نا موافق حالات میں بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں

Updated: October 09, 2020, 12:38 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

انسان کا اچھا اخلاق، اس کی شخصیت کا نہایت ہی امتیازی پہلو ہے اور اس صفت کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ ہر حالت میں اس کا مظاہرہ ہو؛ کیونکہ جب حالات موافق اور ساز گار ہوں تو کسی کے لئے بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ مشکل کام نہیں ہے لیکن ناموافق حالات اور ناخوشگوار مواقع پر اچھے اخلاق مظاہرہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں پہنچ کر ایک شخص کے با اخلاق ہونے کے معیار کا پتہ چلتا ہے

Muslim - Pic : INN
مسلمان ۔ تصویر : آئی این این

کسی انسان کا اچھا اخلاق، اس کی شخصیت کا نہایت ہی امتیازی پہلو ہے اور اس صفت کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ ہر حالت میں اس کا مظاہرہ ہو؛ کیونکہ جب حالات موافق اور ساز گار ہوں تو کسی کے لئے بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ مشکل کام نہیں ہے لیکن ناموافق حالات اور ناخوشگوار مواقع پر اچھے اخلاق مظاہرہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں پہنچ کر ایک شخص کے با اخلاق ہونے کے معیار کا پتہ چلتا ہے۔ اس تمہید کے بعد ہمارے ذہن میں یہ بات ضرور رہے کہ اسلام میں اخلاقیات کا منبع دل اور  روح ہے اس وجہ سے اسلام کی تعلیم کو سمجھنے والوں کے لئے موافق اور مخالف دونوں حالتوں میں اخلاقیات کا مظاہرہ آسان ہے؛کیونکہ وہ دکھاوے کے لئے اور اپنی سہولت سے با اخلاق نہیں بنتا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’ایک ایمان والا نہ ہی بہتان لگانے والاہوتا ہے نہ ہی گالم گلوج کرنے والا اور نہ ہی بے حیا یا بد لحاظ۔‘‘(مسلم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک سے امت مسلمہ کو یہ پیغام د یا ہے کہ ایک سچے پکے مسلمان کو ان اوصاف رذیلہ سے پاک ہونا چاہئے، بالفاظ دگر اسے بد اخلاق نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح کی واضح رہنمائی کے باوجود افسوس کا مقام یہ ہے کہ حالات سے جلد متا ثر ہو کر ہم میں سے بہت سے لوگ چشم زدن میں با اخلاق سے بد اخلاق بن جاتے ہیں۔ہم میں سے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کا ماننا ہے کہ ناموافق حالات میں کبھی بدلحاظ بننا ہماری مجبوری بن جاتی ہے،اس طور پر کہ کبھی لوگ بلا وجہ غصہ دلادیتے ہیں یا بد تمیزی پر اتر آتے ہیں یا یہ کہ اس طرح کے حالات میں خاموشی نقصان دہ ہے۔ بلا شبہ سوچنے کا یہ غلط طریقہ ہے جس سے ناقابل تلافی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہتا ہے یا تمہیں عار دلاتا ہے کسی ایسی چیز کے بارے میں جو تمہارے اندر ہے جس سے وہ واقف ہے تو بدلے میں تم اسے اس چیز کے بارے میں شرم نہ دلاؤ جو اس کے اندر ہے جس سے تم واقف ہو؛ اسے اپنی بدزبانی کا برا نتیجہ بھگتنے دو  اور تم اس کے بدلے میں ثواب حاصل کرتے رہو لہٰذا لعن طعن مت کرو۔‘‘ (صحیح الترغیب) اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ اگر کوئی اخلاق سے نیچے اتر آئے تو جواب میں ہم بھی اخلاق سے نیچے نہ گر جائیں۔
ملا علی قاری ؒفرماتے ہیں: ’’ بے شرمی اور بد زبانی مکمل طور پر مذموم صفات ہیں جو کسی بھی ایمان والے کو زیب نہیں دیتیں۔ جنہیں اللہ رب العزت نے ہدایت سے نوازا ہے، انہیں چاہئے کہ وہ بے شرمی اور بدزبانی سے بچیں، اپنی زبان کو مہذب اور  اچھائی کا عادی بنائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ  سے روشنی حاصل کریں کیونکہ وہ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر ہیں۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح)
موضوع کی مناسبت سے یہاں ایک نکتے کی وضاحت بہت اہم ہے کہ آج کل کے بہت سارے بچے جب نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان کا برتا ؤ اپنے والدین اور بڑوں سے کافی بدل جاتا ہے۔ وہی ماں باپ اور بڑے جن سے انہیں بے پناہ پیار ملتا ہے جب ضرورت پر ان کی طرف سے تنبیہی کلمات کہے جاتے ہیں تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ `اب ہم بڑے ہوگئے ہیں، ہمیں روکا ٹوکا نہ جائے۔  اس طرح کے مباحثے میں یہ بچے کافی ترش ہو جاتے ہیں۔ غور طلب  بات یہ ہے کہ بچوں کی یہ بد اخلاقی ان لوگوں کے ساتھ ہے جن کو شریعت نے عزت کے اونچے مقام پر بٹھایا ہے، اس لئے اِس بد اخلاقی کی خطرناکی اس طرح اور بڑھ جاتی ہے کہ اس میں شریعت کے دو احکام کی خلاف ورزی پائی جا رہی ہے۔اس وجہ سے آج کی نو جوان نسل کو اس غلطی کو جلد از جلد سدھار لینا چاہئے تاکہ وہ دُہرے جرم کے مرتکب نہ ہوں۔خلاصہ یہ ہے کہ ہماری بات چیت اور برتاؤ ہمارے اخلاق کا مظہر اور ذہنی کیفیت کے عکاس ہیں، اس سے یہ فیصلہ بھی ہوتا ہے کہ ہم باعزت و با اخلاق لوگوں کی صف میں شامل ہیں یا بے عزت و بد اخلاق لوگوں کی فہرست میں۔ اس لئے آئیے ہم یہ عہد کریں کہ اسلامی اصولوں پر چل کر اپنی زندگی کو اخلاق کے بلند معیار پر استوار کرنے کی کوشش کریں گے اور اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو یاد رکھیں گے کہ:’’ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، یا تو وہ اچھی بات بولے یا خاموش رہے۔‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK