دوراَندیشی اور ویژن سے ہم پھر سرخرو ہوسکتے ہیں

Updated: March 15, 2020, 2:40 PM IST | Mubarak Kapdi

ماضی میں جو کچھ ہوا، اس پر خاک ڈالتے ہوئے اگر ہمارے نوجوان نئے حوصلوں اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنی ترجیحات کو تبدیل کرلیں تو ایک بار پھر ستاروں پر کمندیں ڈال سکتے ہیں

Eduction - Pic : INN
تعلیم کی اہمیت ۔ تصویر : آئی این این

 ہم یہ کہہ رہے تھے کہ دور اندیشی اور مستقبل کے تئیں کوئی ویژن اگر نہ ہو تو دولت، ثروت اور اقتدار کچھ کام کا نہیں۔ہمارے اپنے حکمرانوں کے محلوں کے ہر دروازے پر زندگی کی روشن صبحیں دستک دیتی رہیں مگر انہیں وہ سنائی نہیں دیں ۔اپنی بیوی کی یاد میں ایک بہترین اسپتال قائم کرنے کا جواز بھی شاہجہاں کے پاس تھا کیونکہ بچے کی زچگی کے وقت ہی ممتاز محل کا انتقال ہوا تھا۔ اسلئے شاہ جہاں دہلی کے ایمس اسپتال اور ممبئی کے’کے ای ایم‘ اسپتال  یا جے جے اسپتال سے کئی گنا بڑے اسپتال ملک بھر میں قائم کر سکتا تھا اور اُن اسپتالوں سے قوم کو ہزاروں ڈاکٹر بھی مل گئے ہوتے۔ ہمارے بادشاہوں کے پاس ویژن نہیں تھا اس کی بہترین (بلکہ بدترین) مثال یہی ہے۔ان ’تاریخی‘ غلطیوں پر اپنے ترجیحات سے لاعلمی کا تذکرہ چار صدیوں بعد بھی ہم اسلئے کر رہے ہیں کہ ہمارے یہاں غلط ترجیحات کے یہ سارے پیمانے آج بھی لگ بھگ ہر سو دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے!
 (الف) گزشتہ تین چار دہائیوں میں ’گلف بوم‘ کی بنا پر خصوصاًجنوبی ہند کے مسلمانوں میں بڑی خوشحالی آئی مگر ان دینار و درہم سے مسلمانوں کی اکثریت نے کیا کیا؟ اپنے اپنے گاؤں میں شاندار بنگلے تعمیر کئے۔ان کی نظروں میں خوشحالی اور کامیابی کا پیمانہ تھا،بنگلہ! 
 (ب)ہمارے یہاں صاحبان ثروت یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پشتونی جائیداد، بنگلے اور ساہوکاری کافی ہے۔ ان کے بچے جد و جہد حیات اور زندگی کی ہر کشمکش سے مستثنیٰ ہیں۔ ان میں اتنی بھی بصیرت نہیں ہے کہ وہ موروثی زمین و جائیداد اور جاہ و جلال ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو بھی جائے البتہ تیسری نسل میں ہر گز نہیں ۔اسلئے آپ کے در پر ہاتھی جھوما کرتا ہو تب بھی اپنی ہر نسل کو محنت و مشقت سکھانا ضروری نہیں بلکہ لازمی ہے۔
 (ج)گزشتہ چار دہائیوں میں زندگی بڑی تیز رفتار سے دوڑی ہے۔ ٹیکنالوجی اور نت نئی ایجادات نے پورا منظر نامہ بدل ڈالا ہے۔ البتہ ہمارے یہاں بعض لوگوںکا ایجنڈا ہے:تین وقت کی روٹی کا سامان اور لڑکیوںکیلئے جہیز کا انتظام بس !
