کورونا اور انسانی حرص کا قہر

Updated: May 01, 2021, 9:56 PM IST | Shamim Tariq

وزارت صحت کی مہیا کی ہوئی تفصیلات کے مطابق ۱۲؍ اپریل ۲۰۲۱ء تک ملک میں ۳۸۴۲؍ میٹرک ٹن آکسیجن استعمال کی گئی تھی مگر پیداوار ہوئی تھی ۷۱۲۰؍ میٹرک ٹن کی۔ یہاں یہ سوال جائز ہے کہ اس کے باوجود ریاستوں میں آکسیجن کی کمی کیوں ہے؟ اعداد و شمار کے مطابق تو آکسیجن کی افراط ہونی چاہئے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

قدرت کے قہر میں جب انسان کی حرص و ہوس شامل ہوجاتی ہے تو ہلاکت کے ساتھ پریشانیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی ادنیٰ سی مثال آکسیجن کی قلت ہے۔ ڈاکٹر رو رہے ہیں، اسپتالوں میں کہرام مچا ہے، عام لوگ سلنڈر لے کر قطار میں کھڑے ہیں مگر تمام تر یقین دہانی اور وزیر اعظم کے مختلف سطح پر میٹنگ کرنے کے باوجود لوگوں کو آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کورونا میں آکسیجن کی قلت کا قہر اتنا اچانک ٹوٹا ہے کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہورہی ہے۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق ایک سال پہلے یعنی اپریل ۲۰۲۰ء میں بااختیار (Empowered) افسروں کی ایک میٹنگ میں آکسیجن کی کمی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا اس میٹنگ میں پلاننگ کمیشن کے سی ای او بھی موجود تھے ۔اس کے بعد صحت سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ میڈیکل آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنائے۔ ۲۰۲۰ء میں ہی یہ سفارش راجیہ سبھا کے چیئرمین کو پیش بھی کردی گئی تھی مگر اس کا جو نتیجہ سامنے آیا وہ اتنا ہوش ربا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کو بھی سخت انتباہ دینا پڑا ہے۔
 معاملہ کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے کچھ تفصیلات کا ذہن میں ہونا ضروری ہے۔ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہوجاتی ہے اور متاثر شخص کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگتی ہے اور اگر بروقت علاج نہیں ہوا یا آکسیجن نہیں مہیا کی گئی تو یہی تکلیف جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران ایسے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے جن کو آکسیجن دے کر ہی آرام پہنچایا جاسکتا ہے مگر ان کو بروقت آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں آکسیجن کے بغیر اچھا کیا جاسکتا ہے اور ایسے مریضوں کی تعداد بھی بہت ہے۔ خاص طور سے مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، دہلی، چھتیس گڑھ، پنجاب اور راجستھان میں جہاں آکسیجن نہ ملنے سے مریضوں کی تعداد میں اور پھر اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ معمول کے مطابق ایک شخص کے جسم میں آکسیجن کی سطح ۹۴؍ فیصد سے ۱۰۰؍ فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔ اگر یہ سطح کسی شخص میں کم ہو تو اس کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ یہ سطح ۹۰؍ فیصد سے بھی کم ہوجائے تو مریض کو اسپتال میں داخل کئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موجود حالات میں ۱۰؍ تا ۱۲؍ فیصد معاملات میں آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔
 اس وقت ملک میں جو کہرام مچا ہوا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ جتنے مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت ہے اتنی آکسیجن اسپتالوں کو مہیا نہیں کی جارہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں آکسیجن کا اچھا ذخیرہ ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اسپتالوں اور مریضوں کو آکسیجن حاصل کرنے میں دشواری کیوں ہے؟ حکومت کے دعوے یا مہیا کئے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق ۷۲۰۰؍ میٹر ٹن آکسیجن ملک میں تیار ہورہی ہے جس میں ۵۰؍ فیصد میڈیکل مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے اور ۵۰؍ فیصد صنعتی مقاصد کے لئے۔ میڈیکل آکسیجن یا طبی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی آکسیجن پیدا کرنے والے بڑے مینو فیکچرر کی تعداد ۱۰ - ۱۲؍ ہے۔ چھوٹے گیس پلانٹ کی تعداد ۵۰۰؍ سے زائد ہے۔ میڈیکل آکسیجن کا سب سے بڑا مینو فیکچرر گجرات میں ہے باقی دہلی، کوکلکتہ اور چنئی میں۔
 وزارت صحت کی مہیا کی ہوئی تفصیلات کے مطابق ۱۲؍ اپریل ۲۰۲۱ء تک ملک میں ۳۸۴۲؍ میٹرک ٹن آکسیجن استعمال کی گئی تھی مگر پیداوار ہوئی تھی ۷۱۲۰؍ میٹرک ٹن کی۔ یہاں یہ سوال جائز ہے کہ اس کے باوجود ریاستوں میں آکسیجن کی کمی کیوں ہے؟ اعداد و شمار کے مطابق تو آکسیجن کی افراط ہونی چاہئے۔ ایک خبر یہ ہے کہ آکسیجن دوسرے ملکوں کو فروخت کی گئی ہے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ آکسیجن تو ہے مگر ایسے ٹینک اور سلنڈر کم ہیں جن میں رکھ کر اس کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا جاسکے۔ آکسیجن کو ایک خاص قسم کے ٹینک میں ہی رکھ کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا جاسکتا ہے اور جس گاڑی سے اس کو پہنچایا جاتا ہے اس کی رفتار ۴۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ آکسیجن ایک جگہ سے دوسری جگہ رات دس بجے سے پہلے ہی پہنچائی جاسکتی ہے اس کے بعد نہیں۔ یہاں یہ وضاحت ہوجاتی ہے کہ آکسیجن کی پیدوار کے سلسلے میں اگر حکومت کے دعوے تسلیم کرلئے جائیں تو بھی اس کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانے میں جو پریشانیاں ہیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہ سوال بھی ہے کہ آکسیجن کو دوسرے مقامات پر لے جانے میں مصنوعی دشواریاں بھی پیدا کی جاتی ہیں۔ مصنوعی دشواریوں کا دوسرا نام بدعنوانی ہے۔
 ٹرانسپورٹیشن کے علاوہ کچھ سیاسی معاملات ہیں جن کے باعث آکسیجن بر وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچائی جاتی مثلاً ہر ریاست میں آکسیجن پلانٹ نہیں ہیں۔ مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ اور یوپی سے آکسیجن حاصل کرتا ہے۔ پنجاب ہریانہ سے اور راجستھان اتراکھنڈ سے آکسیجن حاصل کرتا ہے اس سے بھی آکسیجن بروقت ایک مقام سے دوسرے مقام پر نہیں پہنچ پاتی۔ ایک ریاست کا دوسری ریاست سے اگر سیاسی اختلاف ہو تو یہ تاخیر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں کو سلنڈر دیئے گئے ہیں وہ واپس نہیں کررہے ہیں اس سے بھی آکسیجن کو ضرورتمندوں تک پہنچانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ وجوہ اور بھی گنائی جاسکتی ہیں مگر ہر سطح پر اپنا کام وقت پر نہ کرنے کی ہماری جو ذہنیت ہے یا کسی بھی طرح کسی بھی موقع پر مزید کچھ کما لینے کا جو لالچ ہے اس کی کارفرمائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ذہنیت اور لالچ بھی کورونا کے قہر سے کم نہیں ہے۔ یہ تمام قہر مل کر ہماری جان لے رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ قہر صرف قدرت کا نہیں انسان پر انسان کا قہر بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK