دہلی میں ہونے والا فساد اِتفاقیہ نہیں، اعلانیہ ہے

Updated: March 08, 2020, 5:24 PM IST | Dr Mushtaque Ahmed

اس فساد نے یہ ثابت کیا ہے کہ اب فساد اعلانیہ بھی ہو سکتا ہے اور ہماری انتظامیہ تماشائی رہ سکتی ہے۔ دونوں فرقوں کے جان ومال کا نقصان صرف ان کا ذاتی نقصان نہیں ہے بلکہ یہ ملک کیلئے بڑاخسارہ ہے کہ اس طرح کی واردات کی وجہ سے ملک کی ترقی کی سمت ورفتار متاثر ہوتی ہے

Delhi Riots - Pic : PTI
دہلی فساد ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 وطن عزیز میں فرقہ وارانہ فسادات کی ایک طویل فہرست ہے اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کے عہدِ حکومت میں فسادات نہ ہوئے ہوں۔آزادی سے قبل بھی اس ملک میں فرقہ وارانہ چنگاری کو شعلہ بنانے کی سازشیں ہوتی رہیں اور مذہبی منافرت کی دیواریں بھی کھڑی کی جاتی رہیں، لیکن اس وقت ان سازشوں کا سارا ٹھیکرا انگریزی حکومت کے سر پھوڑا جاتا رہا۔  یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف ملک میں ایک ایسی فضا تیار ہوئی کہ آخر کار اسے ہندوستان چھوڑ کر جانا پڑا اور ہمار ا ملک غلامی سے نجات پا سکا۔اُس وقت ہمارے جتنے بھی قومی رہنما تھے، وہ ایک طرف انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی کی تحریک چلا رہے تھے تو دوسری طرف وطن میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے بھی جد وجہد کر رہے تھے۔ بالخصوص بابائے قوم مہاتما گاندھی ، مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا محمد علی جوہر ، پنڈت جواہر لال نہرواور نیتا جی سبھاش چندر بوس نے دونوں فرقوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی کامیاب کوششیں کیں مگر انگریزی حکومت کی سازشوں اور چند ابن الوقت سیاسی لیڈروں کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا اور اس تقسیم نے فرقہ وارانہ فسادات کی بنیاد کو استحکام بخش دیا۔
 جہاں تک وطن عزیز کا سوال ہے تو یہاں آزادی کے بعد کوئی ایسی دہائی نہیں ہے جس میں فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوئے ہوں،لیکن ۹۰ء کی دہائی کے بعد سے ملک میں جس طرح فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ اب فرقہ وارانہ فساد اس ملک کا مقدر بن گیا ہے۔بالخصوص حالیہ دہائی میں جس طرح مذہبی منافرت کا زہر پھیلایا گیا ہے، اس نے ملک کی فضا کو کچھ اس طرح مکدر کردیا ہے کہ اب کب اور کہاں فرقہ وارانہ فسادات کی چنگاری شعلے کا روپ لے لے، یہ کہنا مشکل ہے؟ 
  یہاں ایک تلخ سچائی کا انکشاف بھی ضروری ہے کہ گزشتہ ۲۲؍ فروری سے ۲۵؍ فروری تک ملک کی دارالسلطنت دہلی میں جس طرح فرقہ وارانہ فساد کو انجام دیا گیا وہ فساد منظم سازش کا حصہ تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ملک کا پہلا اعلانیہ فرقہ وارانہ فساد تھا۔ کیوں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ بننے کے بعد ملک میں اس کے خلاف جمہوری طریقے سے احتجاج شروع ہوا اور اس میں دہلی کے شاہین باغ کی قیادت نے ملک کے احتجاجیوں کو نہ صرف نئی راہ دکھائی بلکہ حوصلہ بھی بخشا کہ جمہوری طریقے سے ہم عدم تشدد کی راہ پر چل کر حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔اس درمیان دہلی اسمبلی انتخاب کی وجہ سے اس جمہوری احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ۔ مرکزی حکومت کے وزراء اور حکمراں سیاسی جماعت کے لیڈروں نے اعلانیہ طورپر اس احتجاجی جلسے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اسے ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ قرار دینے کی مذموم کوششیں بھی کی گئیں لیکن اسمبلی انتخاب کے نتائج نے یہ ثابت کردیا کہ اب ملک کے عوام کو بہت دنوں تک گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔  افسوس کی بات یہ ہے کہ انتخابی تشہیر کے درمیان جس طرح کی اشتعال انگیزی ہوئی، اس کے بعد بھی وہ سلسلہ جاری رہا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی راجدھانی فرقہ وارانہ فسادات کی شکار ہوگئی اور وہ بھی اُس وقت جب دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ کا سربراہ صدر ٹرمپ دہلی میں موجود تھا۔
  فساد ات کی تاریخ پر نظرڈالئے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہر فساد کے مختلف وجوہات ہوتے ہیں۔ دہلی کے حالیہ فساد کی نوعیت بالکل مختلف ہے ۔یہ فساد اعلانیہ ہے کہ فساد شروع ہونے سے محض دو روز قبل  بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا نے دہلی پولیس کی موجود گی میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر دودنوں کے اندر جعفرآباد اور شاہین باغ کے احتجاجی جلسے ختم نہیں ہوئے تو پھر اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ اسی طرح کرنی سینا نامی ایک تنظیم نے باضابطہ ایک پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ اگر دہلی پولیس ۱۵؍ منٹ کا وقت دیتی ہے تو ہم احتجاجیوں کو سبق سکھا دیں گے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ خبر صرف ملک تک نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ ایک سنسنی خیز خبر بن گئی ۔ اس کے باوجود بھی دہلی پولیس تماشائی رہی ۔ شمال مشرق دہلی کے کئی علاقوں میں جس طرح اقلیتی طبقے کو نشانہ بنایا گیا، وہ ایک خوفناک طریقہ تھا ۔دن کے اجالے میں بھی اور رات کے اندھیرے میں بھی شرپسندوں کی بھیڑ مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہی اور بعد میں تو اکثریتی طبقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایسا صرف اسلئے ہوا کہ بیشتر شر پسند اس علاقے کے باہر کے تھے یا پھر ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تاکہ اس فساد کو یک طرفہ نہیں کہا جا سکے جبکہ یہ فساد حقیقتاً یک طرفہ تھا اور اعلانیہ تھا۔اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس کا رول بالکل غیرمنصفانہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب تک۵۰؍سے زائد مہلوکین کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ سیکڑوں شدید طورپر زخمی حالت میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں میں اپنی زندگی کی جد وجہد کر رہے ہیں۔پولیس کی طرف سے ایک ہزار سے زائد لوگوں کی گرفتاری ہوئی ہے اور ڈھائی سو سے زیادہ ایف آئی آر بھی درج ہوئے ہیں۔فساد کے بعد بھی نفرت انگیز بیان بازی کم نہیں ہوئی ہے کہ وہی کپل مشرا جس نے فساد کے دو دن پہلے پولیس کی موجود گی میں احتجاجیو ں کو سبق سکھانے کی بات کی تھی، وہ فساد کے بعد بھی جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اشتعال انگیز تقریریںکرتا رہااور دیگر لیڈروں کی بھی بیان بازیاں جاری  ہیں۔
 رضا کار تنظیموں نے کپل مشرا اور ان جیسے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والو ںکے خلاف دہلی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عزت مآب جسٹس نے اس کی سماعت بھی کی لیکن افسوسنا ک بات یہ ہے کہ جس دن عزت مآب جسٹس نے اس پٹیشن کی سماعت کی، اسی رات ان کا تبادلہ پنجاب کردیا گیا ۔آخر حکومت کی کیا مجبوری تھی؟ اگر چہ یہ حکومت کے اختیار میں ہے کہ وہ انتظامی امور میں یا عدلیہ کے معاملے میں قانونی طریقے سے جب جسے چاہے جہا ں بھی تبادلہ کرے لیکن جس وقت یہ تبادلہ ہوا ہے، اس پر سوال اٹھنا لازمی ہے اور یہ عمل لمحۂ فکریہ بھی ہے۔دہلی فساد کی وجہ سی اے اے کے خلاف احتجاجی دھرنا بتایا جا رہاہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے اس شہریت ایکٹ کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں عرضداشت دی گئی ہے لیکن ہماری عدلیہ اس پر فوری کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے اور تاریخ پہ تاریخ بڑھتی جا رہی ہے۔ نتیجہ ہے تین ماہ سے پورے ملک میں اضطرابی کیفیت ہے اور اس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہندوستان کی شناخت بھی مجروح ہوئی ہے۔
 دہلی فساد کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی یہ فکر مندی ظاہر کی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں مذہبی منافرت کا دائرہ روز بروز بڑھ رہا ہے اور حقوقِ انسانی کی پامالی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کی ہے ۔اس کا قانونی اختیار اسے ہے یا نہیں اس پر بحث مقصود نہیں ہے بلکہ ہندوستان کیلئے  یہ لمحۂ فکریہ  ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اکثریتی طبقہ ہو کہ اقلیتی طبقہ ،کسی کو بھی ملک میں منافرت پھیلانے کی آزادی نہیں ہے اور نہ ملک کی سا  لمیت کے خلاف کسی طرح کے عمل کی آزادی ہے۔اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اقلیتی طبقے میں بھی مٹھی بھر لوگ ایسے ہیں جو اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہیں لیکن سوال سب سے بڑا یہ ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی اور غیر آئینی عمل کو جاری رکھنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے اور اگر کہیں ہو بھی رہی ہے تویک طرفہ کیوں؟ملک میں امن وچین کی بحالی کیلئے یہ ضروری ہے کہ تمام طبقے کے لوگ اس کے خلاف صف بند ہوں ۔
  دہلی فساد نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب ملک میں اعلانیہ فساد بھی ہو سکتا ہے اور ہماری انتظامیہ تماشائی رہ سکتی ہے۔ دونوں فرقے کے لوگوں کی جان ومال کے نقصانات صرف ان کے ذاتی نقصانات نہیں ہیں بلکہ اس ملک کیلئے بہت بڑاخسارہ ہے کہ اس طرح کی واردات کی وجہ سے ملک کی ترقی کی سمت ورفتار متاثر ہوتی ہے۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے حکومت اپنے سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک کی سالمیت کیلئے ان تمام پر نکیل کسے جو سماج میں منافرت پھیلا رہے ہیں، حکومت کا یہ آئینی فرض ہے۔اسلئے اس فساد میں جن کی بھی جانیں گئی ہیں اور ان کے زندگی بھر کے اثاثے ختم ہوئے ہیں وہ  ملک کو ترقی یافتہ  بننے کی راہ میں ایک بڑا رخنہ پیدا کر سکتا ہے ۔
 بہر کیف! اس فساد پر سیاست بھی ہوگی کہ یہ فساد صرف سیاسی مفاد کیلئے ہی انجام دیا گیا ہے لیکن ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے ہندوستانیوں نے جس طرح اس فساد کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف صف بند ہورہے ہیں اس سے یہ امید بھی جگی ہے کہ ملک میں ابھی چراغِ انسانیت گل نہیں ہوا ہے اور یہ خوف و ہراس کا اندھیرا مٹے گا اور ضرور مٹے گا۔مجروح ؔ سلطانپوری نے کبھی کہا تھا کہ    ؎
چاہے وہ کسی کا ہو  لہو  دامنِ گل پر 
صیّاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK