اردو رسم الخط کا زندہ رہنا تو صرف اور صرف اردو معاشرے کی سنجیدہ کوششوں پر ہی منحصر ہے کہ وہ اس کی تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہوں اور اس کے استعمال کو اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 11:26 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai
اردو رسم الخط کا زندہ رہنا تو صرف اور صرف اردو معاشرے کی سنجیدہ کوششوں پر ہی منحصر ہے کہ وہ اس کی تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہوں اور اس کے استعمال کو اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔
بہارمیں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تقریباً ۴۵؍برسوں سے حاصل ہے اور حکومتِ بہار کی جانب سے مختلف سطحوں پر اردو کو فروغ دینے کے اقدام بھی کئے جاتے رہے ہیں۔بالخصوص محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے تحت اردو ڈائرکٹوریٹ کے ما تحت ریاست کے تمام اضلاع میں اردو سیل قائم کئے گئے ہیں اور وہاں بلاک سطح تک اردو مترجم ونائب مترجم کے عہدے پر اردوعملوں کی تقرری کی گئی ہے ۔ حالیہ دنوں میں ریاست کے تمام اضلاع کے اردو سیل کے زیر اہتمام سالانہ ضلعی فروغِ اردو سمینار ، عمل گاہ اور طلباء وطالبات کیلئے مقابلہ جاتی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں جس میں مختلف موضوعات پر حلقۂ ارد ادب کے دانشوروں ، شعراء اور ضلع کے یونیورسٹی سطح سے لے کر پرائمری اسکول تک کے اساتذہ اور طلبہ کی شرکت کو یقینی بنایا جاتاہے اور اس پروگرام کا مقصد صرف اور صرف اردو زبان کے فروغ کے لئے ماحول سازی ہوتا ہے تاکہ اردو معاشرہ بیدار ہو اور حکومت بہار کی طرف سے جو مراعات حاصل ہیں کہ تمام سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواست دی جا سکتی ہے اس کے تئیں اردو آبادی سنجیدہ ہو۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اردو معاشرہ قدرے تساہلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور جس تعداد میں سرکاری دفاتر میں درخواستیں آنی چاہئیں وہ نہیںآپا رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں دربھنگا ضلع انتظامیہ کی جانب سے فروغِ اردو سمینارضلعی عمل گاہ اور مشاعرہ کا انعقادکیا گیا جو ایک نہایت خوش آئند، دور رس اور قابلِ ستائش قدم ہے۔اس ادبی و لسانی تقریب کی صدارت کا شرف مجھے حاصل ہوا، جسے میں اپنی علمی و ادبی زندگی کا ایک یادگار لمحہ تصور کرتا ہوں۔ یہ محض ایک رسمی پروگرام نہیں تھا بلکہ اردو زبان کے تئیں انتظامیہ کی سنجیدگی، خلوص اور عملی وابستگی کا مظہر تھا۔ دربھنگا، جو خود اردو کی علمی و ادبی روایت کا ایک اہم مرکز رہا ہے، اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی تہذیبی شناخت کو نئے عزم اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ خصوصی طور پر ضلع کلکٹر جناب کوشل کمار صاحب اور نگراں افسر جناب آنند کمار صاحب کی تقاریر نے اس سمینارکو معنوی گہرائی عطا کی یہ بات نہایت حوصلہ افزا رہی کہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے اردو کو محض ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی وراثت، رابطے کی زبان اور عوامی اظہار کا مضبوط وسیلہ قرار دیا۔ضلع کلکٹر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ دربھنگا تاریخی طور پر اردو ادب، شاعری اور تہذیب وثقافت کا اہم مرکز ہے، یہاں اردو سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے، جو نہ صرف اس زبان کو بولتی ہے بلکہ اس کو اپنی زندگی کا حصہ مانتی ہے۔ بہار سرکار اس کی ترویج وتشہیر کے لئے پابند عہد ہے۔ ان کے خیالات سے یہ واضح ہوا کہ اردو کے فروغ کو وہ کسی مخصوص طبقے یا برادری تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور جمہوری قدروں سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ضلع کلکٹر کوشل کمار کی گفتگو میں اردو کے آئینی مقام، اس کی سماجی افادیت اور انتظامی سطح پر اس کے استعمال کی ضرورت پر جس سنجیدگی اور بصیرت کا اظہار ہوا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ زبانیں عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کام کرتی ہیں، اردو کے حوالے سے ایک نہایت معنی خیز اور دور اندیشانہ نقطۂ نظر ہے۔ اسی طرح نگراں افسر آنند کمار نے اردو کی تاریخی اہمیت، اس کے ادبی سرمایے اور نوجوان نسل میں اس کے فروغ کی ضرورت پر جس خلوص کے ساتھ روشنی ڈالی، وہ قابلِ قدر ہے۔
اس سمینار کے ساتھ منعقدہ ضلعی عمل گاہ نے اردو کے عملی نفاذ اور دفتری سطح پر اس کے استعمال کے امکانات کو بھی واضح کیا۔ یہ امر نہایت اہم ہے کہ اردو محض مشاعروں اور کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ دفتری کارروائی، عوامی شکایات، اطلاعات اور سرکاری مواصلات میں بھی اس کا مؤثر استعمال ہو۔ اس سمت میں ضلع انتظامیہ کی یہ پہل یقیناً ایک مثال ہے۔مشاعرہ اس پورے پروگرام کا روحانی اور جمالیاتی حسن تھا۔ شعراء کے کلام میں جہاں اردو کی لطافت، جذبات کی شدت اور فکری تنوع جلوہ گر تھا، وہیں سامعین کی بھرپور شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو آج بھی عوام کے دلوں کی زبان ہے۔ دربھنگا ضلع انتظامیہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن واضح ہو تو اردو کے فروغ کے لئے عملی اقدامات ممکن ہیں۔اس جلسہ میں ضلع اردو سیل کے مترجم اعلیٰ ڈاکٹر محمد جسیم الدین کی اس اپیل کو غیر معمولی اہمیت دینی چاہئے کہ جب تک اردو آبادی اپنی تہذیبی ولسانی شناخت اردو کیلئے بیدار نہیں ہوں گے اور سرکاری کام کاج میں اردو کے استعمال کو اولیت نہیں دیں گے اس وقت تک اردو کی راہیں ہموار نہیں ہوں گی۔ بلا شبہ اردو ہی نہیں بلکہ دنیا کی کوئی بھی زبان صرف اور صرف سرکاری مراعات پر زندہ نہیں رہتی بلکہ اس کے بولنے والے کے حرکت وعمل کی بدولت ہی زبان فروغ پاتی ہے اور اردو رسم الخط کا زندہ رہنا تو صرف اور صرف اردو معاشرے کی سنجیدہ کوششوں پر ہی منحصر ہے کہ وہ اس کی تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہوں اور اس کے استعمال کو اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔یہ خوش آئند بات ہے کہ بہار میں اس طرح کے پروگرام تمام ضلع میں ہوتے ہیں اور اس موقع پر اردو کا ایک مجلّہ ’’اردو نامہ‘‘ بھی جاری کیا جاتا ہے اوریہ ریاست کے تمام اضلاع کے اردو سیل کے ذریعہ شائع کئے جاتے ہیں جس میں مقامی نوواردانِ ادب کے ساتھ ساتھ کہنہ مشق ادباء اور شعراء کی تخلیقات کو جگہ دی جاتی ہے تاکہ ہر ایک ضلع میں اردو کے فروغ کیلئے جو سرگرمیا ں سال بھر ہوتی ہیں وہ یکجا ہو جائیں اور وہ سبھی مجلّے اردو ڈائرکٹوریٹ ، بہار کو بھیجے جاتے ہیں جس کی بنیاد پر آئندہ کی سرگرمیاں طے پاتی ہیں ۔ اردو آبادی کو اردو کے استعمال کے ساتھ ساتھ سرکاری پروگراموں کے تئیں بھی سنجیدہ رہنے کی ضرورت ہے۔حال ہی میں اردو ڈائرکٹوریٹ کی سرگرمیوں کے تعلق سے بھی راقم الحروف نے لکھا تھا کہ کابینہ سکریٹریٹ کے ذریعہ پٹنہ میں بھی ادباء اور شعراء کے حیات وخدمات پر مبنی ادبی پروگرام ہوتے رہتے ہیں لیکن ضلعی سطح پر جو پروگرام ہوتے ہیں اس کی غیر معمولی اہمیت بہ ایں معنی ہے کہ جب تک زمینی سطح پر اردو کے پودوں کی آبیاری نہیں ہوگی اس وقت تک اس کا درخت نہ تو تناور ہوگا اور نہ ثمر آور۔n