Inquilab Logo Happiest Places to Work

بزدلی کو مضبوط ایمان، توکل علی اللہ اور صبر سے دور کریں

Updated: May 08, 2026, 4:40 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

روحانی بیماریوں میں ایک بڑی اور مہلک بیماری بزدلی ہے، جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

The question is not about the number or number of Muslims, but about their strength of faith. Photo: INN
سوال مسلمانوں کی قلت یا کثرت کا نہیں، بلکہ ان کی قوت ِ ایمان کا ہے۔ تصویر: آئی این این

روحانی بیماریوں میں ایک بڑی اور مہلک بیماری بزدلی ہے، جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ محض ایک نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی عارضہ ہے جو انسان کے ارادے، حوصلے اور ایمان کی حرارت کو ماند کر دیتا ہے۔ بزدل انسان نہ اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً وہ دینی اعتبار سے بھی کمزور ہو جاتا ہے اور دنیاوی میدان میں بھی پسماندگی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی لئے اسلامی تعلیمات میں خاص طور پر بزدلی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ یہ صفت انسان کو عزت و وقار سے محروم کرکے ذلت و غلامی کی طرف دھکیل دیتی ہے، جبکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو جرأت، استقامت اور حق گوئی کا پیکر دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹیاں بغیر در و دیوار کا مدرسہ ہیں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بزدلی سے سختی کے ساتھ روکا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۳۹) اس آیت میں واضح طور پر بزدلی اور کم ہمتی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا شیوہ کمزوری اور شکست خوردگی نہیں بلکہ عزم و استقلال ہے، کیونکہ اس کا سہارا اللہ کی ذات ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺنے بھی بزدلی سے پناہ مانگی ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی، سستی اور بزدلی سے۔‘‘ (صحیح بخاری)

اسلامی تعلیمات بزدلی کے علاج کے لئے نہایت جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ سب سے پہلے ایمان کو مضبوط کرنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے تو اس کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اسی طرح توکل علی اللہ، صبر، اور جہاد بالنفس کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ انسان مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکے۔ قرآن کی تلاوت، سیرتِ نبویؐ  کا مطالعہ، اور صالحین کی صحبت بھی انسان کے اندر جرأت و ہمت پیدا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ حق بات کہنے کی عادت ڈالنا، چاہے وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو، انسان کو آہستہ آہستہ بزدلی سے نجات دلاتا ہے۔ دعا کا اہتمام بھی ضروری ہے، جیسا کہ آپؐ  نے بزدلی سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی، تاکہ اللہ تعالیٰ دلوں کو مضبوط اور ثابت قدم بنا دے۔

یہ بھی پڑھئے: غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے

موجودہ دور میں اگر امت مسلمہ کے زوال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بڑی وجہ بزدلی بھی نظر آتی ہے۔ آج مسلمان تعداد میں کم نہیں، وسائل بھی کسی حد تک موجود ہیں، لیکن جرأت و استقامت کا وہ جوہر کھو چکے ہیں جو ان کی پہچان تھا۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہچکچاہٹ، حق کے لئے کھڑے ہونے میں پس و پیش اور باطل قوتوں کے سامنے مرعوبیت ،یہ سب بزدلی کی علامات ہیں۔ اسی بزدلی نے امت کو فکری، سیاسی اور سماجی میدانوں میں کمزور کر دیا ہے، حالانکہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ عزت و غیرت کے ساتھ جینے کا درس دیا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں جرأت و بہادری کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی پہچان جرأت، بے باکی اور حق گوئی سے تھی۔ وہ باطل کے سامنے ڈٹ جانے والے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے اور میدانِ عمل میں بے خوف و خطر آگے بڑھنے والے تھے۔  یہی جرأت وبےباکی تھی جس نے ابتدائی مسلمانوں کو قلیل تعداد کے باوجود عظیم فتوحات سے ہمکنار کیا۔ چاہے وہ جنگ بدر ہو، جہاں ۳۱۳؍  نے ہزاروں پر غلبہ پایا، یا دیگر معرکے جہاں وسائل کی کمی کے باوجود ایمان کی قوت غالب رہی، ہر جگہ یہی حقیقت سامنے آئی کہ اصل طاقت ایمان اور حوصلے میں ہے، نہ کہ صرف ظاہری اسباب میں۔ آج بھی اگر مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت و طاقت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنا ہوگا، جرأت و استقامت کو اپنانا ہوگا، ایمان کو تازہ کرنا ہوگا، اور حق کیلئے ڈٹ جانے کا عزم پیدا کرنا ہوگا۔ جب امت اپنے اندر یہ تبدیلی لے آئیگی تو اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی اور دنیا ایک بار پھر مسلمانوں کی عزت و سربلندی کی گواہی دے گی۔

یہ بھی پڑھئے: اللہ کے مہمانو! ذرا سوچو اور غور کرو

بزدلی کے ۵؍ اسباب 
(۱)  کمزور ایمان ۔ جس کا اللہ پر یقین متزلزل ہو وہ مشکلات کے سامنے ڈٹ نہیں سکتا۔
(۲)  دنیا کی محبت اور موت کا خوف ، جو انسان کو حق بات کہنے سے روکتا ہے۔ 
(۳) خود اعتمادی کی کمی جس کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو کمزور اور بے بس سمجھنے لگتا ہے۔ 
(۴)  سبب غلط تربیت اور ماحول ، جہاں بچوں کو جرأت اور حق گوئی کے بجائے بے جا خوف اور مصلحت سکھائی جاتی ہے۔ 
(۵)  گناہوں کی کثرت، کیونکہ گناہ دل کو کمزور اور بزدل بنا دیتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK