ذی الحجہ: انسانی عظمتوں کی معراج اور اس مہینہ کی عظیم قربانیوں سے وابستہ ہے

Updated: July 09, 2021, 5:39 PM IST | Maulana Khalid Nadvi Ghazipuri

اسلامی تقویم کا آخری مہینہ عیدالاضحی ہے جس کو عام طور پر بقرعید بھی کہا جاتا ہے۔ اس مہینہ کی آمد سے قربانیوں کا وہ عظیم تصور پیدا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کا شعار رہا ہے۔

Pilgrims gather in Arafat Square on the 9th day of the first decade of Dhu al-Hijjah.Picture:INN
ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی ۹؍تاریخ کو حجاج کرام میدان ِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔تصویر :آئی این این

 اسلامی تقویم کا آخری مہینہ عیدالاضحی ہے جس کو عام طور پر بقرعید بھی کہا جاتا ہے۔ اس مہینہ کی آمد سے قربانیوں کا وہ عظیم تصور پیدا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کا شعار رہا ہے۔
 انسانی عظمتوں کی معراج اس مہینہ کی عظیم قربانیوں سے وابستہ ہے۔ یوں تو پورا مہینہ خدا کی قدرتوں اور حکمتوں کی نیرنگیوں کا آئینہ دار ہے لیکن عشرۂ اولیٰ (شروع کے دس دن) کی عظمتوں کا کیا پوچھنا، اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمتیں اس کے بندوں پر کس کس انداز میں سایہ فگن ہوتی ہیں اور اس کی نوازشیں کس کس عنوان سے اس کے دامنِ مراد کو بھرتی ہیں، احادیث ِ نبوی کے آئینہ میں ان کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
 یوں تو پورا عشرہ نہ صرف برکتوں اور سعادتوں سے بھرا ہوا ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ولولہ، انقیاد ، تسلیم و رضا اور ایثار و قربانی کی تاریخ وابستہ ہے جو اپنی فطری تعلیمات اور اپنے پیغام کی دلکشی اور ہمہ گیری کی وجہ سے مسلمانوں ہی کے نہیں، دنیا کی دیگر اقوام کے بھی پیشوا سمجھے گئے ہیں۔
 جہاں تک ان دنوں کی غیرمعمولی خصوصیات کا تعلق ہے، اسلامی تعلیمات میں ان کا مقام بہت اونچا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں، آئیے ان عظمتوں کی تحصیل کی کوشش کریں۔ حضور ﷺ  نے کس پیارے اسلوب میں ان عظمتوں کی نشاندہی فرمائی ہے ۔ ایک حدیث میں فرمایا ہے:
 ’’اچھے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی دن ان دنوں سے زیادہ پسند نہیں۔‘‘ (ترمذی)
 ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا :
 ’’ذی الحجہ کے دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب دنوں سے افضل ہیں۔ ان دنوں میں عبادت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبرکہتے رہو،  ذکر الٰہی بہت کرتے رہو اور ان دنوں میں ایک روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور نیکیوں کا ثواب سات سو نیکیوں تک ہے۔‘‘  (الترغیب والترہیب)
 اس پورے عشرہ میں نویں تاریخ،  جسے عرفہ کہا جاتا ہے، ایک خاص حیثیت کی حامل ہے۔ حدیث پاک میں ایک خاص انداز میں اس کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ پورے سال کے دن سے اس کو افضل گردانا گیا ہے۔ اس خاص دن کے اعمال کی فضیلت نہایت ہی اثرانگیز انداز میں یوں بیان فرمائی گئی ہے، ارشاد ہے:
 ’’عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں سے بہت قریب ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں اور ان کے بابرکت اعمال کو فرشتوں کے سامنے رکھتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے، فرشتو! دیکھو ، یہ ہیں میرے بندے ۔‘‘
 اس کے روزوں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: ’’جو شخص عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو روزہ رکھے گا اللہ جل شانہ‘  اس ایک دن کے روزے کو  ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کی لغزشوں کا کفارہ  بنا دے گا۔‘‘  (مسلم)
 اسلام کے عظیم رکن حج   کی ادائیگی کے لئے  لاکھوں انسان اسی  تاریخ کو میدان عرفات میں اپنے مالک کے حضور میں جمع ہوتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے اپنے مالک کو یاد کرتے ہیں، کبھی جبلِ رحمت کو دیکھتے ہیں اور اس تصور میں کھو جاتے ہیں کہ اسی تاریخ میں سیدالمرسلین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ نے اسی پہاڑی کے دامن میں اپنے ایک لاکھ  سے زائد جاں نثاروں کے ساتھ وقوف فرمایا تھا، اللہ کے حضور میں گڑگڑا کر دعائیں کی تھیں۔ لہٰذا حجاج کرام سربرہنہ چلچلاتی ہوئی دھوپ میں اللہ کے حضور کھڑے ہوکر دعاؤں  میں مصروف رہتے ہیں۔ غیرحجاج کے لئے اس دن روزے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ اس تصور کا استحضار قائم رہے لہٰذا اس دن خاص طور پر روزوں کا اہتمام کرنا چاہئے۔
 عشرۂ ذی الحجہ کی ان عظمتوں کا تصور کیجئے اور ان آیتوں کی تلاوت کیجئے: اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ’’والفجر ولیالٍ عشر۔‘‘ ترجمہ: قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔  اکثر مفسرین نے اس سے مراد ذی الحجہ کی ان دس راتوں کو لیا ہے،  تو جس عشرہ کی خالق کائنات نے قسم کھائی ہو اس کی عظمتوں کا کیا پوچھنا، لیکن افسوس کہ یہ پورا عشرہ ہماری غفلتوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت، پلاؤ، زردہ، بریانی، قورمہ، سویاں اور دیگر اشیاء کی فراہمی میں ہمارا  سارا وقت صرف ہوجاتا ہے اور ہم اس طرف توجہ نہیں دے پاتے، حالانکہ قربانی کا عظیم فریضہ ادا کرنے کیلئے بھینس، بکرا ، دنبہ یا اونٹ، وغیرہ کسی بھی شکل میں ذبح کرنے  سے پہلے ضروری تھا کہ  پہلے اپنے نفس کی قربانی جو اطاعت و انقیاد اور تسلیم و رضا کی فکر کرلیتے اور وہی مطلوب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔‘‘ (الحج:۳۷) یعنی بارگاہِ رب العزت میں شرف قبولیت  اسی کو ملتا  ہے اور روزہ  سراسر اسی طاعت و انقیاد کے استحضار کا نام ہے ۔ ’’لعلکم تعلقون‘‘ روزہ اس لئے فرض کیا گیا تاکہ تم متقی ہوجاؤ۔ اس آیت میں روزہ کے اسی استحضار کی معنویت اور اثرانگیزی کو بیان کیا گیا ہے اور قربانی سے پہلے اس عشرہ میں روزہ کی ترغیب دے کر انسان کو اس بلند مقام پر فائز کرنے کی عملی ترکیب بتا دی گئی جہاں سے اس کی قربانیاں زمین پر خون گرنے سے پہلے مقبول ہوجاتی ہیں۔
 اسلامی عید کا تصور بھی یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبدیت کا تصور قائم ہو ، اپنے گناہوں کو یادکیا  جائے اور اپنے مالک کے احسانات عمیم کا شکر ادا کیا جائے،  اس کے شکر کا طریقہ خانہ ساز نہیں بلکہ اس نے خود فرمایا: ’’ اور یہ اس لئے کہ تم اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘    (سورہ البقرہ:۱۸۵)
 یہی وجہ ہے کہ عشرۂ ذی الحجہ میں کثرت سے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کے ورد کا حکم دیا گیا  ہے۔ بلکہ نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر کی نماز تک تکبیرات تشریق کا کہنا واجب قرار دیا گیا ہے۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK