دہلی کے انتخابی نتائج اور کانگریس

Updated: February 13, 2020, 9:43 AM IST | Editorial

دہلی اسمبلی الیکشن میں کانگریس کی مایوس کن کارکردگی کو دو طریقوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ جان بوجھ کر ہاری اور دوسرا یہ کہ اب اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رہ گئی ہے کہ ایک مختصر سی ریاست کا الیکشن جیت پائے جسے مکمل ریاست کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔ ۷۰؍ میں سے ایک بھی سیٹ پر کامیاب نہ ہونا اگر  افسوسناک ہے تو یہ حقیقت شرمناک بھی ہے کہ ۶۶؍ میں سے اس کے ۶۳؍ اُمیدوار ضمانت تک بچا نہیں پائے۔ اس کے ممتاز اور اہم اُمیدوار بھی ’’آپ‘‘ کی آندھی کے سامنے ٹک نہیں سکے۔

کانگریس پارٹی ۔ تصویر : آئی این این
کانگریس پارٹی ۔ تصویر : آئی این این

 دہلی اسمبلی الیکشن میں کانگریس کی مایوس کن کارکردگی کو دو طریقوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ جان بوجھ کر ہاری اور دوسرا یہ کہ اب اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رہ گئی ہے کہ ایک مختصر سی ریاست کا الیکشن جیت پائے جسے مکمل ریاست کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔ ۷۰؍ میں سے ایک بھی سیٹ پر کامیاب نہ ہونا اگر  افسوسناک ہے تو یہ حقیقت شرمناک بھی ہے کہ ۶۶؍ میں سے اس کے ۶۳؍ اُمیدوار ضمانت تک بچا نہیں پائے۔ اس کے ممتاز اور اہم اُمیدوار بھی ’’آپ‘‘ کی آندھی کے سامنے ٹک نہیں سکے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے اس ریاست پر پندرہ سال بلا شرکت غیرے حکومت کی ہے۔ ایک وقت تھا (۲۰۰۳ء) جب اسے ملنے والے ووٹوں کا فیصد ۴۸؍ تھا، آج صرف ۴؍ فیصد پر سمٹ گیا ہے۔ 
 سمجھا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو فتح سے دور رکھنے کیلئے یہ حکمت عملی اپنائی گئی ہوگی۔ گزشتہ دنوں راجیہ سبھا کے کانگریسی رکن پارلیمان کے ٹی ایس تلسی کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ اُنہوں نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ اُن کی پارٹی نے ممکنہ طور پر قربانی دی اور ’’آپ‘‘ کی زبردست کامیابی کا راستہ ہموار کیا ہے۔ بقول تلسی، اگر کانگریس پوری طاقت لگاتی تو ووٹوں کا بٹوارہ ہوتا اور بی جے پی کو موقع مل جاتا۔ اس کی تائید دہلی کے انتخابی منظرنامہ سے کانگریس کی گمشدگی سے ہوتی ہے۔ انتخابی میدان میں کانگریس کہیں نہیں تھی اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیٹ پر اُس کا اُمیدوار دوسرا مقام تک حاصل نہیں کرپایا۔ اس کے بڑے لیڈران مثلاً اے کے والیہ، اروند سنگھ لولی اور ہارون یوسف، سب الیکشن ہار گئے۔ 
 اگر کانگریس کا مقصد وہی تھا جو بیان کیا گیا ہے تو اس کی قدر اور ستائش تو کی جاسکتی ہے کیونکہ بصورت دیگر نتائج ویسے نہ ہوتے جیسے کہ منگل کو ظاہر ہوئے، مگر اس کا ایک پہلو کانگریس کی بے بضاعتی بھی ہے۔کانگریس اس قابل نہیں رہ گئی ہے کہ اپنے بل بوتے پر یا کسی علاقائی پارٹی کو ساتھ لے کر بی جے پی سے مقابلہ کرے۔ بلاشبہ ’’آپ‘‘ بہترین نعم البدل ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہلی میں کانگریس کی ہار کا کسی کو افسوس نہیں ہے مگر کل جب دوسری ریاستوں کے انتخابات ہوں گے جہاں ’’آپ‘‘ جیسا کوئی متبادل موجود نہیں ہوگا تب کیا ہوگا؟ کیا کانگریس وہاں بھی خود کو اسی طرح پیچھے رکھے گی؟کون نہیں جانتا کہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس ہی کرسکتی ہے کوئی اور پارٹی نہیں۔ بلاشبہ کانگریس نے گزشتہ سال راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو شکست دی ہے مگر اس میں کانگریس کی اپنی اہلیت اور مقبولیت کا کم، بی جے پی سے عوام کی بے اطمینانی اور دیگر وجوہات کا بڑا دخل تھا۔  اس سے بہت پہلے پنجاب میں ڈاکٹر امریندر سنگھ پارٹی کی کامیابی کے آرکیٹکٹ قرار دیئے گئے۔چند ماہ پیشتر، ایک زمانے تک کانگریس کا مضبوط قلعہ تسلیم کئے جانے والے مہاراشٹر میں پارٹی چوتھے نمبر پر رہی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کانگریس اپنی زمین کھو چکی ہے اور اگر اس نے مکافات عمل کا سلسلہ فوری طور پر شروع نہیں کیا تو چونکہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ کانگریس اُسی طرح ملکی سیاست سے باہر ہوجائے جس طرح دہلی سے ہوئی ہے کہ اسے  برائے نام ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ 
 کانگریس کی حالت اُس مریض کی سی ہے جسے علم ہے کہ کن امراض میں مبتلا ہے مگر وہ علاج کے نام سے بدکتا ہے اور اپنی جانچ رپورٹیں دیکھنا گوارا نہیں کرتا کیونکہ وہ اُنہیں اپنی شان کے خلاف تصور کرتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جانے میں اَنا حائل ہوتی ہے کہ کیوں جائیں، ہم طویل عرصے تک چاق و چوبند اور مکمل طور پر صحتمند رہے ہیں، بیماری ہمیں وقتی طور پر پریشان کرسکتی ہے مگر صحت ضرور لوٹ کر آئے گی کیونکہ اگر نہیں آئی تو پھر کس کے پاس جائیگی؟ ایسے مریض کا کیا حشر ہوسکتا ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ دہلی، اُس حشر کی ایک جھلک ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK