زیر نظر تحریر میں،آر ایس ایس سے وابستہ اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو کے مضمون سے بحث کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا مودی کو ویسے ہی یاد رکھا جائیگا جیسا نہرو کو رکھا گیا ہے؟
رام مادھو نے ایک مضمون میں ، جو حال ہی میں لکھا گیا ہے، وزیر اعظم مودی کی بابت لکھا ہے کہ وہ جلد ہی ایک نئے سنگ میل تک پہنچ جائینگے۔ انہوں نے لکھا کہ ۱۰؍ جون کو مودی بحیثیت وزیر اعظم چار ہزار تین سو نناوے (۴۳۹۹) دن پورے کرلیں گے، اس طرح ملک کے اولین وزیر اعظم جواہر لال نہرو کا چار ہزار تین سو اٹھانوے (۴۳۹۸) دن کا ریکارڈ ٹوٹ جائیگا۔ رام مادھو نےمودی کے ۴۳۹۹؍ دن کے تذکرہ کے ساتھ ’’تسلسل کے ساتھ‘‘ کا استعمال لازماً کیا ہے تاکہ یہ پیغام عام ہو کہ اندرا گاندھی کم و بیش ۶؍ ہزار دن وزیر اعظم رہیں مگر وہ ’’تسلسل کے ساتھ‘‘ وزیر اعظم نہیں رہی تھیں بلکہ درمیان میں تعطل تھا۔ اس سے زیادہ اہم رام مادھو کا یہ کہنا ہے کہ ’’مودی کو کسی شک و شبہ کے بغیر ملک کے سب سے زیادہ مؤثر اور کامیاب وزیر اعظم کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔‘‘ ایسا کہنے کی جو وجہ انہوں نے اس طرح بیان کی ہے: ’’مودی تیسری میعاد کے وسط تک پہنچ چکے ہیں اس کے باوجود ہندوستانی سیاسی افق پر اُن کی شخصیت چھائی ہوئی ہے جسے کہیں کوئی چیلنج نہیں ہے۔ ابھی وہ مزید کئی ریکارڈ توڑیں گے اور کئی سال تک ملک کی رہبری کرتے رہیں گے۔‘‘
کچھ لوگوں کیلئے اقتدار کے طویل دَور کی اہمیت ہے اور زیادہ مدت تک غالب رہنے کی بھی اہمیت ہے مگر ملک کے عوام کے نقطۂ نظر سے اہمیت اس بات کی ہے کہ جو شخص اقتدار میں ہے اُس کی کارکردگی کیا کہتی ہے۔ یہا ں مسئلہ یہ ہے کہ طویل مدتی اقتدار کا ذکر ہے مگر حقائق اور اعدادوشمار کے ذریعہ اس کے مؤثر ہونے کی دلیل نہیں دی گئی ہے۔ رام مادھو نے وزیر اعظم کی جن کامیابیوں کا ذکر کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں جی ڈی پی دوگنا ہوگیا مگر یہ تو ملک کی آزادی کے بعد سے ہورہا ہے کہ ہر دہائی کے بعد جی ڈی پی دوگنا ہوجاتی ہے بالخصوص ۱۹۶۰ء کے بعد ، جب سے ورلڈ بینک کا جاری کردہ ڈیٹا ہمارےہاتھ آنے لگا۔ اس کے علاوہ کیا؟رام مادھو کا کہنا ہے کہ ’’فارین پالیسی میں مودی نے شاندار تاریخ مرتب کی۔‘‘ کیسے؟ اس کا جواب نہیں ملتا۔ اگر ہم عالمی اُمور کا جائزہ لیں تو نہ تو ملک کے غیر متعلق ہوجانے کی حقیقت سے چشم پوشی ممکن ہے نہ ہی اس الزام کو مسترد کیا جاسکتا ہے کہ ہماری حکومت کئی معاملات میں قطعی بے اثر ثابت ہوئی ہے بالخصوص امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے معاملے میں ۔ اس پر کسی اور دن گفتگو ہوگی، فی الحال جو سوال کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ مودی کے اقتدار سے باہر ہونے کی چھ دہائیوں بعد اُنہیں کس طرح دیکھا جائیگا؟ ۲۰۸۶ء کے ہندوستان میں مبصرین اور تجزیہ نگاراُن کے بارے میں کیا لکھیں گے، کیا کہیں گے؟ جیسا کہ آج ہم نہرو کے انتقال کے ۶۲؍ سال بعد تجزیہ کرتے ہیں کہ ملک کے اولین وزیر اعظم نے کیا کیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ اُس وقت (۲۰۸۶ء میں ) ہم میں سے جو لوگ بقید حیات رہیں گے اور وہ بھی جو ہمارے بعد پیدا ہوئے ہیں ، مودی کا ذکر نہیں کریں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ واقعات اور افرادبھلا دیئے جاتے ہیں ۔ گاوسکر کی جگہ تینڈولکر آجاتے ہیں ، تینڈولکر کوہلی کیلئے جگہ بناتے ہیں اور کوہلی ویبھو کیلئے جگہ خالی کرتے ہیں ۔ ہر دور میں یہ ہوا ہے کہ نئے لوگ، نئے چہرے سامنے آتے ہیں جن کے پاس نئے منصوبے ہوتے ہیں ۔ نئی نسل ان سے اپنا رشتہ اور تعلق جوڑتی ہے، وہ ماضی کو یاد رکھنا پسند نہیں کرتی۔ مگر کچھ دیر ٹھہریئے۔ اگر میری بات درست ہے کہ ہر دور میں نئے لوگ آجاتے ہیں اور اُس وقت کے لوگ پرانے لوگوں کو یاد نہیں رکھنا چاہتے تو ایسا کیوں ہے کہ نہرو عوامی حافظے میں اب بھی ہیں ؟ وہ لوگ بھی جو مودی کے مداح ہیں ، اب بھی نہرو نہرو کی رَٹ لگائے رہتے ہیں جبکہ ان کے انتقال کو طویل عرصہ گزر چکا ہے؟
اگر عوامی حافظہ کمزور ہونے اور نہرو کے انتقال کے بعد طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہرو آج بھی زندہ ہیں تو اس کی وجہ وہ سرمایہ اور اثاثہ ہے جو اُنہوں نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔اس اثاثہ میں وہ تمام تعلیمی، سائنسی، ثقافتی اور طبی ادارے ہیں جو نہرو کے قائم کردہ ہیں ۔ انہوں نے ان کی ضرورت محسوس کی اور انہیں وجود میں لانے کا کارنامہ انجام دیا۔ نہرو کی اس کارکردگی کا موازنہ مودی کی کارکردگی سے کیجئے تو آپ سوچنے ئپر مجبور ہوں گے کہ مودی نے کیا کیا؟ شاید کوئی کہے کہ مودی نے نیتی آیوگ بنایا۔ (کیا وہ اب بھی موجود ہے؟) اگر مان لیا جائے کہ نیتی آیوگ مودی کا کارنامہ ہے تو سوال یہ ہوگا کہ اس کے علاوہ کیا؟
نہرو نے اپنے پیچھے جو اثاثہ چھوڑا اُس میں مذکورہ بالا اداروں کے علاوہ وہ ’’تصور ہندوستان‘‘ بھی ہے جو تکثیری سماج سے متعلق ہے اور جو جدیدیت (ماڈرنٹی) سے مربوط ہے۔
کس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مودی نے کسی بڑی تبدیلی کو راہ دی اور اپنے پیش روؤں سے کچھ اس انداز میں الگ راہ اپنائی جو آئندہ کئی دہائیوں تک باقی رہیں گی؟ رام مادھو نے یہ کہتے ہوئے اپنا مضمون ختم کیا ہے کہ ’’محض اعدادوشمار نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار، نظریاتی بصیرت اور مؤثر ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے وزیر اعظم مودی کو یاد رکھا جائے گا اور اُنہیں دیگر وزرائے اعظم کے مقابلے میں امتیاز حاصل ہوگا۔‘‘ اگر ان معیارات پر بھی پرکھنا چاہیں تو ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ ہندوستان جس نے مودی کو ایک چمکدار ستارہ بنایا اُس میں ایسے قوانین (لائے گئے) ہیں اور ایسی پالیسیاں ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہیں اور اُن پر جبر کیا جاتا ہے۔ بلڈوزر، ہجومی تشدد، ایس آئی آر وغیرہ کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے جو وزیراعظم مودی ہی کے دور کی دین ہیں ۔ اس میں ہر رجحان نیا نہیں ہے مگر ایسے ہر رجحان کو شدت اور سنگینی اسی دور میں حاصل ہوئی۔ یہی تحفہ ہے جو مودی نے ملک اور اس کے عوام کو دیا ہے۔
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جاری دور میں ہم نے جو کچھ بھی دیکھا وہ ۲۰۸۶ء تک باقی رہے گا ۔ اگر نہ رہے تب بھی میرا اس سے سروکار نہیں کیونکہ اُس وقت مَیں نہیں رہوں گا۔ البتہ جو کچھ مودی کے دور میں ہوا ہے اگر وہ مزید ایک دہائی تک ہوتا رہا تو یقیناً نریندر مودی کو ۲۰۸۶ءمیں بھی یاد رکھا جائے گا مگر اُن وجوہات کی بناء پر نہیں جو اپنے مضمون میں رام مادھو نے بیان کی ہیں ۔