Updated: June 06, 2026, 10:11 PM IST
| Washington/Islamabad
ایکس پر اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے مسک نے لکھا: ”براوو پاکستان! مغرب میں ہمیں یہی کرنا چاہئے۔“ مسک کا یہ تبصرہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دونوں مجرموں کی طرف سے دائر اپیلوں کو خارج کرنے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی ارب پتی اور کاروباری شخصیت ایلون مسک نے سال ۲۰۲۰ء کے لاہور موٹر وے گینگ ریپ کیس میں سزا یافتہ ۲ مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھنے کے پاکستانی عدالت کے فیصلے کی تعریف کی ہے۔ یہ کیس حالیہ برسوں میں پاکستان کے سب سے ہائی پروفائل جنسی زیادتی کے مقدمات میں سے ایک رہا ہے۔ مسک کا تبصرہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دونوں مجرموں کی طرف سے دائر اپیلوں کو خارج کرنے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے مسک نے لکھا: ”براوو پاکستان! مغرب میں ہمیں یہی کرنا چاہئے۔“
یہ معاملہ ستمبر ۲۰۲۰ء کا ہے جب ایک ۳۲ سالہ پاکستانی نژاد فرانسیسی خاتون اپنے ۳ بچوں کے ساتھ صوبہ پنجاب میں لاہور-سیالکوٹ موٹر وے پر سفر کر رہی تھیں۔ رپورٹوں کے مطابق، لاہور کے قریب ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے یہ خاندان سڑک کے کنارے پھنس گیا۔ اس رات، دو مسلح افراد گاڑی کا شیشہ توڑ کر داخل ہوئے، خاتون کے ساتھ لوٹ مار کی اور اسے گھسیٹ کر قریبی کھیت میں لے گئے، جہاں اس کے بچوں کے سامنے بندوق کی نوک پر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اس واقعے نے ملک گیر سطح پر غصے کو جنم دیا اور پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین: ۱۹۶۷ء کی جنگ پر نئی اسرائیلی دستاویزات منظرعام پر، جبری نقل مکانی پر بحث
بدھ کے دن، جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مبنی لاہور ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے عابد علی عرف ملہی اور شفقات علی عرف بگا کی طرف سے دائر اپیلوں کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے مارچ ۲۰۲۱ء میں انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کی طرف سے سنائی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا۔ ٹرائل کورٹ نے سزائے موت کے علاوہ دونوں ملزمان کو عمر قید اور دیگر متعدد قید کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔ پاکستان کے عدالتی اہلکار نے تصدیق کی کہ سزائیں اور جرمانے برقرار رکھے گئے ہیں۔