 (د) ۱۶۱۹ء میں شاہی خزانے سے قائم کئے ہوئے شالیمار باغ پرچار سو سال بعد یعنی ۲۰۱۹ء میں چند بیدار خواتین کے قائم کئے ہوئے شاہین باغ بھاری ہیں۔شہنشاہوں کے قائم کئے ہوئے باغات دہلی، کشمیر اور لاہور کے علاوہ راشٹرپتی بھون میں بسے ہوئے ہیں۔آج خواتین کے قائم کئےہوئے شاہین باغ گلی کوچوں میں کھلے آسمان کے نیچے آباد ہیں جہاں ٹھٹھرتی ٹھنڈی اور جھلستی گرمی میں خواتین ڈٹی ہوئی ہیں۔یہ قوم کی صبح نو ہے جہاں خواتین نے اپنی ترجیحات کی آگہی کی ایک تحریک شروع کی ہے۔              
 اب ۱۷۱۰ء سے لے کر ۱۸۵۷ء تک کے دور کو لیجئے۔ اس دور میں انگریز ہندوستان سمیت کئی ملکوں پر راج کرتے رہے اور سائنسی ایجادات میں بھی مصروف رہے۔ اس دور میں انگریز ی اور دیگر مغربی اقوام نے اسٹیم انجن (۱۷۱۲ء)،لائٹنگ کنڈکٹر (۱۷۵۲ء)، ہائیڈرومیٹر (۱۷۶۸ء)، پیراشوٹ (۱۷۸۳ء)، سلائی مشین (۱۷۹۰ء)، لیتھو گرافی (۱۷۹۶ء)، الیکٹرک بیٹری (۱۸۰۰ء)، لوکو موٹیو (۱۸۰۴ء)، بائیسکل (۱۸۱۶ء)،کیمرہ (۱۸۲۲ء)، ڈیجیٹل کیلکیولیٹر(۱۸۲۳ء)، الیکٹرومیگنیٹ (۱۸۲۵ء)، دیاسلائی (۱۸۲۷ء)، ڈائنمو (۱۸۳۱ء)،ٹیلی گراف (۱۸۳۷ء) اور سیلو لائیڈ(۱۸۵۵ء) جیسی اہم ایجادات دُنیا کو دیں جن سے اس دُنیا کی کیفیت ہی بدل گئی۔ 
 اب آئندہ ہماری فکر اور اس کی سمت کیا ہو؟نوجوانو! تھوڑی سی تحقیق آپ کو اس نتیجے پر لے جائے گی کہ اسلام سے قبل جہالت کو تقدس کا درجہ حاصل تھا۔جی ہاں، یہ اسلام تھا جس نے ’اقراء‘کا صور پھونکا اور سارے عالم کو علم کی اہمیت بتائی۔ پھر آخر مُسلمانوں کی علمی پسپائی کا دور شروع کیوں کر ہوا؟ آئیے اس کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ نئی نسل کو کوئی ہماری تاریخ کو مسخ کر کے نہ پڑھائے اور ہماری صفوں میں موجود جذباتی و جوشیلے عناصر اسے بہکا نہ پائے۔
 عرصۂ دراز سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا قرآن اور سائنس میں کوئی تعلق بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس نوعیت کا ہے۔ سُن لیجئے قرآن مجید میں موجودہ دور کے سائنسی علوم کا تذکرہ خوب خوب ملتا ہے مگر اُس کے باوجود یہ کہنا مناسب ہوگا کہ قرآن سائنس کی نہیں بلکہ signs  یعنی نشانیوں کی کتاب ہے۔ یاد رہے کہ عربی لفظ آیت کا مطلب بھی علماء نے ’نشانی‘ ہی لیا ہے۔ گویا قرآن پاک کی ہر آیت ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جس کا مقصد ہمیں راہ ہدایت کی نشاندہی کرتا ہے۔
 قرآن پاک کے سائنسی اور عقلی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز بیان ہے۔ یہ رموز قدرت اور نظام کائنات کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتا ہے، ہمیں اس کے بارے میں اشارات دیتا ہے، ہمارے تجسس کو اُبھارتا ہے اور تحقیق پر آمادہ کرتا ہے۔ مثلاً ترتیب کے لحاظ سے قرآن کی پہلی سورہ کی پہلی آیت ہی ہمیں ریسرچ پر آمادہ کرتی ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ یہ آیت کہتی ہے کہ یہ صرف ایک عالم نہیں ہے ، کئی عالم مزید موجود ہیںکائنات میں، تحقیق کرو۔
  ابتدائی دور کے علماءایک متوازن زندگی گزارنے کے عادی تھے لہٰذا وہ ایک طرف دینی اُمور کے ماہر تھے تو دوسری طرف وہ منطق ، فلسفے اور ریاضی جیسے دُنیاوی علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے نزدیک قرآن حکیم کی تعلیمات میں دین اور دُنیادونوں کیلئے رہنما ہدایات موجود تھے۔ البتہ لگ بھگ بارہویں صدی عیسوی میں مُسلمانوں میں فکری و علمی رُجحان میں زوال اُس وقت شروع ہوا جب ہم نے ’دین‘ اور ’دُنیا‘  کی تعلیم کو الگ الگ سمجھ لیا۔ یہاں اُس وقت سب سے روشن کردار امام غزالی  ؒ نے اپنے ’احیاء العلوم‘کے ذریعے ادا کیا جب اُنہوں نے طب اور ریاضی جیسے علوم تک کو ’فرض کفایہ‘ قرار دیا۔ امام غزالی ؒ اپنے دورکے بعض اہم فنون جیسے نشتر زنی (موجودہ سرجری)، کاشت کاری (زراعت)، پارچہ بافی (ٹیکسٹائیل ) وغیرہ تک کو فرض کفایہ میں شمار کیا۔ امام غزالیؒ کی نظر میں گرچہ اِن علوم و فنون کا تعلق براہ راست شریعت سے نہیں مگر اُن سے بے اعتناعی یا لا تعلق ہونا معاشرے میں خرابی اور اِنسان کی محتاجی کا باعث بن سکتا ہے۔ 
  آج ہم امریکہ ، برطانیہ  اور فرانس وغیرہ کی ترقی اور سائنسی پیش رفت سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اِن سے زیادہ طاقتور حکومتیں اور حکمراں ہمارے پاس تھے جن کے پاس دولت کی فراوانی تھی، لاتعداد وسائل تھے البتہ اس برصغیر ہی کی مثال لیجئے کہ یہاں سوائے ٹیپو سلطان کے ہر کسی کو سائنسی ٹیکنالوجی سے دلچسپی نہیں تھی۔
 برصغیر میں ڈیڑھ سو برسوں کی محکومی سے آزادی کیلئےمسلم قوم نے بے مثل اور بے پناہ قربانیاں دیں، ان لوگوں سے بھی زیادہ جو آج ہم سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگتےہیں۔انگریزوں کے اس ملک سے نکلنے کے بعد اب وقت تھا اس قوم کی تعمیر نو اور دوبارہ سرخرو ہونے کا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس درمیان تقسیم ملک نے مزید قہر برپا کیا ،جس کی وجہ سےہماری طاقت  اور کمزور ہوگئی۔
 جدید تعلیم اورٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہمارے نوجوانوں میں زندگی و زمانے کے مقابلے کی سکت پیدا کرنے کا کارنامہ نہ سہی، مگر  اس تعلق سےکوشش  تو ہو سکتی تھی مگر ہم سے یہ بھی نہیں ہوا۔  اِن ۷۳؍ برسوں میں  مُلک کو مُسلمان وزیر تو بہت ملے مگر وہ مسلمانوں کے قائد نہیں بن سکے۔بعض اس قابل نہیں تھے تو بعض کو ہم نےتسلیم نہیں کیا۔
 مولانا آزاد کے بعد ایک آس ڈاکٹر ذاکرحسین کی تھی البتہ انہیں فوراً ۳۴۰؍ کمروں والے راشٹر پتی بھون پہنچادیا گیا۔ڈاکٹر ذاکر حسین کے صدر جمہوریہ بننے سے اس قوم (اور خود ذاکر حسین ) کا شدید نقصان ہوا ۔وہ تو جامعہ ملیہ جیسے کئی اداروں کا خواب رکھتے تھے۔قوم کی تعلیم اور اردو زبان کیلئے کئی منصوبے ان کے ذہن میں موجود تھے ۔ اگر یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ راشٹرپتی بھون کی جھگی نے ’ابو خاں کی بکری‘ کا شکار کر لیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK