رونا تو روپے کا بھی ہے

Updated: May 12, 2022, 11:01 AM IST | Agency | Mumbai

پیر، ۹؍ مئی کو، ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپیہ اب تک کی کم ترین سطح پر تھا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

پیر، ۹؍ مئی کو، ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپیہ اب تک کی کم ترین سطح پر تھا۔ ۷۷؍ روپے ۵۳؍ پیسے فی ڈالر۔ روپے کی ارزانی طویل عرصے سے جاری ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی گرانی کی تین بڑی وجوہات میں سے ایک روپے کی گرانی ہے۔ اگر ہم پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ درآمد نہ کررہے ہوتے تو یہ صورتِ حال نہ پیدا ہوتی مگر ہم ۸۵؍ فیصد ایندھن بیرونی ملکوں سے درآمد کرتے ہیں اس لئے ڈالر کے تیور برداشت کرنا ہماری مجبوری ہے۔ مجبوری کا فائدہ اُٹھا کر کہئے یا کسی اور وجہ سے، ڈالر کے مزاج میں اتنا اشتعال آگیا ہے کہ روپے کو دیکھ کر ہی اس کی تیوری چڑھ جاتی ہے۔ اس کو ٹھیک کرنا جتنا مشکل ہے اُتنا ہی اپنی کرنسی کو روبہ صحت لانا مشکل ہے۔ جب تک اپنی کرنسی مضبوط نہیں ہوتی، ڈالر کی گرانی کم نہیں ہوگی۔ اپنی کرنسی کیسے مضبوط ہو، یہ بھی نہایت اہم سوال ہے مگر اس کا جواب آپ کو معیشت کے ہر باب اور ہر شعبے میں تلاش کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر ایکسپورٹ بڑھانا اور اِمپورٹ کم کرنا ہوگا، افراط زر پر قابو پانا ہوگا، بے روزگاری کی شرح کم کرنی ہوگی، معیشت کی شرح نمو بڑھانی ہوگی، تجارتی خسارہ کم کرنا ہوگا، شیئر مارکیٹس کی مثبت فعالیت کو یقینی بنانا ہوگا، زر مبادلہ کا ذخیرہ بڑھانا ہوگا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا اور بینکوں کے اثاثہ جات کو مستحکم کرنا ہوگا۔ معلوم ہوا کہ ایک نہیں ہزارچاک دل رفو کے منتظر ہیں! واصح رہے کہ مقامی کرنسی کسی ایک وجہ سے کمزور نہیں ہوتی۔ مذکورہ بالا اسباب تو اپنی جگہ ہیں ہی، کئی دیگر اسباب بھی ہیں جن میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ ان پر ہمارا اختیار ہی نہیں۔ مثال کے طور پر یوکرین روس جنگ پر ہمارا اختیار نہیں۔ ایندھن کی عالمی قیمت پر ہمارا اختیار نہیں۔دُنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے میں اتنے گتھے ہوئے ہیں کہ ایک کو کھانسی آئے تو دوسرے کو کھانسی آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے یا ایک کو چھینک آئے تو دوسرے کو بھی آسکتی ہے۔ محفوظ وہی رہتا ہے جس کی قوت مدافعت زیادہ ہو۔ اب مذکورہ اسباب پر نگاہ دوڑائیے تو محسوس ہوگا کہ ہم تو کئی محاذوں پر پسپا ہیں۔ ہمارے ہاں افراط زر بڑھا ہوا ہے، بے روزگاری پچاس سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے، امپورٹ پر ہمارا انحصار بھی زیادہ ہے، وغیرہ۔ جب معیشت سنبھالے نہ سنبھل رہی ہو تو روپیہ کیسے سنبھل پائے گا؟  اس طرح روپے کی قدر تو خود ہمارے معاشی مسائل کی وجہ سے کم ہوئی ہے مگر اُدھر ڈالر کی قدر بھی بڑھی ہوئی ہے۔ جیسے دو دھاری تلوار ہوتی ہے، اسی طرح یہ صورت حال بھی ہے۔ ڈالر اس لئے مضبوط ہورہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھائی ہے۔ یوکرین جنگ سے بھی ڈالر کی مانگ میں اور اس کے نتیجے میں قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ روس پر عالمی پابندیاں بھی امریکی ڈالر کے حق میں سازگار ثابت ہورہی ہیں جبکہ چین میں نئے سرے سے لاک ڈاؤن کی کیفیت بھی ڈالر کوفائدہ پہنچا رہی ہے۔رواں سال کے اوائل ہی میں ڈالر کی قدر میں ۸؍ فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ پچھلے بارہ مہینوں میں ۱۴؍ فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔  اس طرح دو متضاد کیفیات ہیں۔ ڈالر مضبوط ہورہا ہےاور اس کی مضبوطی کے اپنے اسباب ہیں۔ روپیہ کمزور ہورہا ہے اور ایسا ہونے کے بھی اپنے اسباب ہیں۔ ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کا واحد سبب نہیں۔ اسی لئے گزشتہ پیر کا دن بلائے جاں ثابت ہوا۔ اب دیکھنا ہے کہ رویپہ کتنی جلدی سنبھلتا ہے، سنبھلتا بھی ہے نہیں!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK