور جس طرح سے من مانی کی تھی، اس  نے راجستھان کانگریس کو ایک بحرانی کیفیت میں ڈال دیا تھا۔ گہلوت نے نہ صرف پائلٹ کی تضحیک کی تھی بلکہ  ملکارجن کھرگے اور اجے ماکن کی بات بھی نہیں مانی تھی جو اُس وقت پارٹی کی طرف سے مشاہدین بن کر راجستھان گئے تھے۔راجستھان میں آج اگر کانگریس کی حالت کچھ خراب ہے تو اس کی وجہ سے  ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کی روایت نہیں ہے بلکہ اشوک گہلوت کا اپنا رویہ ہے جو خود کو اعلیٰ اور برتر اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں۔ گہلوت اگرپارٹی لائن پرچلتے تو چھتیس گڑھ کی طرح راجستھان میں بھی کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہوتی اور اقتدار میں واپسی کا راستہ آسان ہوتا۔ جادوگر گھرانے سے تعلق رکھنے والے اشوک گہلوت  ہر بار جادوئی کارنامہ انجام دینے میں کامیاب رہیں گے، ایسا ضروری نہیں ہے۔
 ان حالات میں کانگریس کو سہ رُخی مقابلے کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف حریف کے طور پر جہاں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں ہیں تو وہیں دوسری جانب عام آدمی پارٹی، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے طور پر ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل حلیف جماعتیں بھی ہیں جن سے مختلف ریاستوں میں جوجھنا ہے.... لیکن ان دونوں سے زیادہ بڑا مسئلہ گہلوت اور کمل ناتھ جیسے لیڈروں پر نظر رکھنا اور ان سے لڑنا بھی ہے جن کی وجہ سے نہ صرف پارٹی کی شبیہ خراب ہوتی ہے بلکہ جیتی ہوئی بازی  ہار جانے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK