سپریم کورٹ نے حسب خواہش موت معاملے میں ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۳ء کو اپنے ۲۰۱۸ء کے فیصلے میں ایسی ترمیم کی ہے کہ پرانے فیصلے میں پیشگی اجازت کی شرط میں جو پیچیدگیاں تھیں وہ کم ہوگئی ہیں۔ البتہ کس مریض کی مرنے کی خواہش جائز ہے اور کس کی نہیں ہے؟ اس کا فیصلہ ڈاکٹروں کا بورڈ کریگا۔
انسان لاکھ حوصلہ مند ہو اس کی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ بیماری، معذوری، غربت یا اپنوں کے رویے سے تنگ آکر مرنے کی تمنا کرنے لگتا ہے اس کے برعکس دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں جو ناقابل برداشت مصیبتوں میں مبتلا ہوکر بھی ایک نئی سحر یا خوش حالی و کامیابی کی امید کبھی نہیں چھوڑتے۔ اس دوسرے طبقے کے لوگوں کا نقطۂ نظر ہی صحتمند نقطۂ نظر ہے اور اسی کو عام کیا جانا چاہئے۔ ۲۰۱۸ء میںسپریم کورٹ نے ایسے مریض کو جو تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہو اور جس کا سانسوں کی ڈور سے بندھے ہونا محض تکلیف جھیلنے کے لئے ہو خواہش کے مطابق مر جانے کی اجازت دی تھی مگر چونکہ فاضل جسٹس صاحبان کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ ان کی اجازت کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اس لئے انہوں نے ایسی موت کے لئے پیشگی اجازت کی شرط بھی لگا دی تھی۔ پانچ سال کے دوران عملی سطح پر یہ محسوس کیا گیا کہ اجازت کا جو طریقۂ کار متعین کیا گیا ہے وہ اتنا مشکل اور پیچیدہ ہے کہ خواہش کے مطابق موت یا موت کی اجازت ہی بے معنی ہوگئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک قتل برائے نجات یا قتل برائے رحم کی بات کی جاتی تھی اور دلیل یہ دی جاتی تھی کہ اگر کوئی شخص ایسی اذیت میں مبتلا ہے کہ اس سے برداشت نہیں ہوتا یا طبی نقطۂ نظر سے اس کا علاج ممکن نہیں ہے تو موت کو اس کی نجات کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کو محض اس لئے زندہ رکھنا ضروری نہیں کہ قانون کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ حسب خواہش موت بھی خود کو قتل کرنے یا خود کشی کرنے کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے یا مریض کو تکلیف سے نجات پانے کے لئے زندگی پر موت کو ترجیح دینے کی ایک صورت بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۳ء کو اپنے ۲۰۱۸ء کے فیصلے میں ایسی ترمیم کی ہے کہ پرانے فیصلے میں پیشگی اجازت کی شرط میں جو پیچیدگیاں تھیں وہ کم ہوگئی ہیں۔ پچھلا فیصلہ بیشک بہت اچھی نیت اور مریض کو راحت پہنچانے یا تکلیف سے نجات دلانے کی نیت سے کیا گیا تھا مگر طریقۂ کار کی پیچیدگی کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کم و بیش پانچ سال میں حسب خواہش موت کا فائدہ کسی کو نہیں ملا حالانکہ اس دوران مر مر کے جیے جانے یا زندگی کے نام پر خود اذیت جھیلنے کے ساتھ اپنے گھر والوں یا تیمار داری کرنے والوں کو بھی اذیت میں مبتلا کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس دوران ہزاروں لوگ ایسے بھی تھے حالات سے گھبرا کر جنہوں نے خودکشی کرلی حالانکہ ان کے حالات بدل بھی سکتے تھے اسی طرح سیکڑوں ایسے لوگ زندہ رکھے گئے جن کا زندہ رہنا ان کیلئے بھی اذیت کا باعث تھا اور دوسروں کیلئے بھی۔ پہلے فیصلے میں یہ ضروری تھا کہ مرض کی شدت، تکلیف یا کسی اور میڈیکل وجہ سے اگر کوئی مریض مرنا چاہتا ہو یا ڈاکٹر اس کو مار دینا ہی بہتر سمجھتے ہوں تو ڈسٹرک مجسٹریٹ یعنی ضلع کا حاکم ایک بورڈ تشکیل دے اور اس بورڈ کے فیصلے یا مشورے کے مطابق ہی فیصلہ کرے کہ جو مریض مرنے کی تمنا کر رہا ہے اسکی خواہش کا احترام کیا جانا اسکے حق میں ہے یا نہیں۔ نئے فیصلے یعنی پرانے فیصلے میں ترمیم میں ڈی ایم کے ذریعہ بورڈ کی تشکیل دیئے جانے کی شرط ہٹا لی گئی ہے۔ اب اسپتال ہی پرائمری اور ریویو (نظر ثانی) دونوں سطح کے معاملات کیلئے خود ہی بورڈ تشکیل دے سکتا ہے۔ ظاہر ہے اسپتال خود ہی بورڈ تشکیل دے سکے گا اور ڈی ایم کے فیصلے یا اس کے ذریعہ بورڈ تشکیل کئے جانے کا محتاج نہیں ہوگا تو وقت بھی بچے گا اور کام کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ ایک اہم ترمیم یہ بھی ہوئی ہے کہ پرانے فیصلے میں انہیں ڈاکٹروں کو شامل کرنا لازمی تھا جن کو ۲۰؍ سال کی پریکٹس کا تجربہ ہے۔ تازہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے ڈاکٹر بھی بورڈ میں شامل کئے جاسکتے ہیں جن کو پانچ سال پریکٹس کرنے کا تجربہ ہے۔
کسی کو قتل کرنا، کسی کا خود کشی کرنا یعنی خود کو قتل کرنا، حسب خواہش موت کو گلے لگانا یا کسی شخص کو اذیت ناک حالات یا مرض سے نجات دلانے کیلئے موت کی نیند سلا دینا بظاہر ایک جیسا معلوم ہوتا ہے حالانکہ ان میں فرق ہے۔ کسی کو قتل کرنا یا اس کو اپنے راستے سے ہٹانا یا خود اپنی جان دے دینا الگ الگ نوعیت کے معاملات ہیں۔ انسان کسی دوسرے انسان کو غصے یا انتقام کے جذبے کے تحت قتل کرتا ہے یا حواس باختہ اور ناامید ہوکر خود کشی کرتا ہے جبکہ مرنے کی خود خواہش کرتا ہے تو طرح طرح کے مسائل و مصائب میں مبتلا ہوکر یا اس کی موت کی تدبیر کوئی دوسرا کرتا ہے تو اس کو ابتلا و آزمائش یا اذیت سے نجات دلانے کیلئے۔ اس کے باوجود حسب خواہش موت یا رحم کے جذبے سے کسی کو موت کی نیند سلانے کی روش کی حمایت نہیں کی جاسکتی کیونکہ تمام تر ابتلا و آزمائش کے باوجود زندگی جیسی عظیم نعمت کا بدل موت ہو ہی نہیں سکتی۔ ایسی کئی کتابیں بھی انٹرنیٹ اور لائبریریوں میں موجود ہیں جن میں ایسے واقعات درج ہیں جو موت کے منہ میں جاکر یا موت کو شکست دے کر پلٹ آنے کے شاہد ہیں۔ ایسے واقعات بھی کثرت سے نقل کئے جاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے عاجز آکر یا ہر طرح نا امید ہوکر مرنے کی تدبیر کی اور وہی تدبیر اس کی حیات نو کا بہانہ بن گئی۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی نے کسی کو قتل کرنے کیلئے اس پر وار کیا اور وہی وار قتل کرنے کی کوشش کرنے والے کی موت کا سبب بن گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان کسی کو زندگی دے تو نہیں سکتا، کسی کی زندگی لے بھی نہیں سکتا، یہ سب منحصر ہے مرضی مولیٰ پر۔ اسی لئے ڈاکٹروں کا معمول رہا ہے کہ وہ مریض کو آخری لمحے تک بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایسے مریضوں کو بھی وہ بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن کے بارے میں ان کو یقین تھا کہ موت ان کے سرپر کھڑی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے نئی صورت پیدا ہوئی ہے اس لئے اس نے پہلے تو میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے کچھ کڑے قانون بنائے اور پھر پانچ سال بعد ان قوانین یا ضابطے میں نرمی کا حکم دیا۔ اس کے باوجود بورڈ کی رائے کی شرط کو برقرار رکھا ہے مگر کس مریض کی مرنے کی خواہش جائز ہے اور کس کی نہیں ہے؟ اس کا فیصلہ ڈاکٹروں کا بورڈ کریگا۔ اس فیصلے میں بھی انسانی زندگی کے احترام کا جذبہ برقرار ہے۔ سپریم کورٹ کے انسان دوستی پر مبنی اس فیصلے کے استقبال کے باوجود یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسپتالوں کا تشکیل دیا ہوا بورڈ کیسے کام کرتا ہے۔ بیشک ڈاکٹر قابل احترام ہیں مگر ان کی کارکردگی پر کبھی کبھار سوال بھی اٹھتے رہے ہیں۔