سشانت سنگھ راجپوت کی موت اور سیاست کی بے ضمیری

Updated: August 09, 2020, 3:09 PM IST | Mubasshir Akbar

کیا سشانت سنگھ راجپوت کی موت اور ان کی زندگی کے بارے میں منٹ منٹ کی خبروں سے ملک کا قومی مفاد وابستہ ہے؟ سیاستدانوں کے ذریعے اس موت پر ہونےوالی سیاست بھی افسوسناک ہے ، عوام کا دھیان کورونا وائرس کی قہر ناکی اور چین کی دراندازی جیسے اہم موضوعات سے ہٹانے کا یہ اہم حربہ ہے

SP Patna City - PIC : Sameer Markandey
پٹنہ شہر کے ایس پی وِنے تیواری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ سیاست دانوں نے اپنے مفاد کی خاطر اس سانحے کو عوامی مسئلہ بنادیا

فلم ا داکار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ سوشل میڈیا پر ابھی تک گرم ہے۔ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بالی ووڈ کی پرانی خبروں کو پوسٹ کر رہے ہیں اور ہر نئی پوسٹ میں کسی نہ کسی کو ٹرول کر رہے ہیں۔کیا سشانت سنگھ راجپوت کی موت اور ان کی زندگی کے بارے میں منٹ منٹ کی خبروں سے ملک کا قومی مفاد وابستہ ہے؟یقینی طور پرعوامی شخصیت ہونے کے ناطے وہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے خراج عقیدت کے حقدار ہیں لیکن جس طرح سے ان کی زندگی اور حقائق کی چیر پھاڑ کی جارہی ہے وہ  یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ اس وقت میڈیا کے پاس دکھانے کے لئے کچھ خاص نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ابھی اس معاملے کی تحقیقات جاری  ہے  ۔یہ معاملہ ممبئی پولیس کے نظریے سے دیکھا جائے تو خودکشی کا نظر آتا ہے لیکن بہار پولیس کی مانیں تو اس میں کئی سوال ایسے ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔ میڈیا کا بڑا حلقہ سشانت کی موت کے بعد سے ہی اسے پرائم ٹائم کی خبر بنائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کے سہارے وہ کورونا کی قہر ناکی پر کوئی سوال نہ اٹھاسکے اور اس طرح سے حکومت کی خفت مٹائی جاسکے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ متعدد نیوز چینلوں کے پرائم ٹائم بلیٹن میں سشانت کی موت کے کیس اور اس کے تعلق سے ہونے والی تفتیش کی ایک ایک تفصیل کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جارہا ہے۔
 گزشتہ دنوں ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک نیوز چینل پر نظر پڑی جس پر سشانت کےتعلق سے ایک مشہور نیوز اینکر اپنا شو کر رہی تھی ۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی تھیں کہ سشانت نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ اس کا خون ہوا ہے ۔ وہ اپنی بات کے جواز میں کچھ نئے خلاصےکرنے کے دعوے بھی کررہی تھیں۔ اس نیوز کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے ہم بھی اسی چینل پر رک گئے کہ چلیں دیکھتے ہیں یہ کون سا ایسا ثبوت پیش کرتی ہیں جو اب تک پولیس کے پاس بھی نہیں ہے لیکن ان کے چینل کے ’جانباز ‘ رپورٹرس کے پاس پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے شو کے بالکل آخر میں بتایا کہ سشانت نے موت سے ایک دن پہلے ۲؍ پروڈیوسرس سے بات کی تھی ۔ اسے کہتے ہیں کھودا پہاڑ نکلی چوہیا ۔  یہ پورا واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میڈیا کا بڑا طبقہ اسی طرح سے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اس وقت ملک میں سشانت سنگھ کی خودکشی سے بڑا کوئی کیس نہیں ہے بلکہ کورونا کے دن بدن بڑھتے معاملات اور سرحد پر چین کی بڑھتی ہوئی گستاخیاں بھی  اس ذیل میںنہیں آتیں کہ ان پر گفتگو کی جائے اور حکومت کو آئینہ دکھایا جائے۔اس وقت میڈیا کا بڑا طبقہ یہی کوشش کررہا ہے کہ سشانت کے معاملے کے ذریعے عوام کو  دوسری طرف مصروف رکھا جائے تاکہ وہ کورونا پر حکومت کی ناکامی کو بھول جائیں ۔
 ویسے سشانت کیس اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا ممبئی پولیس اسے دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس معاملے میں کئی ایسی باتیں ہیں جو اب تک منظر عام پر نہیں آسکی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اس معاملے میں شروع سے ہی تفتیش میں سنجیدگی ہونی چاہئے تھی لیکن اسے پوری طرح سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کاموقع بنادیا گیا ہے۔ شروع میں اسے خالص خودکشی کا کیس  بناکر پیش کیا گیا اور ممبئی پولیس کی تفتیش اسی  نقطے پرمرکوز رہی لیکن سشانت کے کچھ قریبی ساتھیوں نے اس معاملے میں سازش کا شبہ بھی ظاہر کیا تھا جس کی وجہ سے اب بہار پولیس اس معاملے میں کودی ہے ۔ اسے دو ریاستوں کی پولیس اور انتظامیہ کی لڑائی کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے کیوں کہ مہاراشٹر کی پولیس اسے خودکشی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے تو بہار پولیس اسے قتل او رسازش کےاینگل سے دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بھی سامنے آئے گا کہ سشانت کی موت پر سیاست بھی خوب ہو رہی ہے۔ بہار میں چونکہ  اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی ہے  اور اپوزیشن پارٹیاں نتیش حکومت کی ایک ایک ناکامی کا پول کھول رہی ہیں اسلئے اس کے پاس بھی عوام کا دھیان بھٹکانے کا اس سے اچھا موقع نہیں ہے۔ سی بی آئی تفتیش کی سفارش کو اسی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تفتیش سے کیا ہاتھ آتا ہے کیوں کہ اس میں صرف سی بی آئی ہی نہیں بلکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی شامل ہوگئی ہے۔ سشانت کے اکائونٹ سے نکلنےوالے کروڑوں روپے کی بات سامنے آنے کے بعدای ڈی کا رول بھی اس معاملے میں اہم ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک جو خودکشی کا کیس نظر آرہا تھا آج وہ  اتنے موڑ لے چکا ہے کہ اب یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ بہر حال اس معاملے نے بہار کی سیاست میں بھی ابال پیدا کردیا ہے ۔ نتیش حکومت اسے ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تو بہار کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اسے اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔  ہمارے خیال میں سشانت سنگھ راجپوت اپنی زندگی میں کبھی اتنے پرائم ٹائم میں نہیں رہے ہوں گے جتنے وہ مرنے کے بعد ہیں ۔ میڈیا کی جانب سے ان کی زندگی کے ہر ہر پہلو کو کھنگالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ کوشش اخلاقی اور سماجی طور پرکتنی درست ہے وہ الگ بحث ہے لیکن عوام کو دکھانے کے لئے بہت سے چینل یہ سرگرمیاں ضرور کررہے ہیں۔ 
 مہاراشٹر سےلے کر بہار اور یوپی تک جس طرح سے متعدد سیاسی لیڈران نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس موضوع کو بھنانے کی کوشش شروع کردی ہے وہ بھی افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے پاس کوئی تعمیری موضوع نہیں ہے جس پروہ سیاست کرسکیں۔ان کوششوں سے سچائی سامنے لانے میں توکوئی مدد نہیں مل سکے گی بلکہ یہ معاملہ اور پیچیدہ ہوتا جائے گا کیوں کہ جب سیاستداں اس میں کودیں گے تو بلاشبہ تفتیش متاثر ہو گی اور جب تفتیش متاثر ہو گی تو سچائی سامنے آنے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے ۔ ہمیں افسوس اس بات پر بھی ہے کہ بہار الیکشن میں سوشانت کی موت کو موضوع بنائے جانے کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ دیگر پارٹیاںبھی پرتول رہی ہیںکہ کیسےاس موضوع کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے ۔ بہر حال اس سیاست سے پرے ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ آخر وہ کیا حالات تھے جن کے دبائو میں آکر سشانت جیسے باصلاحیت اداکارنے موت کو گلے لگانےکو ترجیح دی ۔کہا جاتا ہے کہ بالی ووڈ یا فلم انڈسٹری بہت بے رحم صنعت ہے ۔ یہاں پر کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ کئی فلمیں سپر ہٹ دینے کے بعد ایک فلم فلاپ ہونے پر بھی بالی ووڈ کے اسٹارس کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں سشانت پر بھی کافی دبائو ہو گا کہ وہ اپنی ہر فلم سپر ہٹ دیں اور پروڈیوسرس کا پیسہ واپس دلوانے کی کوشش کریں۔ ساتھ ہی ان پر اپنے اسٹار کے رتبہ کو برقرار رکھنے کا بھی زبردست دبائو ہو گا۔ ان تمام دبائو  سے شائد وہ طویل عرصے سے جوجھ رہے تھے ۔ ڈپریشن کی دوائیاں لینا اسی کا ثبوت ہے کہ وہ اس دبائو کے آگے بے بس ہوتے جارہے تھے جس کی وجہ سے انہیں ڈپریشن دور کرنے والی دوائیاں استعمال کرنی پڑ رہی تھیں۔ سشانت کے معاملے سے کئی باتوں کا اعادہ بھی ہو گیا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فلمی پردے کی چکاچوندھ کے پیچھے ایک سیاہ دنیا ہےجس کی تاریکی میں سشانت جیسے کئی باصلاحیت افراد کھوگئے۔دوسرا یہ کہ یہ صنعت بہت ظالم قرار دی جاتی ہے کیوں کہ یہ کسی کو بھی بہت دنوں تک عروج پر نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی  آسانی کے ساتھ کسی کو عروج پر پہنچنے دیتی ہے۔ پٹنہ سے ممبئی آکر سشانت نے اپنی قابلیت کے دم پر ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ چھوٹےپردے سے بڑے پردے تک پہنچے لیکن یہاں وہ سخت دبائومیں ٹکے رہنے میں ناکام رہے اور یہ ناکامی کئی دیگر افراد کی بھی داستان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK