Inquilab Logo Happiest Places to Work

شخصیت سازی کے چند اصول جن کے ذریعے خود میں تبدیلی لا سکتے ہیں

Updated: May 08, 2026, 4:51 PM IST | Saadiya Karim | Mumbai

انسان کی شخصیت معاشرے میں اس کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ مضبوط اور متوازن شخصیت انسان کا وقار ہے۔ ہمیں اپنی شخصیت میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے خوداحتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔

A person who values ​​time is always successful. Photo: INN
وقت کی قدر کرنے والا انسان ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کی شخصیت معاشرے میں اس کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ مضبوط اور متوازن شخصیت انسان کا وقار ہے۔ ہمیں اپنی شخصیت میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے خوداحتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر آپ اپنی شخصیت کے منفی اور کمزور پہلوؤں پر توجہ نہیں دیتے تو آپ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

انسانی شخصیت کو بہتر اور نفع بخش بنانے کے لئے چند اصول درج ذیل ہیں:

خود احتسابی: خود احتسابی سے مراد ہے روزانہ اپنے رویوں اور فیصلوں کا جائزہ لینا۔ ان میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنا۔ کیونکہ اپنی غلطیوں اور خامیوں کو قبول کرنا ہی بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس بارے میں واضح ہدایت موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل یعنی آخرت کے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ ‘‘(سورہ الحشر :۱۸)

یہ بھی پڑھئے: بزدلی کو مضبوط ایمان، توکل علی اللہ اور صبر سے دور کریں

خود احتسابی کے بارے میں ہمارے نبی و رسول سرکار دوعالمؐ کی احادیث بھی ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ آپؐ  نے فرمایا:’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے۔ ‘‘ (صحیح ترمذی)

قرآن مجید کہتا ہے کہ اپنے ’’کل کو دیکھ‘‘ اور حدیث مبارکہ کہتی ہے کہ ’’اپنا حساب خود کرلو‘‘۔ جو انسان روز اپنا احتساب کرتا ہے اس کی شخصیت خود بخود سنورتی جاتی ہے۔

 مثبت سوچ اپنانا: شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مسائل میں مواقع تلاش کیے جائیں۔ منفی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے ان کے حل کے بارے میں غوروفکر کرنا چاہئے اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’پس بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ‘‘ (الم نشرح:۵۔۶)

 صحیح بخاری و مسلم میں حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ ‘‘ یعنی جیسا اللہ سے گمان رکھا جائے ویسا ہی ملتا ہے۔ مثبت سوچ کا سب سے بڑا اصول ہے کہ اچھا گمان رکھیں تو اچھا ہی ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میرا رَب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں‘‘

 بااخلاق رہنا اور سچ بولنا: سچ بولنا بہت ہی اعلیٰ اور قیمتی عادت ہے۔ سچ بولنے سے وقتی نقصان ہوسکتا ہے مگر لمبے عرصے میں یہ عادت ہمیشہ انسان کے وقار کا باعث بنتی ہے۔ لوگ اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہر ایک کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا بھی حسن شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسروں کو عزت دیں کیونکہ کردار ہی انسان کی اصل پہچان ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور لوگوں سے نہ پھیر کر بات نہ کر اور زمین پر اکڑ کر نہ چل، بے شک اللہ کسی اِترانے والے، شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (لقمان:۱۸)

اسی طرح نبی کریمؐ  کا فرمان عالیشان ہے کہ’’مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ ‘‘ (سنن ترمذی)

آیت اور حدیث مبارکہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو ہر ایک کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ تکبر، شخصیت کے حسن کو داغ دار کردیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: درود کا کثر ت سے وِرد قیامت کے دن عرش کے سائے کا ذریعہ ہے

 دوسروں کی بات غور سے سننا: بات کو سننے کی عادت بولتے رہنے سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ لوگ ایسے انسان کو پسند کرتے ہیں جو ان کی بات کو عمل و سکون سے سنے اور سمجھے اور حالات کے مطابق بہترین مشورہ دینے والا ہو۔ جب کوئی دوسرا بات کررہا ہو تو اسے درمیان میں نہ ٹوکا جائے۔ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ ‘‘ (الزمر)

حدیث مبارکہ میں بھی اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ ارشاد نبویؐ   ہے: ’’اللہ کے رسولؐ کا طریقہ تھا کہ جب کوئی آپؐ  سے بات کرتا تو آپؐ  پورا چہرہ اس کی طرف کرلیتے اور پوری توجہ سے سنتے۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

 وقت کی پابندی:  وقت کی قدر کرنے والا انسان ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی قدرت کا قانون ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’زمانے کی قسم بے شک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ ‘‘ (العصر)

یہ بھی پڑھئے: غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم اٹھائی ہے جس چیز کی قرآن میں قسم اٹھائی جائے وہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔ وقت ضائع کرنا ہی اصل خسارہ ہے اور وقت کی پابندی اصل کامیابی ہے۔ حدیث مبارکہ میں بھی وقت کی پابندی کرنے سے متعلق رہنمائی دی گئی ہے۔ ارشاد نبویؐ  ہے: ’’قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ کہاں گزاری۔ ‘‘ (سنن ترمذی)

یعنی انسان کی زندگی کے لئے ایک ایک لمحے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور وقت کی پابندی کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK