دھرو راٹھی کے ویڈیو پر حکومت کے حامی برہم تھے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اُن کے اُٹھائے ہوئے سوالات پر غور کیا جاتا، انہیں سمجھا جاتا، اس کے بعد قبول کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار ہمارے پاس تھا!
EPAPER
Updated: March 10, 2024, 6:13 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
دھرو راٹھی کے ویڈیو پر حکومت کے حامی برہم تھے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اُن کے اُٹھائے ہوئے سوالات پر غور کیا جاتا، انہیں سمجھا جاتا، اس کے بعد قبول کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار ہمارے پاس تھا!
دھرو راٹھی کےایک حالیہ ویڈیو سے مودی حکومت کے حامیوں میں سخت ناراضگی پھیل گئی۔اس کے موضوع کا اندازہ عنوان ہی سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان تھا: ’’کیا ہندوستان آمریت میں تبدیل ہورہا ہے؟‘‘ ویڈیو میں آمریت کے سلسلے میں جو مثالیں پیش کی گئیں اُن میں چنڈی گڑھ کے میئر الیکشن میں ہونے والی دھاندلی، چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کا قضیہ اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال وغیرہ شامل ہیں۔
آمریت (ڈکٹیٹرشپ) کیا ہے؟ لغت میں اس کا معنی ہے: ’’ایسا طرز حکومت جس میں ایک شخص یا ایک مختصر سا گروپ اقتدار و اختیار کا مرکز بن جائے جس کا آئینی ذمہ داریوں سے کچھ لینا دینا نہ ہو۔‘‘ ایک اور لغت میں اس کا معنی کچھ اس طرح ہے: ’’ایسا طرزِ حکومت جس میں اقتدار سے متعلق تمام اختیارات ایک شخص یا ایک چھوٹے سے گروہ کے قبضہ ٔ قدرت میں ہوں۔‘‘ اس وقت ہمارے ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے کیا وہ وہی ہے جو مذکورہ دو معانی میں پوشیدہ ہے اس کا فیصلہ مَیں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
لفظ ’’آمر‘‘ یا ’’ڈکٹیٹر‘‘ بالکل اُسی طرح جیسے لفظ ’’فاشسٹ‘‘ ہے اس قدر استعمال کیا گیا ہے کہ اس کے معنیٰ کسی کو بُرا بھلا کہنے کے زمرہ میں آنے لگے ہیں اور اس اصطلاح کی تعریف کہیں گم ہوگئی ہے۔ جب سماجی سائنسداں آشیش نندی نے موجودہ وزیر اعظم سے اپنی اُس وقت کی ملاقات کا ذکر کیا جب وہ وزیراعلیٰ تھے، تب اُنہوں نے جو کچھ کہا اُس کا مفہوم تھا: ’’یہ ایک طویل اور بکھرا ہوا انٹرویو تھا مگر اس کے بعد مجھے بالکل بھی شبہ نہیں رہ گیا کہ یہ ایسی مثال ہے جس کے ذریعہ بہت کچھ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مَیں نے لفظ فاشسٹ کبھی بھی اُن معنوں میں استعمال نہیں کیا جن معنوں میں اس کا استعمال (بُرا بھلا کہنے کیلئے) عام ہے۔ اس لفظ یا اصطلاح کو مَیں ایک ایسا تشخیصی زمرہ سمجھتا ہوں جس میں کسی شخص کے نظریاتی زاویوں ہی کو سمجھنے میں مدد نہیںملتی بلکہ شخصیت کے متعدد پہلو اور نظریات کی تبلیغ کیلئے بروئے کار لائے جانے والے ترغیبی رجحانات بھی واضح ہوتے ہیں۔‘‘ نندی نے مزید کہا تھا (مفہوم): مودی کی شخصیت میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جنہیں ماہرین نفسیات، نفسیاتی تجزیہ کار اور نفسیات داں ایک اقتدار پسند اور تحکم پسند شخصیت قرار دیتے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ بھی صحافی آشیش نندی نے بہت کچھ کہا تھا جسےمضمون طویل نہ ہوجائے اس خدشہ کے پیش نظر نقل کرنے سے گریز کررہا ہوں۔ آشیش کا حتمی تاثر یہ تھا کہ جب وہ انٹرویو ختم کرکے باہر آئے تو اُن کی حالت غیر تھی (I came out of Interview shaken)۔
آئیے، آمریت کی طرف لوَٹتے ہیں۔ میرے خیال میں کچھ کم جذباتی اور زیادہ قابل اعتماد سوال یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا ہم ایک اقتدار پسند اور تحکم پسند یعنی آمریت کے دور میں ہیں؟ اس کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ دوسروں کی آرزوؤں اور خیالات کی پروا یا فکر کرنے کی کمی۔ آئیے اسے چند مثالوں کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا واقعی آمریت جیسی کوئی بات پائی جاتی ہے؟
سب سے پہلے حکومتی ڈھانچے کے اندرون میں جھانک کر دیکھتے ہیں کہ کیا دوسروں کی آرزوؤں اور خیالات کی فکر پائی جاتی ہے یا نہیں؟ اس کیلئے دوواقعات کو پیش نگاہ رکھئے جن میں ہمارے پاس نتیجہ خیز ثبوت ہے۔ پہلا واقعہ: ۲۴؍مارچ ۲۰۲۰ء کا ملک گیر لاک ڈاؤن۔ بی بی سی نےلاک ڈاؤن کے ایک سال بعد یہ جاننے کیلئے کہ کیا مودی حکومت میں کوئی جانتا تھا کہ شام کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے والا ہے، آر ٹی آئی کی ۲۴۰؍ عرضیاں داخل کی تھیں۔ اس نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کیا ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے مشورہ کیا گیا تھا؟ کیا وزارت مالیات اور وزارت صحت سے مشاورت کی گئی تھی؟ حکومت کی جانب سے جواب موصول ہوا کہ نہیں،اس سلسلے میں نہ تو کسی سے رابطہ کیا گیا نہ ہی صلاح و مشورہ ہوا۔
دوسرا واقعہ نوٹ بندی کا تھا۔ ۸؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو کابینہ کی میٹنگ طلب کی گئی اور وزراء سے کہا گیا کہ وہ موبائل فون اپنے ساتھ نہ لائیں۔ یعنی اُنہیں ۸؍ نومبر کی رات کے وزیر اعظم کے اعلان تک یہ علم نہیں تھا کہ ایک ہزار اور پانچ سو کے نوٹ منسوخ کئے جارہے ہیں۔ چونکہ وزراء لاعلم تھے اس لئے اُنہوں نے نوٹ بندی شروع ہونے کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں مشترکہ اور اجتماعی ذمہ داری اہم ہوتی ہے مگر ’’نئے ہندوستان‘‘میں شاید اس کی جگہ نہیں ہے۔
ہم اپنے ملک میں ایسے حالات کے زیر سایہ ہیں جن میں صدرِ جمہوریہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح میں شریک نہ ہوں۔ اُن سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایودھیا میں تعمیر ہونے والے مندر کے افتتاح میں بھی اُنکی شرکت ضروری نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اسلئے کہ ان تقریبات میں مرکزی کردار وزیر اعظم مودی کو نبھانا تھا اور ایسے میں پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ صدر جمہوریہ غیرحاضر رہیں۔ اس پر کسی نے سوال نہیں کیا، اس کی مخالفت کرنا تو دور کی بات ہے۔ سوال اس لئے نہیں کیا کہ ملک کی نمائندگی صرف ایک شخص کریگا یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت بنا دی گئی ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ ایک ہی شخص کی تصویر ہر جگہ موجود ہے۔ آپ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حزب اختلاف کے لیڈروں کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے۔ کیا حزب اختلاف کے خیالات کی کوئی فکر کی جاتی ہے؟اس سوال کے جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ سول سوسائٹی کے جو کارکنان حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں اُنہیں سیدھے جیل بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہوتے ہیں اُنہیں سننا گوارا نہیں ہے۔
اس سے قبل کہ اس مضمون کو اختتام تک پہنچاؤں، یہ جان لینا ضروری ہے کہ بیرونی دُنیا ہمارے بارے میں کیا سوچ رہی ہے۔ اس ماہ یونیورسٹی آف گوتھنبرگ کی وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں آزادیٔ اظہار رائے، میڈیا کی آزادی، سوشل میڈیا پر قدغن، حکومت سے سوال پوچھنے والے صحافیوں کی حالت زار وغیرہ کو موضوع بنایا ہے۔ ایسی ہی باتیں فریڈم ہاؤس نے بھی کہی ہیں۔