سدھا مورتی کی ڈائری

Updated: March 22, 2021, 3:50 PM IST | Abuikhlas

نارائن آج پھرلیٹ ہوگئے۔ دوڑتے بھاگتے ہوئے آئے اور ہانپتے ہوئے کہنے لگے کہ میٹنگ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی اورمیں چاہتے ہوئےبھی وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ میں ہمیشہ کی طرح خاموش رہی ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس شخص کیلئے انفوسس دنیا کی ہرچیز سے زیادہ اہم ہے۔

Sudha Murty. Picture:INN
سدھا مورتی۔تصویر :آئی این این

پہلا ورق
 نارائن آج پھرلیٹ ہوگئے۔ دوڑتے بھاگتے ہوئے آئے اور ہانپتے ہوئے کہنے لگے کہ میٹنگ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی اورمیں چاہتے ہوئےبھی وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ میں ہمیشہ کی طرح خاموش رہی ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس شخص کیلئے انفوسس دنیا کی ہرچیز سے زیادہ اہم ہے۔ میز  پر رکھا کیک دیکھا تو پوچھنے لگے کہ کون سی سالگرہ ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں۷۰؍ سال کی ہوچکی ہوں۔ اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے، آپ اور۷۰؍ سال....  غلط ، جتنا کام آپ اس عمر میں کرلیتی ہیں اتنا تو ۱۷؍ سال کی لڑکی بھی شاید ہی کرسکے۔ ’’ٹھیک ہے تو مجھے ۱۷؍ سال کی لڑکی سمجھ لیجئے اورکیک کھایئے۔‘‘نارائن بچوں کی طرح کیک پر ٹوٹ پڑے تو مجھے پونے کا وہ غریب نارائن یادآگیا جس کی جیب میں پیسے تونہیں ہوتے تھے مگر وہ ہرہوٹل میں پارٹی کرنے کو تیار رہتا تھا۔ اپنے عشق کے جنون میں لنچ اورڈنر کی دعوت تو دے دیتا لیکن ہر باریہی کہتا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، آپ حساب رکھیں جس دن مجھے ڈھنگ کا کام مل جائے گا میں سود سمیت لوٹا دوں گا۔ میں بھی عجیب طبیعت کی مالک تھی، باقاعدگی سے حساب لکھتی تھی۔ نارائن سے میری ملاقات میرے ہم جماعت پر سنّا کے توسط سے ہوئی تھی ۔ نارائن اتنا شرمیلا اورکم گو تھا کہ ہماری ملاقات کے دوران اس نے مشکل سے چند جملے کہے تھے ۔ دوسرے دن پرسنّانے بتایا کہ آج  پہلی بار نارائن نے کتابوں پر گفتگو کرنے کے بجائے صرف میرے متعلق باتیں کی ہیں۔ دوستی کے اس عرصے میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ نہایت ایماندار اوراپنے کام کے تئیں بے حد ذمہ دار ہے ۔ اتفاقاً مجھے Telco میں فوراً ہی ملازمت مل گئی تھی مگر نارائن ریسرچ  آفیسر کی طرح کام کرتے رہے۔ جب پٹنی کمپیوٹرز میں انہیں پہلی ملازمت ملی تو دوڑتے ہوئے آئے اور  شرماتے شرماتے کہا کہ وہ کمپنی کی طرف سے امریکہ جارہے ہیں اور جانے سے قبل  مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ  بقول محترم، مجھے تو کئی لڑکے مل جائیں گے مگر انہیں مجھ جیسی ذہین اور پڑھی لکھی لڑکی شاید ہی ملے۔ میں نے  ان سے وقت مانگا اور والدہ سے ذکر کیا تو وہ فوراً راضی ہوگئیں مگر میرے والد لڑکے کی مستقل ملازمت کے خواہاں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والدین سے ملنے بھی وہ دوڑتے بھاگتے ہی آئے تھے۔ شاید ان کی یہ ادا میرے والدین کو اتنی پسند آگئی کہ میری خوشی دیکھتے ہوئےانہوںنےاپنی رضامندی دے دی۔ خیر! ہماری شادی ہوگئی اور نئی زندگی میں قدم رکھتے ہی میں نے سب سے پہلے حساب کی کاپی پھاڑ دی۔
دوسرا ورق
 انفوسس کی وجہ سے ہم لوگ ایک عرصے سے بنگلور میں ہیں مگر پونا  بھلائے نہیں بھولتا۔ وہاں کی سوئی سوئی زندگی، لمبی چوڑی سڑکیں ، معتدل موسم ، سائیکلوں کی سواری ، گھنٹوں ہونے والی باتیں اور تھوڑے سے پیسوں میں گزارہ، سب کچھ ایک خواب لگتا ہے۔ پھر  اچانک نارائن کو امریکہ جانا پڑا اور میں بھی ساتھ ہولی۔ جس ہوٹل  میں ہم ٹھہرے تھے وہ قلب شہر میں واقع تھا، اسلئے میں نارائن کے جاتے ہی شہر دیکھنے اکیلے ہی نکل جاتی۔ ایک دن پولیس والوں کو شبہ ہوا کہ میں شاید کوئی ڈرگ اسمگلر ہوں،اسلئےانہوں نے مجھے پکڑ کر پولیس اسٹیشن پہنچا دیا۔ جب شام تک میں ہوٹل نہیں پہنچی تو نارائن پریشان ہوگئے۔ کسی نے میرا اغوا تو نہیں کرلیا یا میں کسی حادثے کا شکار تو نہیں ہوگئی۔ میں  پولیس اسٹیشن میں لاکھ کہتی رہی کہ میں ایک ہندوستانی انجینئر ہوں اوراپنے شوہر کے ساتھ امریکہ آئی ہوں مگر وہ میری بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے۔ تفتیش کے دوران انہوں نےجب ہوٹل میں فون کیا اورانہیں پتہ چلا کہ میں واقعی وہیں مقیم ہوں تب جاکر کم بختوں نے مجھے چھوڑا۔ نارائن دیوانوں کی طرح ہوٹل کی لابی میں میرا انتظار کررہے تھے۔ اس وقت تک موبائل کا وجود نہیں تھا، اسلئے وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ مجھے پولیس نے گرفتار کیا ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ تجربہ بے گھر امریکیوں کے ساتھ سارا دن گزارنے کا تھا جو اپنی بے سروسامانی اور خستہ حالی کے باوجود قلندروں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ دن بھر گاتے بجاتے اور خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔ مجھ سے ملے تو ہندوستان کے متعلق سوالات کرتے رہے۔ شام کو میں نے نارائن کو اپنی روداد سنائی تو وہ بھی مسکرانے لگے۔ ایک بات پر ہم دونوں متفق تھے کہ مغرب کے لوگ ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔ پروجیکٹ ختم ہونے پر ہم پونے لوٹ آئے مگر مجھے احساس تھا کہ نارائن امریکہ سے کچھ خواب ضرور  لے کر آئے ہوں گے۔ یہاں آنے کے بعد انہوںنے اپنے دوستوں کے اشتراک سے انفوسس کی بنیادڈالی اور ساری رکاوٹوں اور کرپشن کے باوجوداپنی شرائط پر کام کرنا شروع کردیا۔ دوستوں کی رائے یہ تھی کہ مجھے بھی بورڈ پر لے لیاجائے مگر وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک ہی خاندان کے۲؍ افراد  ایک کمپنی میں کام کریں۔ اب ہمارے خاندان میں نئے مہمان کا اضافہ ہونے والا تھا، اسلئے اپنی گھریلو زندگی پر توجہ دینا میری پہلی ترجیح تھی۔ اس سارے عرصے میں نندنی نیلکنی کی بیگم میرے بچوں کا خیال رکھنے لگی تھیں ، ہماری ایک اور پڑوسن اور دوست صبح ہوتے ہی گھر ملنے آجاتیں اورہم سب ایک مشترک خاندان کی طرح رہتے۔ وہ  زندگی کا سنہری دور تھا۔ کمپنی شروع کرنے سے پہلے نارائن کو پیسوں کی ضرورت تھی، جب مجھے پتہ چلا تو میں نے اپنی ساری پونجی ان کے  ہاتھوںمیں رکھ دی۔ اس سے کمپنی کو کتنا سہارا ملا یہ تو وہی جانیں البتہ نارائن آج بھی اعتراف کرتے ہوئے کہتے  ہیں کہ جدوجہد کے ابتدائی دور میں، میں نے مدد نہ کی ہوتی تو شاید انفوسس زندہ نہیں رہ پاتا۔
ایک اور ورق
  اب لوگ مجھے کلچرل سینٹر اورکتابوں کے میلے میں مدعو کرنے لگے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں نے بچوں کا ادب تخلیق کرکے بڑا کام کیا ہے جبکہ میرے خیال میں کوئی ادیب بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ لوگ اچھا لکھتے ہیں یا نہیں لکھتے ہیں۔یہ محض اتفاق ہے کہ بچوں نے میری کتابیں پسند کیں اورمجھے نئی کتابیں لکھنے کا حوصلہ ملا ۔ مجھے تو انگریزی بھی ٹھیک سے نہیں آتی تھی۔ کنڑ اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ جب کالج میں داخلہ لیا تو پروفیسر صاحبان کا ایک لفظ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ ماں سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو ان کا مشورہ تھا کہ انگریزی کا اخبار پڑھو، ریڈرس ڈائجسٹ پڑھو اور پڑھتے وقت لغت ساتھ رکھاکرو۔ میں نے انگریزی پر محنت کرنی شروع کی اور چند ہی دنوں میں محسوس ہوا کہ یہ کوئی اتنی مشکل زبان نہیں ہے جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔  پھر ہر نوجوان کی طرح میں نے اینیڈبلائٹن کی رومانی ناولیں پڑھیں تو  یقین آگیا کہ ان کتابوں نے ہی ہمیں مغرب کا دیوانہ بنارکھا ہے۔ بچپن میں سنڈریلا کی کہانی اور ’سنو وہائٹ‘ کے معجزے دل ودماغ پر اثرانداز ہوتے رہے اور جوانی میں انگریزوں کے رومانس اور ایڈونچر دل لبھانے لگے۔ کیا ہمارے پاس اپنی کہانیاں اور اپنے اساطیری کردار نہیں جنہیں پڑھ کر ہم اپنی زمین سے جڑے رہیں؟ میں نے اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچا اوراپنی دیو مالائی کرداروں اور اطراف کے واقعات کا جال بن کر  عام فہم  زبان میں لکھنا شروع کیا۔ میری ایک مصوردوست نے اس کام میں بڑا تعاون کیا اور کتابوں کے ہر صفحے پر ایسی دیدہ زیب تصویریں بنائیں کہ میری تحریروں میں جان پڑگئی۔ گوپی سیریزکی بھی الگ داستان ہے۔ میرے گھر میں اپنے بچوں کیلئے میں نے مینا ، طوطے اور خرگوش پال رکھے تھے۔ روہنی کہیں سے ایک کتّا بھی لے آیا اورہم نے اسے گوپی کا نام دے دیا۔ اسی گوپی کو کردار بناکر میں نے کہانیاں لکھیں جو بے حد پسند کی گئیں۔ پھر ۵۰؍ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انگریزی میں لکھنے کی بھی ہمت ہوئی اور میری انگریزی بھی کسی لڑکھڑاتے ہوئے شرابی کی طرح گرتے پڑتے کھڑی ہوگئی۔ ان کتابوں پر اکثر دوستوں کا تبصرہ یہی ہوتا کہ ان کہانیوں میں بیان کئے گئے تجربات مجھے کہاں سے حاصل ہوئے؟ حقیقت یہ ہے کہ میں سیلانی ہوں اور دوران سفر سارے تجربات سمیٹتے جاتی ہوں۔ پھر گھر آکر انہیں جھاڑ پونچھ کر نیا لباس پہنا دیتی ہوں اور میری خوش قسمتی ہے کہ قارئین انہیں پسند کرلیتے ہیں۔ اب آپ اسے  میرا کارنامہ کہتے ہیں تو کہتے رہئے۔
آخری ورق
  جب میں نے انفوسس فاؤنڈیشن سے استعفیٰ دینے کی بات نارائن کو بتائی توان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ انہیں میری بات پر یقین نہیں آیاکہ سماجی بہبود کے کاموں میں پیش پیش رہنے والی کارکن اچانک اس ادارے کو چھوڑدینا چاہتی ہے۔ انہوںنے صرف اتنا کہا کہ آپ  نے  فیصلہ کیا ہے تو سوچ سمجھ کرکیا ہوگا،اسلئے میں آپ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کروں گا لیکن ان کے لہجے کا دکھ عیاں تھا۔ میں ان سے کہنا چاہتی تھی کہ اس ادارے نے غریب بچوں کیلئے اسکول کھولے ہیں، بیس کے قریب یتیم خانے قائم  کئے ہیں، تین ہزار سے زائد دیوداسیوں کو عام انسانوں کی طرح  جینا سکھایا ہے ، اساتذہ کی تربیت کا انتظام کیا ہے، اسپتالوں کی اصلاح کی ہے اوران تمام کارہائے نمایاں کاکریڈٹ صرف مجھے نہیں بلکہ پوری ٹیم کو جاتا ہے، ساتھ ہی میں نے دوسری صف کی جو قیادت تیارکی ہے، وہ بھی اتنی باہمت اور باشعور ہے کہ وہ اس ادارے کے مقاصد کو اتنی ہی تندہی سے پورا کرے گی جس  طرح آج تک ہوتا رہا ہے۔ ویسے بھی کسی  ایک فرد کے جانے سے دنیا کے کام نہیں  رک جاتے۔ میں دراصل خواتین کی تعلیم پر توجہ دینا چاہتی ہوں۔ تعلیم نسواں ایسی جادوئی چھڑی ہے جس کے چھوتے ہی عورتوں کی زندگی میں انقلاب آسکتا ہے۔ خود میری مثال سامنے ہے۔ انجینئرنگ کالج کے چھ سو طلبہ میں، میں اکیلی لڑکی تھی۔ ان دنوں ماحول کچھ ایسا تھا کہ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب  ہی نہیں ہوتی تھیں کیونکہ والدین کے نزدیک جھٹ پٹ شادی کرنا دنیا کا اہم ترین فریضہ ہوا کرتا تھا لیکن زندگی صرف شادی کرنا ہی تو نہیں۔ زندگی ایک ایسا  امتحان ہے جس میں  نصاب کا پتہ ہے، نہ پرچوں کے متعلق کچھ معلوم ہے ، نہ کسی نے ماڈل جوابات لکھ رکھے ہیں۔ یہ ایک جہد مسلسل ہے  اوراس جدوجہد میں تعلیم ہی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تعلیم یافتہ عورت معاشی طورپر کسی کی محتاج نہیں ہوتی اور باعزت زندگی گزارنے کے بھی قابل ہو جاتی ہے۔ آج دنیا بھر کے تجربات نے جس میں زلزلے ، سونامی اور کورونا کا قہر شامل ہیں ہمیں اتنا سکھادیا ہے کہ اب زندگی کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔ اسلئے میں اب سادگی سے جینا چاہتی ہوں۔ ایک عام عورت کی طرح۔ اب میری کوئی خواہش نہیں سوائے اس کے کہ میرے ملک کے مظلوموں محتاجوں اور پریشان حالوں کے دکھ درد کچھ کم ہو جائیں اور وہ بھی خوشیوں میں تھوڑا بہت حصہ بٹورسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK