کورونا کی وبانے۳۲؍ ملین مڈل کلاس ہندوستانیوں کوغریبی میں دھکیل دیا

Updated: March 22, 2021, 3:07 PM IST

پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق کم آمدنی کے زمرے میں یومیہ ڈیڑھ سو روپے کمانے والوں کی تعداد میں اس دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کو بھی ایک بڑا سبب بتایا گیا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر  میں کس قدر بحرانی حالات پیدا  کئے ہیں، اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صحت عامہ سمیت معاشی ابتری کے مسائل روز بروز سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اس وبا کے اثرات سے متاثرہ ہندوستانیو ں کے متعلق ایک تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان میں وبائی دور کے دوران  ۳۲؍ ملین  افراد  بے روزگار ی اور جمع پونجی کے تیزی سے ختم  ہونے کی وجہ سے اب  مڈل کلاس زمرے سے بھی نیچے کھسک کر غریبی کے دلدل میں  پھنس گئے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق یومیہ ۱۰؍ سے ۲۰؍ ڈالر (۷۲۵؍  سے ایک ہزار۴۵۰؍ رو پے) کی  ​​آمدنی والے متوسط طبقہ کی تعداد میں گز شتہ ایک سال میں ایک تہائی کی بڑی کمی آئی ہے۔ کووڈ ۱۹؍ سےپہلے تقریباً ۹ء۹۹؍ کروڑ افراد متوسط ​​طبقے کا حصہ تھے ، اب ان کی تعدادکم ہو کر۶ء۶؍کروڑ  رہ گئی ہے۔
 ر پورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۹ء کے درمیان تقریباً۵ء۷؍کروڑ افراد کم آمدنی والے زمرے سے  باہر نکل درمیانی آمدنی والے گروپ کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن کووڈ ۱۹؍ بحرانی حالات میں ہندوستان کےمتوسط ​​طبقے کی شرح میں چین  ( جہاں سے کورونا کی ابتدا ہوئی تھی )کے مقابلے میں زیادہ کم ہوئی ہے اور ہندوستان غربت میں مزید ۱۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پیو  سینٹر کے تخمینے کے مطابق کووڈ ۱۹؍ کی وجہ سے ہندوستان میں  معاشی مندی نے  یومیہ۲؍ ڈالر (تقریباً ڈیڑھ سو روپے) کمانے والےکم آمدنی والے افرادکی تعداد ۷ء۵؍ کروڑ تک بڑھادی ہے۔ اگر اس  کا موازنہ چین کے حالات سے کیا جائے تو وہاں بھی وبا کے سبب  لوگوں کے  طرززندگی  پر اثرات ضرور مرتب ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں درمیانی آمدنی والے گروپ میں صرف ایک کروڑ افراد ہیں  جبکہ غربت کی سطح  پہلے کی جیسی ہی مستحکم رہی ہے۔
   ہندوستان میںایندھن کی قیمتوں میں روز بروز ہوش ربا اضافہ، بے روزگاری، ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں میں کٹوتی اور ان کی جمع پونجی برق رفتاری سے ختم ہونے کے سبب لاکھوں افراد غریبی کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں اور اب کئی افراد اس سے باہر نکل کر اپنا طرز زندگی بہتر کرنے کی امید میں بیرون ممالک ملازمت کے متلاشی ہیں۔
خوشحال ممالک  میں ہندوستان ۱۳۹؍ویں مقام پر 

  نیویارک( ایجنسی ): اقوام متحدہ کی ڈیولپمنٹ سو لیشن نیٹ ورک کے ذریعے ورلڈہیپی نیس رپورٹ ۲۰۲۱ء جاری کی گئی ہے۔ اس فن لینڈ کو مسلسل چوتھے سال ایک بار پھر دنیا کا سب سے خوش حال  ملک قرار دیا گیا ہے۔ اس  میں فہرست میں ۱۴۹؍ ممالک میں سےہندوستان ۱۳۹؍ ویںمقام پر ہے۔ وہیں  اس فہرست میں پاکستان ۱۰۵؍ ویں، بنگلہ دیش۱۰۱؍ ویں درجے پر ہے  تو چین ۸۴؍ ویں مقام پر مستحکم ہے۔  یہ سالانہ رپورٹ میں جی ڈی پی ، صحت عامہ اور عوامی تحفظ سے متعلق شہریوں کی رائے  کی بنا پر مرتب کی جاتی ہے۔ اس کے تحت سروے  میں شامل افراد  کو اپنے ملک  کے معاشی وسیاسی حالات، عوام کے طرز زندگی اور  ملکی انتظامیہ کے تعاون  سے متعلق  سوالات پوچھے گئے تھے اور انہیں ایک سے ۱۰؍ پوائنٹس  دینے کو کہا  جاتا ہے۔ اس مرتبہ   کئے گئے عوامی جائزے میں کووڈ ۱۹؍ کے اثرات کا بھی خصوصی تجزیہ کیا گیا اور اس کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK