Updated: June 06, 2026, 6:01 PM IST
| London
لندن کے برک بیک کالج میں چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک لیکچر کے دوران ایک خاتون نے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین سے متعلق ان کے حالیہ تبصروں کے تناظر میں، اختلافِ رائے اور تنقید کے حوالے سے خدشات پر ان سے سوال کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی ہائی کمیشن نے خاتون کے طرز عمل کو ”ناشائستہ“ قرار دیا۔
لندن کے برک بیک کالج (Birkbeck College) میں ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک لیکچر کے دوران موجود سامعین میں سے ایک خاتون نے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین سے متعلق ان کے حالیہ تبصروں کے تناظر میں، اختلافِ رائے اور تنقید کے حوالے سے خدشات پر ان سے سوال کرنے کی کوشش کی۔ ۴ جون کو جسٹس سوریا کانت ”آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بین الاقوامی قانون“ کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے جب ایک خاتون شریک نے جمہوریت اور ہندوستان کے قانونی نظام پر ان کے تبصروں کا حوالہ دیا اور بعد میں، اپنے بقول ”ہندوستان میں اختلافِ رائے کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی“ سے جڑے خدشات کو اٹھایا۔
خاتون نے کہا کہ ”ہندوستان اور بیرونِ ملک کے قانونی مبصرین نے ملک میں اختلافِ رائے کیلئے سکڑتی گنجائش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسے خدشات چیف جسٹس کے حالیہ عوامی تبصرے میں بھی جھلکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔“ اس سے پہلے کہ خاتون کا سوال مکمل ہو پاتا، ناظمِ تقریب نے مداخلت کی اور یہ کہتے ہوئے سوال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ یہ بحث صرف مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی قانون کے موضوع تک ہی محدود ہے۔
ناظمِ تقریب نے کہا کہ ”پورے احترام کے ساتھ، میں معذرت خواہ ہوں، میں اس سوال کو شامل کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ یہ موضوع آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بین الاقوامی قانون سے متعلق ہے۔“ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ سامعین نے اس مداخلت پر اعتراض کیا۔ ایک شریک کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا، ”براہِ کرم، ہمیں کچھ عزت دیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍میں سے۷؍ نوجوانوں کو پہلی نوکری حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا: ’اِنڈیڈ‘ رپورٹ
واضح رہے کہ یہ واقعہ سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت کے ان تبصروں پر جاری بحث کے درمیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کچھ ایسے بے روزگار نوجوانوں کا حوالہ دیا تھا جو ”میڈیا، سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی کارکن“ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے بعض افراد کا موازنہ نظام پر حملہ کرنے والے ”کاکروچوں“ اور ”طفیلئے“ سے کیا تھا۔ ان تبصروں نے سول سوسائٹی کے حصوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحث اور تنقید کو جنم دیا تھا۔ اس تنازع کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے ایک طنزیہ تحریک بھی ابھری ہے۔
ہندوستانی ہائی کمیشن کا ردِعمل
لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے لیکچر کے دوران خاتون کے اس طرزِ عمل پر تنقید کی اور اس واقعے کو نامناسب قرار دیا۔ ایک بیان میں، ہائی کمیشن نے تقریب کے دوران اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جسے انہوں نے ”غیر شائستہ رویہ“ کا نام دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ جمہوریت میں رائے کا اختلاف فطری ہے، لیکن اس کا اظہار شائستہ اور باوقار طریقے سے کیا جانا چاہئے۔