باطل پر مطلقاً راضی ہو جانااور نامساعد حالات پر آنکھیں موند کر اور ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ رہناقناعت نہیں ہے۔ قناعت کے معنی یہ ہوئے کہ انسان اللہ کی عطاکردہ چیزوں پر راضی ہوجائے اور اس کی عنایات پر ناگواری کا اظہار نہ کرے، حلال رزق کمانے کی کوشش کرے اور برائیوں کی اصلاح اور نیکیوں کو پھیلانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرے۔
مال کمانے کی کوشش کرنا، اسلئےضروری ہے کہ اللہ کے عطاکردہ مال سے فقراء و مساکین کی مدد کرسکیں۔ تصویر : آئی این این
قناعت سچے مسلمان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق پر راضی ہوتا ہے اور اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ تھوڑی چیز جو (ضروریات کیلئے )کافی ہو، بہتر ہے اُس چیز سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دینے والی ہو۔ یہ اُن کامیاب لوگوں کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی طرف ہدایت دی اوراپنی طرف سے ایسارزق عطا کیا جو ان کی ضروریات کیلئے کافی ہے اور غفلت میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے ،اور اللہ تعا لیٰ نے انہیں جو کچھ دیا اس پر وہ راضی ہو گئے۔
حضرت فضالہؓ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جسے اسلام کی طرف ہدایت دی گئی، اورجو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دیا اس پروہ راضی ہو گیا۔‘‘
قناعت: قناعت کے معنی ہیں اللہ کی تقسیم پر راضی ہونا۔
اسوۂ رسولؐ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے دعا کیا کرتے تھے کہ وہ آپؐ کو قناعت کی دولت عطا فرمائے، اور آپؐ ہمیشہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر راضی رہتے تھے۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں بھی یہی عادت پروان چڑھائی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریمؐ نے ہمارے درمیان نو کھجوریں تقسیم کیں ، چونکہ ہم نو افراد تھے،اس لئے آپؐ نے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی۔‘‘ کھجور جیسی معمولی سی چیز جس کی طرف کسی کو رغبت نہ تھی لیکن صحابہ کرامؓ نے اسی پر قناعت کی اور خو شی خو شی اسے قبول کر لیا۔ان کی عادت ہی یہ تھی کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جو کچھ انہیں ملتاتھا، اس پر وہ راضی ہو جاتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے کہتا ہے: اے ابن آدم! تیرے پاس اتنا کچھ ہے جو تیرے لئے کافی ہے لیکن تو وہ کچھ طلب کرتا ہے جو تجھے سرکشی میں مبتلا کر دے۔ اے ابن آدم! تو تھوڑی چیز پر قناعت نہیں کرتااور زیادہ سے تیرا پیٹ نہیں بھرتا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی خطرات سے محفوظ ہو، اس کا جسم صحیح سلامت ہو ، اسے کسی قسم کی کوئی بیماری لاحق نہ ہو، بلا خوف وخطر پُرامن زندگی بسر کر رہا ہو اور اس کے پاس روز مرہ ضروریات کی اشیا موجود ہوں ، تو اسے اور کیا چاہئے!
نبی اکرمؐ ، اللہ تعالیٰ سے قناعت کی دُعاکیاکرتے تھے۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ اور ہمیں بھی یہی تعلیم دی ہے کہ ہم اپنے رب سے قناعت طلب کیا کریں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کے یہ الفاظ ہوا کرتے تھے:
’’اے اللہ! جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس پر مجھے قناعت نصیب فرما اور اس میں میرے لئے برکت پیدا کر،اور میری وہ تمام چیزیں جو میری آنکھو ں سے اوجھل ہیں ان کی حفاظت فرما۔‘‘نبی کریم ؐ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اوردرخواست کی:اے اللہ کے رسولؐ !مجھے کوئی مفید دعا سکھائیے۔آپؐ نے فرمایا کہ اللہ سے اِس طرح طلب کرو، اس طرح دُعا مانگو: ’’اے اللہ! میری مغفرت فرما، میرے اخلاق میں وسعت پیدا کر، میری کمائی میں برکت عطا کر اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس پر قناعت نصیب فرما۔‘‘
قناعت کے حصول میں معاون اسباب: (۱)آدمی کے دل میں یہ بات اچھی طرح رچ بس جائے کہ وہ اس دنیا میں مہمان ہے ، بہت جلدوہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ جیسا کہ نبی کریمؐ فرمایا کرتے تھے:’’بے شک میں بشر ہو ں ،بہت جلد میرے پاس اللہ کا پیغام آئے گا اور میں اس کا جواب دوں گا۔‘‘
جب ہمیں یہ پختہ یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہے درحقیقت وہی خیروبھلائی ہے تو دنیا کی زندگی کی حیثیت ایک مہمان خانہ سے زیادہ نہیں رہے گی، اور مہمان کو مہمان خانے میں موجود اشیاء سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ محض اپنی ضرورت پوری کرنے کی حد تک بڑے قرینے اور قناعت سے ان چیزوں کو استعمال کرتا ہے اور اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ دُنیا کی زند گی کے بارے میں انسان کایہ پختہ یقین قناعت کے حصول میں اسے مدد دیتا ہے۔
حضرت سلمان فارسی ؓ کاشمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے۔ ان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ان کے بارے میں نبیٔ مہرباں ؐ نے فرمایا:ـ ’’سلمان ہمارے اہلِ بیت میں سے ہیں ۔‘‘ آپؓ خلفائے راشدینؓ کے دور میں اور ان کے بعد کے ا دوار میں مختلف اہم حکو متی مناصب پر فائز رہے۔ جب آپ ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپؓ رونے لگے۔ دریافت کیا گیا کہ اے ابوعبداللہ ! روتے کیوں ہو؟آپ ؓنے جواب دیا: مجھے خدشہ ہے کہ ہم نے نبی کریم ؐکی اس وصیت کی حفاظت نہیں کی کہ تمہیں مسافر کے زادِ راہ کی مانند دنیا سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہئے، جو صرف اپنی انتہائی ضرورت کی چیزیں ہی اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔
جب حضرت سلمان فارسیؓ اس دنیا سے رخصت ہو ئے اور لوگوں نے ان کے ترکے میں موجود اشیا کا جائزہ لیاتو ان کی قیمت ۳۰ ؍ درہم بھی نہیں بنتی تھی، اس کے باوجود آپؓ نبی کریمؐ کی وصیت پر عمل درآمد نہ ہونے سے ڈرتے تھے۔ یہ مثال ہمیں عملی نمونہ فراہم کرتی ہے کہ کس طرح نبی اکرمؐ نے اپنے صحابہؓ کی تربیت فرمائی تھی۔
(۲) انسان کے ذہن میں یہ تصور پختہ ہو جائے کہ اُس مال کو جمع کرنے کا کیا فائدہ جس سے وہ خودمستفید نہ ہو سکے۔ ایک عقل مند آدمی جب غور وفکر کرتا ہے تو اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے کہ ضروریات سے زائد ایسا مال جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے، جسے نہ میں کھاسکتا ہوں نہ پی سکتا ہوں ، نہ اس سے لطف اندوزہو سکتا ہوں اور نہ اسے کسی مفید کام میں خرچ کر سکتا ہوں ؟
ہمارے پیارے نبیؐ نے فرمایا: ’’جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں اطراف پر دو فرشتے کھڑے ہوکر منادی کرتے ہیں اور ان کی آواز کو جن و انس کے سوا زمین میں موجود تمام اشیاء سنتی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : اے لوگو! اپنے رب کی طرف آئو، تھوڑی چیز جو (ضروریات کیلئے) کافی ہو، بہتر ہے اس چیز سے جو زیادہ ہو اور (تمہیں ) غافل کر دینے والی ہو۔
اے ابن آدم، تیرا (مال) توصرف وہی ہے جسے تو نے کھایا اور ختم کردیا، یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا خرچ (صدقہ) کر کے آگے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ جو مال بھی ہے اسے اکٹھا کرنے میں تم تھک جاتے ہو اور اس کے خرچ نہ کرنے پر تمہارامحاسبہ کیا جائے گا، اور اللہ کے سامنے اس کے بارے میں تجھ سے پوچھا جائے گا۔‘‘
قناعت کے فوائد: قناعت کے عظیم الشان فوائد ہیں جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:
قناعت کرنے والا شخص سب سے زیادہ غنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ نبی کریمؐ کی حدیث کے مطابق غنی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس زیادہ مال و دولت ہو،بلکہ غنی وہ ہے جو دل کا غنی ہو۔ وہ غیراللہ سے حاجت روائی کی امید نہیں رکھتا، لوگوں سے اور ان کے مال سے مستغنی ہوتا ہے۔ یہ حقیقی غنی ہوتا ہے ، پس قناعت کرنے والا شخص سب سے بڑا غنی ہے۔
روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے سوال کیا: اے میرے رب! تیرے بندوں میں سے تجھے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:جو ان میں سے سب سے زیادہ میرا ذکر کرتا ہے۔ آپ ؑ نے پوچھا :تیرے بندوں میں سے سب سے زیادہ غنی کون ہے؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میرے عطا کردہ مال پر ان میں سے سب سے زیادہ قناعت کرنے والا۔ آپ ؑ نے پوچھا :ان میں سے سب سے زیادہ عادل کون ہے ؟ اللہ تعا لیٰ نے جواب دیا:جس نے اپنے نفس کو (بری خواہشات سے) بچا لیا۔
قناعت پسندآدمی مال ودولت والوں ، جاہ وحشمت والوں اور بادشاہوں کے سامنے ذلیل بن کر کھڑا ہونے سے مستغنی ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ عزت نفس جو قناعت کرنے والوں کو قناعت کے نتیجے میں ملتی ہے۔
بنی امیہ کے ایک بیٹے نے ایک عابد و زاہد انسان ابی حاتم کوخط لکھا کہ وہ اپنی ضروریا ت کے بارے میں اسے آگاہ کریں ۔ابی حاتم نے اس خط کا جواب یوں دیا :’’حمدوثنا کے بعد، آپ کا خط ملا،جس میں آپ نے میری ضروریات جاننے اور انہیں پورا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔یہ بہت بعید ہے ۔مَیں نے اپنی ضروریات اپنے پیارے رب کے سامنے پیش کر دی ہیں ،ان میں سے جو اس نے مجھے عطا کر دیں میں نے انہیں قبول کر لیا، اور جو نہیں عطا کیں ان سے میں نے قناعت کر لی۔‘‘ غور فرمائیے یہ ہے صالحین کا عمل۔
قناعت کا غلط تصور: آخر میں مَیں قناعت کے ان غلط معانی کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں جوبعض لوگ مراد لیتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ قناعت حالات و واقعات پر راضی ہونے،ان کو نہ بدلنے اور بہتر بنانے کی کوشش نہ کرنے کانام ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، ہوتا رہے، انہیں اس سے کوئی غر ض نہیں کیونکہ ان کے خیال میں قناعت اسی کا نام ہے، تویہ غلط فہمی کی انتہا ہے۔ درحقیقت قناعت حالات و واقعات پر راضی ہونے کانام نہیں ہے، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کی تقدیر پر راضی ہونے کا نام ہے جسے راضی بہ رضا کہا جاتا ہے۔ جہاں تک نامساعد اور بُرے حالات و واقعات کا تعلق ہے تو قناعت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بدلنے کی کوشش کی جائے۔
قناعت یہ نہیں ہے کہ تو منکر کو دیکھے اور خاموش رہے، اور تیرا خیال یہ ہو کہ مجھے تو ہرحال میں اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا ہے۔
قناعت یہ نہیں ہے کہ تو معروف کو دیکھے اور اس میں سبقت لے جانے اور آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے،اورتو اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ میں تو قانع ہوں ۔
قناعت یہ نہیں ہے کہ تیرے لئے حلال رزق کا دروازہ کھولا جائے اور تو اسے لینے کی بجائے اس خیال سے ہاتھ باندھ کر بیٹھا رہے کہ یہ قناعت ہے۔
مال جمع کرنا تیرے لئے ضروری نہیں ہے لیکن مال کمانے کی کوشش کرنا، اسلئے ضروری ہے کہ تو اللہ کے عطاکردہ مال سے فقراء و مساکین کی مدد کرے، دین خداوندی کی دعوت عام کرنے اور اسے سربلند کرنے کیلئے اسے خرچ کرے۔ باطل پر مطلقاً راضی ہو جانا اور نامساعد حالات پر آنکھیں موند کر اور ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ رہناقناعت نہیں ۔ قناعت کا معنی یہ ہے کہ تو اللہ کی عطاکردہ چیزوں پر راضی ہوجائے اور اس کی عنایات پر ناگواری کا اظہار نہ کرے، حلال رزق کمانے کی کوشش کرے، برائیوں کی اصلاح اور نیکیوں کو پھیلانے کیلئے تمام تر صلاحیتیں صرف کردے۔
(ترجمہ: طارق محمود زبیری)