کورونا: کیا ہم ٹھیک طریقہ سے نمٹے؟

Updated: October 24, 2020, 6:30 AM IST | Editorial | Mumbai

ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بھلے ہی زیادہ ہو اور اَب تک ۷۷؍ لاکھ سے زائد افراد پازیٹیو پائے گئے ہوں ، باعث ِ اطمینان یہ ہے کہ شفایاب ہونے والوں کی تعداد (۶۹؍ لاکھ، ۴۱؍ ہزار) بھی زیادہ ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بھلے ہی زیادہ ہو اور اَب تک ۷۷؍ لاکھ سے زائد افراد پازیٹیو پائے گئے ہوں ، باعث ِ اطمینان یہ ہے کہ شفایاب ہونے والوں کی تعداد (۶۹؍ لاکھ، ۴۱؍ ہزار) بھی زیادہ ہے۔ ۲۰؍ اکتوبر کو۷؍ لاکھ، ۴۰؍ ہزار کے قریب فعال کیسیز تھے۔ یومیہ تعداد یعنی نئے متاثرین کی تعداد بھی کافی کم ہوئی ہے جو کہ وسط ستمبر میں ۹۷۔۹۸؍ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ اس تناظر میں بحث کا ایک نکتہ یہ ہے کہ کیا کووڈ۔۱۹؍ کی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا گیا جس کی وجہ سے فعال کیسیز کی تعداد کم ہوئی اور شرح اموات قابو میں رہی، یا، اس صورتحال سے، بہتر اور مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکتا تھا جس کی وجہ سے فعال کیسیز کی تعداد مزید کم ہوتی، اور، شرح اموات جتنی تھی یا ہے اُتنی بھی نہ رہتی۔
 حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاچکا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اتنا سخت نہ ہوتا تو متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہوسکتی تھی مگر ماہرین کی جانب سے جو اشارے ملے اور اب بھی مل رہے ہیں ان سے علم ہوتا ہے کہ اگر کووڈ۔۱۹؍ کے خلاف اقدامات میں تاخیر نہ ہوتی اور عمل میں لائے گئے اقدامات ناکافی نہ ہوتے تو صورتحال کچھ اور ہوتی۔ تب ہم مجموعی متاثرین کے معاملے میں دوسرے نمبر پر نہ پہنچتے۔
  پروفیسر راجندر پرتاپ گپتا ملک کے ممتاز پبلک پالیسی ایکسپرٹ ہیں اور مرکزی وزارت کے مشیر رہ چکے ہیں ۔ اپنے ایک مضمون بعنوان ’’خطرناک کورونا وائرس سے بہترطور پر نمٹنے میں ہندوستان کیا کرسکتا تھا‘‘ میں انہوں نے کئی اقدامات کی فہرست پیش کی ہےکہ اگر حکومت نے ان باتوں پر توجہ دی ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ متاثرین کی تعداد اتنی نہ بڑھتی۔ اُن کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی اور نیشنل سینٹر فور ڈِسیز کنٹرول کو جنوری ہی میں متحرک ہوجانا چاہئے تھا جب چین میں ہاہاکار مچی ہوئی تھی اور اس وباء کی ہولناکی سمجھ میں آنے لگی تھی۔ مضمون نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ۳۰؍ جنوری کو ڈبلیو ایچ او نے کووڈ۔۱۹؍ کو عالمی وباء قرار دے دیا تھا تب حکومت پر لازم تھا کہ بین الاقوامی پروازوں کو بالکل روک دیا جاتا اور ملک میں وبائی مرض کا قانون ۱۸۹۷ء نافذ کردیا جاتا۔ شری گپتا نے انکشاف کیا ہے کہ ۱۸؍ اپریل ۲۰۱۸ء کو انہوں نے ریاستی وزرائے محنت کو ایک پریزینٹیشن دیتے ہوئے غیر منظم زمرہ کے مزدوروں کے ایک قومی پروگرام ’وشو کرما‘ کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ پروگرام موبائل ایپ کی بنیاد پر جاری رہتا اور اس سے ۵؍کروڑ مہاجر مزدوروں تک رسائی اور ان کی حاجت روائی ممکن ہوتی۔ راجندر پرتاپ گپتا کے مطابق اس میٹنگ میں ریاستی وزرائے محنت کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل لیبر بھی موجود تھے مگر اس پروگرام کو نافذ نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو مہاجر مزدور پریشان ہوکر سڑکوں پر نہ آتے۔ 
 مذکورہ مضمون میں اور بھی کئی باتیں ہیں جن سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے سخت ترین لاک ڈاؤن تو نافذ کیا مگر اُن اقدامات کے نفاذ میں تاخیر کی یا اُن پر توجہ نہیں دی جن سے حالات کا رُخ کچھ اور ہوسکتا تھا۔ اس صورتحال کا مشاہدہ ہر خاص و عام نے کیا ہے کہ وباء سے نمٹنے کی حکومت کی تیاری بالکل نہیں تھی۔ ہمارا ہیلتھ انفراسٹرکچر محتاج تعارف نہیں ہے جس کی خستہ حالی عام دنوں میں بھی موضوع بحث بنی رہتی ہے چہ جائیکہ اتنی زبردست وباء۔ اس کا خمیازہ عام مریضوں کو بھگتنا پڑا۔متوفین میں بہتیرے لوگ وہ ہیں جو کئی دیگر عارضوں میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹروں کے دستیاب نہ ہونے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب وہ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اگر پی پی ای کٹ کا حصول آسان ہوتا اور ڈاکٹروں کو ہدایت دی جاتی کہ مریضوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ کریں تو عام مریض کووڈ کے مریض کی حیثیت سے فوت نہ ہوتے اور ملک کے مجموعی متاثرین و متوفین کی تعداد اتنی نہ ہوتی جتنی کہ ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ عوامی صحت کو ہنوز فوقیت نہیں دی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK