ناگفتہ بہ حالات سے باہر نکالنے والے اعمال

Updated: June 26, 2020, 4:05 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

اس وقت پوری دُنیا پریشانی و بے چینی کے ایک انتہائی تکلیف دہ دور سے گزر رہی ہے کیونکہ کورونا کی وبا نے ہر چھوٹے بڑے کوبُری طرح متا ثر کیا ہے۔

Mosque - Pic : INN
مسجد ۔ تصویر : آئی این این

ہر ایک اپنے اپنے طور پر پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔ شرعی اعتبار سے جائز حدود میں رہتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اسباب تلاش کرنے اوراُن کے لئے جدو جہد اور تگ و دو کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے لیکن ہمیں اپنی بساط بھر قوت استعمال کرتے وقت کبھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اصل طاقت اللہ رب العزت کی ہے۔ اگر وہ چاہے تو چشم ِ زدن میں ہماری پریشانیاں کافور ہوسکتی ہیں۔ اسلئے جہاں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ مخالف حالات میں ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہ رہیں، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم مختلف اعمال کے ذریعہ اللہ رب العزت سے مدد طلب کرتے رہیں۔
 علمائے دین نے مشکل حالات سے نکلنے کے لئے کچھ اعمال کی نشاندہی کی ہے ، جن پر عمل پیرا ہونے سےہمارے حالات  بحکمِ خداوندی بدل سکتے ہیں۔ ذیل میں ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا اور مدد حاصل کرنے والے انہی چند اعمال کا ذکر کرتے ہیںتاکہ ہمارے اندر شوقِ عمل پروان چڑھے اور اس کے ذریعے ناگفتہ بہ حالات سے ہم باہر آجائیں۔
(۱) توبہ و استغفار: اخلاص کےساتھ کئے جانے والے اس عمل سے نہ صرف یہ کہ نامہ ٔ  اعمال سے گناہ مٹ جاتے ہیں اورمعاف ہوجاتے ہیں بلکہ گناہوں کے نتیجے میں جو منفی اثرات ہماری زندگی میں در آتے ہیں، اُن کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص توبہ و استغفار کو لازم پکڑتا ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ اس کیلئے ہر مشقت سے باہر نکلنے کا راستہ پیدا فرمادیتے ہیں، اس کو ہر پریشانی سے نجات عطا ء فرمادیتے ہیں اور اُ س کو ایسی جگہ سے سہولت (رزق وغیرہ)سے نوازتے ہیں، جس کا وہ تصور بھی نہیں کرتا۔‘‘ (ابو دائود)
(۲)تقویٰ: خوف و امید کے جذبات سے معمور ہو کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی مکمل اطاعت کا نام تقویٰ ہے۔ اگر ہم نے اپنی زندگی کو اطاعت ِ الٰہی کا پابند بنا لیا اور اُن چیزوں سے اپنے آپ کو بچا لیا جن سے بچنے کو شریعت نے لازم قرار دیا ہے تو یقیناً ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کے اُس وعدے کے مستحق قرار پائیں گے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’جو تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے لئے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔ ‘‘ (سورہ طلاق :۲۔۳)
(۳)دُعا: اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہمیں مشکل ترین حالات سے باہر نکال سکتے ہیں،اسی وجہ سے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اُن کے طرف رجوع ہوں اور اُن سے ہی مدد طلب کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا  مانگتے رہو یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘(النساء: ۳۲) دُعا کے حوالے سے ایک حدیث مبار کہ میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’کوئی بھی مسلمان جب کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ اور قطع رحمی کی بات نہ ہو تو ایسے شخص کو تین میں سے ایک چیز ضرور عطا  کر  دی جاتی ہے: یا تو اس کی دعا فوری طور پر قبول کر لی جاتی ہے،یا اس دعا کو آخرت کیلئے محفوظ کر لیا جا تا ہے،یا اس دعا کے باعث کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیا جا تا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: ’’ہم تو پھر بہت کثرت سے دعا کریں گے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے پاس دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔‘‘
(  مسند احمد)
(۴)صدقہ: یہ مصیبت اور پریشانی کو دور کرنے اور ختم کر نے کے مؤ ثر ترین ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’صدقہ کر نے میں جلدی کرو کیوں کہ صدقہ  بلائوں کو روک دیتا ہے اور اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کرو۔‘‘ (الطبرانی)
 (۵) صبر: اس عمل سے اطاعت ِ الٰہی کے جذبات عیاں ہوتے ہیں اور اس سے اللہ کی جانب سے مدد کا دروازہ بھی کھلتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘(سورہ بقرہ: ۱۵۳) 
(۶)نماز: یوں تو پوری زندگی نماز کا اہتمام لازمی اور باعث ِ خیرو برکت ہے لیکن مصائب و آلام کے وقت اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ذریعے۔‘‘(سورہ بقرہ:۴۵)
(۷) ذکر: اس عمل میں اللہ کی مدد اور رحم کو متوجہ کرنے کی مقناطیسی صلاحیت  ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میں اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتے ہیں اورجب بھی اُن کے ہونٹ میرے  ذکر سے حرکت میں رہتے ہیں۔‘‘ (بخاری)۔ علمائے  ربانیین اور اہلِ دل کا یہ تجربہ ہے کہ جب بھی انفرادی طور پر کوئی شخص مذکورہ اعمال میں مشغول ہوتا ہے، اس کی زندگی میں سکون و اطمینان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور انہی اعمال کو اگر اجتماعی طور پر انجام دیا جائے تو پورے معاشرہ  میں راحت و آسانی کی فضا ء قائم ہوجاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں انہی اعمال کو کثرت سے انجام دیا جائے۔
  اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائیں اور اپنے رحم و کرم سے موجودہ آزمائش کو ختم فرمادیں! آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK