• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اردو تدریس میں استخراجی طریقہ طلبہ کیلئے زیادہ مفید ہے

Updated: May 22, 2023, 1:54 PM IST | afzal usmani | Mumbai

اردو پڑھانے والے اساتذہ سے ان کے طریقۂ تدریس سے لے کرانہیں پیش آنے والی دشواریوں تک کے موضوعات پر کی گئی گفتگو ملاحظہ کریں۔چوتھی قسط

In today`s era, while keeping the traditional style of education stable, innovation should also be given stability so that Urdu language continues to be promoted and developed.
آج کے دور میں روایتی طرزِ تعلیم کو مستحکم رکھتے ہوئے جدت کو بھی استحکام دینا چاہئے تاکہ اردو زبان کی ترویج وترقی ہوتی رہے

اردو زبان ہمارا سب سے قیمتی ورثہ ہے اور اس زبان سے ہم سبھی جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں ۔ اردو زبان صرف ہماری مادری زبان ہی نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری تہذیب و ثقافت سے ہےاور ہماری تہذیب و ثقافت اس وقت تک زندہ رہ سکتی ہے جب تک اسکول اور کالجوں میں اردو زبان کی تدریس کے ساتھ انصاف کیا جاتا رہے گا۔موجودہ دور میں اردو تدریس کے دوران اساتذہ کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ اردوکی تدریس میں بنیادی اور دور رس اصلاحات لانے کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ کو ان دیرینہ اور پیچیدہ مسائل سے آگاہی ہو۔ چنانچہ اصلاح کی کسی بھی کوشش کی بنیاد اس سوچ پر مبنی ہو گی کہ اردو کی تدریس میں جدید دور اور مستقبل کی دنیا کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے۔ اسی سلسلے میں ہم نے مہاراشٹر کالج،ممبئی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اظفر خان اور رفیع الدین فقیہ بوائز ہائی اسکول،بھیونڈی کے معاون معلم ظفر عالم سے گفتگو کی۔
 ڈاکٹر محمد اظفر خان سے یہ پوچھنے پر کہ اردو کی تدریس کیلئے سب سے اہم کیا ہے اور آپ کا طریقہ تدریس کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے ہمیں طلبہ کی قابلیت اور صلاحیت کو پرکھنا ہوگا ۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے اورکلاس میں موجود سبھی طلبہ کو  ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں  تو ان میں ذہین اور سمجھدار طالب علم آگے بڑھ جائے گا مگر ۸۰؍ فیصد کمزور طلبہ اسے سمجھنے میں ناکام ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اردو کی تدریس میں طلبہ کے فہم ،ذوق اور ذہنی استعداد کو پرکھ لیا جائے اور اس کے مطابق تدریس کا طریقہ اپنایا جائے۔جہاں تک بات ہے میرے طریقہ تدریس کی تو میں اپنے طریقے سے طلبہ کے ساتھ مکالمہ کرتا ہوں تاکہ ان کی کمزوریوں اور مہارت کو سمجھ سکوں اور اس کے بعد ان کے اردو بولنے اور سمجھنے کےعمل پر توجہ دیتا ہوں۔ اس طرح طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بات چیت کو بڑھاوا دیتا ہوں۔ میں لکھنے کی مشقیں دیتے ہوئے طلبہ کو اردو الفاظ، جملے کی ساخت اور مضامین لکھنے کے عمل سے گزارتا ہوں۔ انھیں پڑھائی کے دوران میں دشواریوں سے نمٹنے کے طریقے بھی بتاتا ہوں تاکہ وہ آگے چل کر اپنی مدد آپ کر سکیں۔ اس کے علاوہ اردو گیت، غزلیں اور نظمیں پڑھنے اور لکھنے کی مشق کراتا ہوں تاکہ طلباء کو اردو زبان کے لہجے، بول چال اور لحن سمجھنے میں مدد مل سکے۔مہاراشٹر کالج کے شعبہ اردو کے استاد اور شعری و ادبی ذوق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اظفر خان نے’’ موجودہ دور میں اردو کے اساتذہ کو روایتی طرز اپنانا چاہئے یا اُس میں جدت لانے کی ضرورت ہے؟‘‘ کے جواب میں بتایا کہ آج کے دور میں اصولی اور روایتی طرزِ تعلیم کو مستحکم رکھتے ہوئے جدت کو بھی استحکام دینا چاہئے تاکہ اردو زبان کی ترویج، ترقی اور ترسیل حال و مستقبل میں ہوتی رہے۔ اردو درس و تدریس میں کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو کارآمد ہوتی ہیں۔ جیسے وکی پیڈیا، مضامین ڈاٹ کام، اردو ویب ڈائریکٹری ڈاٹ کام، اردو پوائنٹ ڈاٹ کام، اور اردو ڈاٹ کام اور خاص طور پر ریختہ ڈاٹ کام وغیرہ۔ ای بک، ای مضامین اور امتحانی سوالات کی سافٹ کاپی کو اینڈرائیڈ کے ڈی ڈرائیو(D drive) میں محفوظ کرکے اسے آسانی سے استعمال کرنا آج کے دور میں بہت کارآمد ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر بھی کچھ چینلز اور ویڈیوز ہیں جو زبان کو فروغ دیتے ہیں ۔ لیکن اس دوران مواد کی کئی دیگر ذرائع سے بھی تحقیق اور تصدیق کرنا ضروری ہے۔ 
 ہمارے پوچھنے پر کہ اسکولی سطح سے گریجویشن سطح تک کس طریقہ تدریس سے طلبہ زبان کے ماہر بن سکتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک کے دوران خوش خطی، املا اور اردو قواعد کی بنیادی باتوں پر زور دینا چاہئے۔ جونیئر کالج میں مندرجہ بالا امور پر مزید گہرائی سے روشنی ڈال کر طلبہ کو مطالعے پر ابھارنا چاہئے اور ساتھ ہی علم بیان اور علم عروض کی بنیادی باتوں سے طلبا کو روشناس کرانا چاہئے۔ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں طلبہ کو ان کے مضامین سے متعلق ریفرنس بک لائبریری سے یا آن لائن ویب سائٹ سے مہیا کرنا چاہئے اور انہیں اسائنمنٹ کے طور پر ان کے مضامین (Subjects) سے متعلق کتابوں کے مطالعے اور اس کے بعد تبصرے پر بھی ابھارنا چاہئے۔
 بھیونڈی کے مشہورتعلیمی ادارے رفیع الدین فقیہ بوائز ہائی اسکول کے اردو کے استاد ظفر عالم نےاپنے اردو طریقہ تدریس کے متعلق بتایا کہ میں دوران تدریس سوال و جواب اور استخراجی طریقہ کا زیادہ استعمال کرتا ہوں۔کیونکہ یہ طریقہ طلبہ کے مافی الضمیر اور مسائل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کہ اردو زبان کی تدریس میں نصابی کتاب کتنی مفید ہوتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ نصابی کتابوں کو زبان کی مہارتوں اور مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہونا چاہئے حدف یا نشانہ نہیں۔ ابتدائی طور پر نصابی کتاب کا مطالعہ اہم ہوتا ہے ۔ مگر زبان نصابی کتاب کے علاوہ بھی اپنا ادبی سرمایہ رکھتی ہے۔اس لئے یہاں ایک استاد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اگر کوئی افسانہ پڑھارہا ہے تو اس کو اتنا دلچسپ بنا کر پیش کرے کہ طلبہ اس افسانہ نگار کے دیگر افسانوں اور تحریروں کو پڑھنے کیلئے بےچین ہو اٹھیں۔اسکولی سطح پر اردو تدریس کے دوران طلبہ کو کہاں دشواری پیش آتی ہے اور اس کا کیا سدباب ہے؟ ظفر عالم نے بتایا کہ اشعار کی تشریح، خلاصہ اور اظہار خیال سوالات کے یہ وہ گوشے ہیں جہاں اکثر طلبہ کمزور نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ذخیرہ الفاظ کی کمی ہے۔ بعض مرتبہ تو طلبہ شعر کا مفہوم سمجھ جانے کے بعد بھی اسے اپنے الفاظ میں لکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ طلبہ کے یہاںذخیرہ الفاظ کی کمی نہ ہو اور ان کی تخیلاتی دُنیا بھی وسیع ہو۔ ان دونوںکیلئے انہیں کثرتِ مطالعہ کی ضرورت ہوگی اور اداروں میں وقفے وقفے سے قصہ ، داستان اور مثنوی پر مشتمل پروگرام بھی کرائے جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK