امبرناتھ میں جو کچھ ہوا اُسےمہاراشٹر کانگریس نے ناقابل قبول قراردیا، تمام نومنتخب اراکین کو پارٹی سے نکالنے کے ساتھ ہی مقامی اکائی کو بھی تحلیل کردیا گیا۔
امبرناتھ میں میونسپل کونسل الیکشن کے سیکولر ووٹرس کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ تصویر: آئی این این
کانگریس جو ملک بھر میں بی جےپی سے نظریاتی لڑائی لڑ رہی ہے، نے امبرناتھ میں بی جےپی سے ہاتھ ملالینے کے اپنے ۱۲؍ نومنتخب کونسلرس کے قدم کو قطعی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں پارٹی سے معطل کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے نہایت واضح، دو ٹوک اور اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے اتحاد کرنے والے تمام لوگوں کو معطل کرنے کے ساتھ ہی ساتھ پارٹی کی مقامی اکائی کو بھی تحلیل کردیاہے۔ اس کے ذریعے کانگریس نے یہ سخت پیغام دیا ہے کہ بی جے پی یا اس کی ہم خیال شدت پسند پارٹیوں سے کسی بھی صورت میں کوئی اتحاد، سمجھوتہ یا مفاہمت کسی طور پر منظور نہیں ہے۔
اقتدارکیلئے غیر فطری اتحادکی کوشش
مہاراشٹر کی سیاست میں بدھ کو اس وقت عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی جب امبرناتھ میں ایک دوسرے کی کٹر حریف پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی ایک ہی صف میں نظر آئیں۔ امبر ناتھ میونسپل کونسل کیلئے الیکشن ۲۰؍ دسمبر کو ہوئے اور ۲۱؍ دسمبر کو نتائج آئے تھے۔ ۵۹؍ رکنی کونسل میں ۲۷؍ سیٹوں کے ساتھ شیوسینا(شندے) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری جبکہ بی جےپی نے ۱۴؍ اور کانگریس نے ۱۲؍ نشستوں پر فتح حاصل کی۔ این سی پی (اجیت پوار) کے حصے میں ۴؍ سیٹیں آئیں۔ شیوسینا (شندے) کو صدر بلدیہ کے عہدہ سے دور رکھنے اور خود اس پر قبضہ کرنے کیلئے بی جےپی نے کانگریس اور این سی پی (اجیت پوار) سے ہاتھ ملا لیا۔ کانگریس کے نو منتخب کو نسلرس نے ’’شہر کی ترقی‘‘ کے نام پر اس اتحاد کی پیش کش کو قبول کرلیا ۔اس میں پارٹی کی مقامی اکائی بھی ان کے ساتھ تھی۔ اس فیصلے نے نہ صرف سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچادی بلکہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف کانگریس کو ووٹ دینے والے ووٹرس بھی حیران رہ گئے کہ اب ان کے پاس ووٹنگ کیلئے کیا متبادل بچے گا۔
کانگریس کی قیادت کو اندھیرے میں رکھاگیا
نظریاتی بنیاد پر اس سنگین خلاف ورزی پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے فوری کارروائی کی۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ امبرناتھ بلاک کانگریس کمیٹی نے یہ قدم پارٹی قیادت کو اعتماد میں لئے یا اطلاع دیئے بغیر اٹھایا ہے، مقامی سطح کی پوری کارگزار کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا۔ ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اس ضمن میں جاری کردہ پریس ریلیز میں واضح کیا ہےکہ’’ میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع ملنا کہ کانگریس کے نشان پر جیتنے والے اراکین بی جے پی کی گود میں جا بیٹھے ہیں، پارٹی کے آئین اور وقار پر حملہ ہے۔‘‘ انہوں نے دوٹوک کہا کہ’’ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امبرناتھ کا یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ مقامی سیاست میں اب نظریات کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے۔ کانگریس کے ٹکٹ پر جن امیدواروں نے بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف ووٹ مانگے انہوں نے ہی بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا جو ووٹرس کے ساتھ بھونڈامذاق ہے۔
مہاراشٹر کانگریس کی جانب سے مقامی اکائی کیلئے جاری کردہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ میونسپل کونسل میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی کوئی اطلاع ریاستی دفتر کو نہیں دی گئی جو نہ صرف سنگین لاپروائی اور پارٹی کے ڈسپلن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس کی طرف سے جاری اس خط پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر گنیش پاٹل کے دستخط ہیں۔ امبرناتھ کانگریس کے صدر کے عہدہ پر فائز پارٹی کے سینئر لیڈر پردیپ پاٹل کو لکھے گئے مکتوب میں گنیش پاٹل نے کہا ہے کہ ’’یہ قطعی غلط اقدام ہے جو پارٹی کے ڈسپلن کے خلاف ہے۔اس معاملے کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کی ہدایت پر آپ کو فوری طور پر کانگریس پارٹی سے معطل کیا جاتاہے۔‘‘
کانگریس کیلئے اقتدار سے زیادہ اقداراہم
کانگریس قیادت نے واضح کیا کہ بی جے پی نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے بلکہ فرقہ وارانہ سیاست، طاقت کے ناجائز استعمال اور اقتدار کے بل پر دباؤ کی علامت بن چکی ہے، اس لیے اس سے کسی بھی سطح پر ہاتھ ملانا کانگریس کے سیکولر، جمہوری اور آئینی تشخص کے منافی ہے۔ امبرناتھ میں کی گئی کارروائی اس اصولی موقف کی عملی مثال ہے تاکہ کارکنان اور عوام کے سامنے یہ پیغام بالکل واضح رہے کہ کانگریس اقتدار سے زیادہ اقدار کو اہمیت دیتی ہے۔