بامبے ہائی کی کولہاپور بنچ کی جسٹس شرمیلا دیشمکھ نےدونوں فریق کے دلائل سننے کے بعدبیٹے کی سخت سرزنش کی۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 12:48 PM IST | Mumbai
بامبے ہائی کی کولہاپور بنچ کی جسٹس شرمیلا دیشمکھ نےدونوں فریق کے دلائل سننے کے بعدبیٹے کی سخت سرزنش کی۔
ایک۴۶؍ سالہ بیٹے کا جائیداد پر اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ٹربیونل کے فیصلہ کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا اس وقت مہنگا پڑا جب معمر والدہ کے خلاف کیس کرنے پر عدالت نے سخت سرزنش کی ۔ یہی نہیں کورٹ نے ماں کے خلاف عرضداشت داخل کرنے پر ہزاروں روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ بامبے ہائی کی کولہاپور بنچ کی جسٹس شرمیلا دیشمکھ کے روبرو ایک بیٹے نے والدہ ہی کی دی ہوئی جائیداد میں سے چند حصہ واپس لینے کے خلاف معمر شہریوں کے حق کے لئے بنائے گئے ٹربیونل کے ذریعہ سنائے گئے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ بیٹے نے سنگل بنچ کی جسٹس کو بتایا کہ جو زمین انہوں نے میرے نام کردی تھی وہی اب وہ واپس دینے کی ضد کررہی ہیں ۔ اس کے علاوہ جب زمین کے حصول کے لئے سینئر سٹیزن ٹربیونل میں اپیل کی تو ٹربیونل نے میرے خلاف ہی فیصلہ سنایا ۔والدہ کی جانب سے کورٹ کو بتایا گیا کہ بیٹے کا اپنی بیوی سے علیحدگی کا معاملہ کورٹ میںزیر سماعت ہونے کے باوجود میری دی ہوئی جائیداد میں سے اسے حصہ دیا ہے اور ایک عمر دراز کو جس کا کوئی کفیل نہیں ہے زمین کا کچھ حصہ واپس مانگنے پر کورٹ کے چکر لگوا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے ہوٹل، ریسٹورینٹ، پب اور بار چلانے والوں پر فائر بریگیڈ کا شکنجہ
سنگل بنچ نے دونوں فریق کی جرح سننے کے بعد بیٹے کی سخت سرزنش کی۔ ساتھ ہی ان ہی کی جائیداد میں سے چند حصہ لوٹانے کے بجائے کورٹ میں کیس کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف۵۰؍ ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے کیا بلکہ رقم والدہ کے سپرد کرنے کی ہدایت دی اور عرضداشت کو بھی خارج کردیا ۔