Updated: June 08, 2026, 9:50 PM IST
| New Delhi
میٹا نے میٹا اے آئی (Meta AI) کو صارفین کی رضامندی کے بغیر وہاٹس ایپ چیٹس، انسٹاگرام ڈی ایمز (DMs) اور فیس بک فیڈز کے اندر شامل کردیا ہے۔ ٹیک ماہرین نے میٹا اے آئی کو چیٹ جی پی ٹی اور جیمنائی کی غیر معیاری نقل قرار دیا ہے۔ یہ اے آئی ٹول نہ صرف سست ہے، بلکہ اکثر غلط معلومات دیتا ہے اور پرائیویسی میں مداخلت کرتا ہے۔
مارک زکر برگ۔ تصویر: ایکس
معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام سے آج کل صارفین پریشان ہیں۔ انسٹاگرام نے گزشتہ ۶ ماہ کے دوران کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزیوں کا مبہم حوالہ دیتے ہوئے ہزاروں ہندوستانی صارفین کے اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے۔ یہ اکاؤنٹس برسوں سے فعال تھے اور ان پر تفریحی مواد، حقیقی فالوورز اور فعال آمدنی کے ذرائع موجود تھے۔ لاکھوں فالوورز رکھنے والے کونٹینٹ کریئٹرز جب صبح اٹھے تو انہوں نے اپنے اکاؤنٹس کو مستقل طور پر ڈیلیٹ پایا۔ انسٹاگرام نے بغیر کسی انتباہ، اپیل کے حق یا کسی وضاحت کے ان اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کردیا۔ ہزاروں صارفین نے ایکس پر انسٹاگرام کے اس عجیب رویے کی شکایت کی ہے۔ دوسری طرف، اے آئی مواد پوسٹ کرنے والے بوٹ اکاؤنٹس میٹا کے مانیٹرنگ سسٹم سے نہ صرف بچ نکل رہے ہیں بلکہ ان میں سے کئی کو ’بلیو ٹک‘ ویریفیکیشن بیجز بھی دیئے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی پر سائبر حملہ، غزہ کے ۶؍ لاکھ خاندانوں کی ذاتی معلومات لیک ہوگئیں
میٹا اے آئی سے صارفین پریشان، پرائیویسی میں مداخلت کا الزام
انسٹاگرام کی سرپرست میٹا نے میٹا اے آئی (Meta AI) کو صارفین کی رضامندی کے بغیر وہاٹس ایپ چیٹس، انسٹاگرام ڈی ایمز (DMs) اور فیس بک فیڈز کے اندر شامل کردیا ہے۔ صارفین نے کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ یہ اے آئی ٹول نجی چیٹس کے اندر ظاہر ہو رہا ہے اور ان صارفین کیلئے مصیبت بن گیا ہے جو اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ میسیجز میں میٹا ات آئی کی شمولیت کے بعد پرائیویسی سے جڑے خدشات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔
ٹیک ماہرین نے میٹا اے آئی کو چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور جیمنائی (Gemini) کی غیر معیاری نقل قرار دیا ہے۔ یہ اے آئی ٹول نہ صرف سست ہے، بلکہ اکثر غلط معلومات دیتا ہے اور پرائیویسی میں شدید مداخلت کرتا ہے۔ میٹا اے آئی کے ساتھ ہونے والی ہر گفتگو ممکنہ طور پر میٹا کے اے آئی ٹریننگ انفراسٹرکچر کا حصہ بنتی ہے، وہی انفراسٹرکچر جسے یورپی یونین کے ریگولیٹرز پہلے ہی محدود کرنے کیلئے اقدامات کرچکے ہیں۔ ہندوستان میں ۳۵ کروڑ سے زیادہ انسٹاگرام صارفین کو اس ایکو سسٹم میں شامل کیا جا رہا ہے اور انہیں کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اپنا کون سا ذاتی ڈیٹا ان کے حوالے کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کی دھمکی پر تشویش: امریکی خفیہ محکمہ
آپ کا فون نمبر پہلے ہی خطرے میں ہے
۷ جون ۲۰۲۶ء کو ایکس پر ایک محقق نے انسٹاگرام کے پاس ورڈ ریکوری سسٹم میں ایک سنگین خامی کو بے نقاب کیا ہے۔ جب کوئی بھی، اکاؤنٹ ریکوری پیج پر کسی کا یوزر نیم درج کرتا ہے، جس کیلئے کسی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی، تو انسٹاگرام اس اکاؤنٹ سے منسلک فون نمبر اور ای میل ایڈریس کو بالکل واضح متن میں ظاہر کردیتا ہے۔ محقق نے ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں مشہور شخصیات جیسے کائلی جینر اور کلیان ایمباپے کے موبائل نمبر اور ای میل واضح دکھائی دے رہے تھے۔
اس سے قبل، جنوری ۲۰۲۶ء میں، ڈارک ویب فورمز پر ایک کروڑ ۷۵ لاکھ سے زیادہ انسٹاگرام اکاؤنٹس کا ڈیٹا لیک ہوا تھا، جس میں صارفین کے یوزر نیم، فون نمبر، ای میلز اور لوکیشن کا ڈیٹا شامل تھا۔ ان میں ایمباپے اور جارجینا روڈریگیز بھی شامل تھے۔ میٹا نے کسی بھی قسم کے ڈیٹا ہیک کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ ماحولیات: اے آئی کا پانی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ: یو این
میٹا کا اپنا اے آئی، کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے
مارچ ۲۰۲۶ء میں میٹا کے اندرونی سسٹمز میں موجود ایک خود مختار اے آئی ایجنٹ نے ’سیو-ون‘ (Sev-1) سیکیورٹی انسیڈنٹ کو متحرک کردیا جو خطرے کی دوسری سب سے سنگین سطح ہے۔ اس اے آئی نے انسانی منظوری کے بغیر ایک اندرونی فورم پر خود بخود ایک تکنیکی حل پوسٹ کردیا۔ جب اس طریقے پر عمل کیا گیا تو اس نے میٹا کے سیکڑوں غیر مجاز ملازمین کے سامنے کمپنی کا ملکیتی سورس کوڈ اور صارفین کا حساس ڈیٹا افشا کردیا۔ کسی کے نوٹس میں آنے سے پہلے یہ ڈیٹا لیک پورے دو گھنٹے تک برقرار رہا۔ اس سے چند ہفتے قبل، میٹا کی اپنی ’سپر انٹیلیجنس لیبز‘ کی ڈائریکٹر آف الائنمنٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک میٹا اے آئی ایجنٹ، جسے انہوں نے اپنے انباکس سے منسلک کیا تھا اور واضح ہدایات دی تھیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ہمیشہ اجازت لی جائے، نے اجازت کے بغیر ان کی ای میلز کے بڑے حصوں کو خود بخود ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ٹیک کمپنیوں نے جیلوں میں اےآئی نگرانی، مائیکرو چپس اور روبوٹک نظام استعمال کرنے کی تجویز دی
کونٹینٹ کریٹرز انسٹاگرام چھوڑ رہے ہیں، عام صارفین بھی اسی راہ پر
ایپ اینالیٹکس فرمز نے ہندوستان، امریکہ اور یورپ میں انسٹاگرام کے روزانہ فعال استعمال کے وقت میں شدید کمی ریکارڈ کی ہے۔ انسٹاگرام کے اوسط استعمال کے سیشن کا دورانیہ کم ہو رہا ہے۔ لاکھوں فالوورز رکھنے والے کریٹرز عوامی طور پر یوٹیوب اور سب اسٹیک (Substack) کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ میٹا نے اپنے میٹاورس پروجیکٹ پر تقریباً ۴۶ ارب ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن اس سے کوئی معنی خیز منافع حاصل نہیں ہوا ہے۔ انسٹاگرام جو کبھی اس کا سب سے پسندیدہ پروڈکٹ تھا، اب زوال کے آثار دکھا رہا ہے۔