سپریم کورٹ نے ۳؍ اہلکاروں کی پیشگی ضمانت منسوخ کر دی،کہا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ہی بھتہ خور بن جائیں تو شہریوں کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سپریم کورٹ۔ تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کےرشوت خوری میں ملوث ہونے کو سنگین معاملہ قرار دیا۔ عدالت نےقانون نافذ کرنے والوں کے بھتہ خور بن جانے سے شہریوں کے شدید بحران سے دوچار ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے زیورات کے ایک تاجر سے مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کی پیشگی ضمانت منسوخ کر دی۔
جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے معاملے کو سنگین بتاتے ہوئے کہاکہ جب قانون کے محافظ بھتہ خور بن جاتے ہیں تو شہری شک اور الجھن کاشکار ہو جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں کے سامنے رشوت کے مطالبہ کے خلاف آواز بلند کرنے پر جوابی کارروائی کا خطرہ ہوتا ہے۔عدالت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ وردی والے حکام کے ذریعہ اختیارات کا بے جا استعمال کئےجا نے کے باوجود شہریوں کے پاس ان کے سامنے خاموشی سےجھک جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ در اصل اپنی نابالغ بیٹی اور سالے کے ساتھ ممبئی سے سفرپر روانہ ہونے والے زیورات کے ایک تاجر کی پولیس نے ریلوے اسٹیشن پر تلاشی لی۔ اس دوران۱۴؍گرام سونے کے بسکٹ اور۳۱۹۰۰؍ روپے نقد برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد اسے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں پولس اہلکاروں نے سونے کے بسکٹ واپس کرنے کے بدلے میں نقدی اپنے پاس رکھ لی جس پر متاثرہ نے ایف آئی آر درج کرائی۔
اس معاملہ میں سیشن کورٹ نے ملزم پولیس اہلکاروں کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی لیکن بعد میں ہائی کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں راحت دیدی۔ مہاراشٹر حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے عدالت کو بتایاکہ تلاشی اور ضبطی کے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونی چاہیے تھی لیکن پولیس اہلکار شکایت کنندہ کو ایک ایسے کمرے میں لے گئے تھے جہاں کیمرے نہیں تھے۔عدالت کے علم یہ بات بھی لائی گئی کہ تینوں پولیس اہلکاروں کو محکمانہ انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں پولیس اہلکاروں کی پیشگی ضمانت منسوخ کر دی۔