دہلی کے انتخابی نتائج اور بی جے پی

Updated: February 14, 2020, 9:54 AM IST | Editorial

دہلی اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو، جس نے ۲۰۱۴ء کے بعد پے درپے کئی ریاستوں میں اپنا اقتدار قائم کیا، شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے ۷۰؍ میں سے صرف ۸؍ سیٹیں مل سکیں جبکہ اس نے یہ الیکشن بھی مودی کی ’’جادوئی شخصیت‘‘ کے سہارے لڑنے اور جیتنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس دوران بڑھ چڑھ کر فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تاکہ رائے دہندگان میں مذہب کی بنیاد پر عمودی لکیر کھنچ جائے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہو جسے اُمید تھی کہ دہلی کے رائے دہندگان ۴۵؍ سیٹیں تو یقیناً اُس کی جھولی میں ڈال دینگے،

دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری ۔ تصویر : آئی این این
دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری ۔ تصویر : آئی این این

 دہلی اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو، جس نے ۲۰۱۴ء کے بعد پے درپے کئی ریاستوں میں اپنا اقتدار قائم کیا، شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے ۷۰؍ میں سے صرف ۸؍ سیٹیں مل سکیں جبکہ اس نے یہ الیکشن بھی مودی کی ’’جادوئی شخصیت‘‘ کے سہارے لڑنے اور جیتنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 
 اس دوران بڑھ چڑھ کر فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تاکہ رائے دہندگان میں مذہب کی بنیاد پر عمودی لکیر کھنچ جائے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو ہو جسے اُمید تھی کہ دہلی کے رائے دہندگان ۴۵؍ سیٹیں تو یقیناً اُس کی جھولی میں ڈال دینگے، اسی مقصد کے تحت ’’گولی مارو‘‘، ’’کرنٹ شاہین باغ میں لگے گا‘‘  اور ’’ہند پاک میچ‘‘ جیسے بیانات کے ذریعہ سماج کو بانٹنے اور رائے دہندگان کو پولرائز کرنے کا آزمو دہ نسخہ ایک بار پھر آزمایا گیا مگر دہلی کے رائے دہندگان تو کوئی اور فیصلہ کرچکے تھے۔ جمہوریت میں رائے دہندگان ٹھیک ٹھیک فیصلے کریں تو سب کچھ ٹھیک رہتا ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے حق میں جو ’’حکومت نواز ووٹ‘‘  (پرو اِن کمبینسی) ڈالا گیا اور جس کی وجہ سے یہ پارٹی ازسرنو اقتدار تک پہنچ سکی ہے، وہ اب پرانا ہو گیا ہے۔ فی زمانہ ’’حکومت مخالف ووٹ‘‘  (اینٹی اِن کمبینسی) کا دور دورہ ہے جس کا مشاہدہ گزشتہ سال کے انتخابات میں کیا گیا چنانچہ متعدد ریاستیں بی جے پی کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل گئیں۔ اس کے برخلاف دہلی کے عوام نے ’’حکومت نواز ووٹ‘‘   کے ذریعہ اروند کیجریوال اینڈ ٹیم کو اُن کی عوامی اور فلاحی اسکیموں کے پیش نظر کچھ اس طرح نوازا کہ پانچ سیٹوں کا نقصان معمولی نقصان لگا جبکہ پانچ سیٹوں کے فائدے سے بی جے پی کوکسی یافت کا احساس نہیں ہوا۔ 
 غور کیجئے تو محسوس ہوگا کہ بی جے پی کی اس شکست کے کئی اسباب ہیں:
 پہلا سبب تو یہ ہے کہ بی جے پی نے، جس کے پاس دہلی کیلئے کوئی پروگرام نہیں تھا، اس ریاستی الیکشن کو ریاستی نہیں، قومی تصور کرلیا تھا۔ کیجریوال بجلی، پانی اور سڑک کو موضوع بناتے رہے، بی جے پی شاہین باغ اور جامعہ کو موضوع بنا کر سی اے اے مخالف احتجاج کیلئے اپوزیشن بالخصوص کانگریس اور آپ کو مورد الزام ٹھہراتی رہی جبکہ جاری احتجاج قطعی غیر سیاسی ہے۔ 
 دوسرا سبب بی جے پی کی ’’خود اعتمادی‘‘  تھا جس کا مظاہرہ ہر الیکشن میں اس طرح کیا جاتا ہے جیسے رائے دہندگان ، رائے دہندگان نہ ہوں، ہانکے ہوں کہ جنہیں ہانک کر ’’کمل‘‘ کا بٹن دبانے پر آمادہ کرنا بی جے پی لیڈران کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اب کی بار تین سو کے پار، اب کی بار ۶۵؍ پار، اب کی بار ....... جہاں بھی الیکشن ہوں وہاں کی تین چوتھائی نشستوں پر اپنا حق پہلے ہی جما دیا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو ضرورت سے بڑھی ہوئی اس خود اعتمادی کو خود اعتمادی کہنا بھی درست نہیں۔ بی جے پی کی انتخابی مہم میں گھبراہٹ بھی تھی مگر چہرہ پر خود اعتمادی ہی سجائی گئی تھی۔ 
 تیسرا سبب عوام کا یہ فیصلہ تھا کہ ترقی کا خواب دکھانے والوں کو نہیں بلکہ اُس پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے جو ترقی کا دعویٰ ہی نہیں کرتی، ٹھوس کارکردگی کا مظاہرہ بھی کرتی ہے اور عوام کو راحت کا سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ 
 چوتھا سبب ظاہر ہے کہ ملک کے حالات ہیں جن میں بے روزگاری، معاشی مندی، ترقیاتی ایجنڈے کو چھوڑ کر ( بی جے پی کا) منقسمانہ اور منتقمانہ پالیسیوں کو اپنانا اور بلاشبہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر شامل ہیں جنہیں مسلمانوں کا مسئلہ قرار دینے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر یہ کوشش بُری طرح ناکام رہی۔ 
 پانچواں سبب اُن لیڈروں کی مقبولیت کی قلعی کھلنا ہے جنہیں الیکشن جیتنے کا ماہر قرار دیا جاتا ہے۔دہلی میںوزیر اعظم مودی ، امیت شاہ، جے پی نڈا اور یوگی ادتیہ ناتھ جیسے لیڈروں کی پچاسوں ریلیوں میںشاید ایک بھی ریلی ووٹرس کو متاثر نہ کرسکی جنہوں نے شاید طے کرلیا تھا کہ ’’دہلی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK