دین اسلام میں علم میراث کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میراث کی وجہ سے دولت و جائیداد نہ صرف حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہے بلکہ ان خرابیوں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے جو دولت و جائیداد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: January 26, 2024, 12:39 PM IST | Sumayya Aamir Khan | Mumbai
دین اسلام میں علم میراث کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میراث کی وجہ سے دولت و جائیداد نہ صرف حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہے بلکہ ان خرابیوں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے جو دولت و جائیداد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
دین اسلام میں علم میراث کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میراث کی وجہ سے دولت و جائیداد نہ صرف حقیقی مستحقین تک پہنچتی ہے بلکہ ان خرابیوں کا بھی خاتمہ ہوتا ہے جو دولت و جائیداد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ میراث کی تقسیم ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ یہ نظام اتنا اہم کیوں ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نماز کے متعلق کئی تفصیلات قرآن میں نہیں بلکہ احادیث میں موجود ہیں، اسی طرح روزہ اور زکوٰۃ کے بھی کئی مسائل وحی غیر متلو میں بیان کئے گئے ہیں لیکن وراثت سے متعلق مکمل تفصیلات و مسائل کو مقدس کتاب قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے وارثوں کے کُل حصے قرآن میں متعین کر دیئے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کے رسول ﷺ نے خود وراثت کی تقسیم کے علم کو نصف علم قرار دیا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ’’تم علم فرائض (علم میراث) سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھاؤ کیونکہ میں وفات پانے والا ہوں اور بلاشبہ عنقریب علم اٹھایا جائے گا اور بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی حصہ میراث کے بارے میں آپس میں جھگڑا کریں گے اور انہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو ان کے درمیان اس کا فیصلہ کرسکے۔ ‘‘
نبی ﷺ نے اس علم کو پڑھنے پڑھانے کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ’’علمِ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ یہ نصف علم ہے، اس کے مسائل لوگ جلدی بھول جاتے ہیں، یہ پہلا علم ہے جو میری امت سے اٹھالیا جائے گا۔ ‘‘ (ابن ماجہ) اسی طرح حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا ’’میراث کے مسائل کو سیکھا کرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا ایک حصہ ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وراثت کے لحاظ سے وارثوں کے حصوں کو جس تفصیل سے واضح طور پر بیان کیا ہے اس تفصیل سے کسی اور عبادت کے احکام بیان نہیں کئے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کو انہی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا فرض ہے جو قرآن میں مذکور ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ مردوں کا اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کا بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اگرچہ تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر ہے۔ ‘‘ (النساء:۷)
وراثت کی سابقہ تقسیم میں قرآن مجید کی آیات کے علاوہ سنت رسول اور عملِ صحابہ سے بھی بہت سے دلائل سامنے آتے ہیں لیکن اختصار کے پیشِ نظر یہاں اس سلسلے کی صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’وراثت کے حصے پہلے ان کے مستحقین تک پہنچا دو پھر ان کو دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ مردوں میں سے میت کے زیادہ قریبی رشتے دار یعنی عصبہ کا حق ہے۔ ‘‘ (بخاری)
وارثت کے تعلق سے چند اہم اصول و ضوابط :
۱۔ وراثت صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس کی حق دار ہیں۔
۲۔ وراثت ہر حال میں تقسیم ہونی چاہئے خواہ وہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
۳۔ وراثت کا قانون ہر قسم کے مال و ملکیت پر جاری ہوگا خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ، زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور مال کی صنف میں شمار ہوتے ہوں۔
۴۔ وراثت کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وارث نے کوئی مال چھوڑا ہو۔ کوئی شخص کسی کی زندگی میں اس کا وارث نہیں ہو سکتا۔
۵۔ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار وراثت نہیں حاصل کرپائے گا جس کی تفصیلات موجود ہیں اور جن کا جاننا لازمی۔
میراث کا مسئلہ ہمارے معاشرے کا سنگین مسئلہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگ میراث کی تقسیم کے حوالے سے غفلت برتتے ہیں۔ اکثر تو (تقس) کرتے ہی نہیں اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو عام طور پر اس میں لڑکیوں کو میراث سے محروم کیا جاتا ہے۔ بہنوں کو بہلا پھسلا کر اپنے حق میں بیان دلوا کر ان کا حصہ بھی لے لیا جاتا ہے، حالانکہ بسا اوقات وہ خود بھی ضرورت مند ہوتی ہیں لیکن مروت میں آکر معاشرہ میں باتوں اور طعنوں سے بچنے کیلئے مجبوراً بھائیوں کے حق میں اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں۔ لہٰذا عورتوں کو ان کے حق سے محروم کرنا یا معاشرتی دباؤ میں لاکر ان سے زبردستی حق لینا حرام ہے کیونکہ دلی رضامندی کے بغیر کسی کا مال لینا جائز نہیں ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ لڑکیوں کو محروم کرکے یا کسی بھی جائز وارث کو محروم کرکے جو میراث تقسیم ہوگی وہ ناجائز اور حرام ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر میراث کی تقسیم کا حکم بتادیا ہے، اور جو لوگ اس تقسیم کے مطابق میراث تقسیم نہیں کرتے ان پر سخت وعید فرمائی گئی ہے۔
’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن سزا ہے۔ ‘‘
( سورہ النساء :۱۴)
لیکن سخت افسوس کی بات ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے یہودیوں جیسی جسارت کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا۔ اس قانون وراثت کے معاملے میں جو نافرمانیاں کی گئی ہیں وہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت کی حد تک پہنچتی ہیں۔ کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور پر محروم کیا جاتا ہے، کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے، کہیں سرے سے تقسیم میں میراث کے طریقے کو چھوڑ کر’مشترکہ خاندانی جائیداد‘کا طریقہ اختیار کرلیا جاتا ہے اور کہیں پر عورتوں اور مردوں دونوں کا حصہ برابر کردیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلمان قانون وراثت کے معاملے میں حدود اللہ کو پامال کرتے آرہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں صرف جاہل اور ان پڑھ طبقہ ہی ملوث ہے بلکہ بسا اوقات اچھے خاصے دیندار قسم کے لوگ بھی اس جرم کا ارتکاب کرتے نظر آتے ہیں، مختلف بہانوں سے ماں، بہن، بیٹی اور دیگر حقداروں کو میراث سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ قرآن میں وراثت کی ادائیگی کو حدود اللہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی ادائیگی پر جنت کی بشارت دی ہے اور ادائیگی نہ کرنے پر جہنم کی سزا سنائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کے تمام احکام پر عمل کرنے والا اور دین شریعت کے مطابق صحیح فیصلے کرنے والا بنائے اور حقدار کا حق مارنے جیسے فعل بد سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین