آج سے چند دہائیاں قبل بھیونڈی کے محلے پیشوں کی مناسبت سے جانے جاتے تھے۔ جیسے حمال باڑا، کمہار باڑا، ستار باڑا، برہمن آلی، کاسار آلی،سوداگر محلہ، ٹنڈیل محلہ ،چوڑی محلہ اور دھوبی محلہ وغیرہ ۔ اب بھی ان محلوں کے نام برقرار ہیں لیکن اب ان مقامات پر ملی جلی آبادی رہائش پذیر ہے۔
آج سے چند دہائیاں قبل بھیونڈی کے محلے پیشوں کی مناسبت سے جانے جاتے تھے۔ جیسے حمال باڑا، کمہار باڑا، ستار باڑا، برہمن آلی، کاسار آلی،سوداگر محلہ، ٹنڈیل محلہ ،چوڑی محلہ اور دھوبی محلہ وغیرہ ۔ اب بھی ان محلوں کے نام برقرار ہیں لیکن اب ان مقامات پر ملی جلی آبادی رہائش پذیر ہے۔ شہر کی حدود سے باہر تین مقامات ونجار پاٹی ناکہ،دھامن کر ناکہ اور ڈانْڈیکر واڑی بہت مشہور مقامات ہیں ۔بھیونڈی کا شاید ہی کوئی شخص ہوگا جو اِن مقامات سے واقف نہیں ہوگا لیکن ان مقامات کی وجہ تسمیہ سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ ان مقامات کو دھامن کر، ڈانڈیکر واڑی یا ونجار پٹی کے ناموں سے کیوں جانا جاتا ہے۔
ونجار پٹی ناکہ: یہ علاقہ شہر سے باہر ممبئی آگرہ روڈ سے متصل ناسک جانے والے راستے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ پہلے نہایت سنسان تھا، زمینیں خالی پڑی ہوئی تھیں اس لیے یہاں سرکس لگا کرتے تھے اور بنجارے یہاں ڈیرہ ڈال لیا کرتے تھے، اسلئے یہ علاقہ بنجارپٹی کہلایا جو اَب’ ونجار پٹی ناکہ‘ کہلاتا ہے۔
دھامنکر ناکہ(دھامن ناکہ)
یہ علاقہ ممبئی آگرہ روڈ سے متصل ہے تھانہ جانے کیلئے یہ واحد راستہ تھا ۔ پہلے شہر سے باہریہ ایک سنسان علاقہ تھا جہاں صرف کرشنا جی ویج ناتھ عرف بھاؤ صاحب دھامن کر کا مکان تھا۔ اسی لئے یہ مقام دھامنکر ناکہ کہلاتا ہے۔ اب یہ ایک مشہور علاقہ ہے۔ یہیں پر جہاں ان کا مکان تھا، اب ان کا مجسمہ نصب ہے۔ یہاں سے گزرنے والا فلائی اور برج ’دھامن کر اُڑان پل‘ کہلاتا ہے۔
شری کرشنا جی ویج ناتھ عرف بھاؤ صاحب دھامنکرمجاہدِ آزادی ، سماجی خدمت گار اور ایک تعلیم یافتہ صنعت کارتھے۔ وہ بھیونڈی کے پہلے شخص تھے جنھوں نے ۱۹۲۵ء میں کیمیکل انجینئرنگ کی سند حاصل کی اور اپنا ذاتی ڈائنگ ہاؤس کا آغاز کیا۔ ۱۹۲۵ء میں ہی ہاتھ کام کا کارخانہ اور ۱۹۲۸ء میں بھارت ٹیکسٹائل قائم کی۔ان کی سیاسی اور سماجی زندگی کا آغاز ۱۹۲۷ء میں ہوا۔ تحریکِ آزادی میں شامل ہوئے،نمک ستیہ گرہ اور جنگل ستیہ گرہ میں بھی حصہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے۔۱۹۴۲ء میں ’بھارت چھوڑ و تحریک‘ میں شامل ہونے کی پاداش میں گرفتار ہوئے اور ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ ناسک جیل میں ان کی ملاقات سانے گروجی سے ہوئی جس کے بعد انہوں نے بازار پیٹھ میں سودیشی اشیاء کااسٹور قائم کیا۔ بھیونڈی نظامپور نگر پالیکا کام گار سنگھٹنا کے صدر ،بال سدھار کیندر کے وائس چیئرمین ،شاہ پور کام گار سوسائٹی کے صدر اور ہوے والا میٹرنٹی ہوم کے بانی سیکریٹری رہے ۔۱۹۳۵ء میں میونسپل کاؤنسلر منتخب ہوئے۔ تعلیمی خدمات کے سلسلے میں انہیں تھانہ ضلع اسکول بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔
انہیں تعلیم نسواں سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ۱۹۵۹ء میںلڑکیوں کیلئے ’ماتر چھایا ہوسٹل‘ قائم کیا ۔ اکبر صاحب فقیہ، جناب غلام محمد مومن اور شری موہن لال کروا کے ساتھ انہوں نے ’ بی این این کالج‘ کی بنیاد رکھی۔اس کے ساتھ ہی پونے اور ممبئی یونی ورسٹی سینیٹ کے ممبر رہے ۔ وہ بھودان سرودیہ تحریک اور باباآمٹے کی ’بھارت جوڑو تحریک‘ سے بھی وابستہ رہے ۔ تھانہ ڈسٹرکٹ وکاس بورڈ، تھانہ ڈسٹرکٹ کوآپریٹیو بینک اور ڈسٹرکٹ لپروسی اسوسی ایشن کے نائب صدر رہے۔ ’تھانہ ضلع خریدی وکری سنگھ‘ کے چیئرمین اور سلک آرٹ سلک مینوفیکچررس اسوسی ایشن کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ تھانہ ضلع سدھار سمیتی اور تھانہ ضلع انڈسٹریل کو آپریٹیو بینک کے چیئرمین بھی رہے۔ ۱۹۷۱ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے بینر تلے لوک سبھا کے ممبر (ایم پی) منتخب ہوئے اور اس کی ذیلی کمیٹیوں میں اپنی خدمات پیش کیں۔بحیثیت ایم پی انہوں نے ملک کی کئی ریاستوں کےساتھ مغربی جرمنی کا دورہ کیا۔۱۹۷۴ء میں جبکہ نئے اسکول کھولنے پر مکمل پابندی تھی، انہوںنے بھیونڈی ویورس ہائی اسکول بھیونڈی( موجودہ صمدیہ ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج) کے قیام میں بھر پور جدوجہد کی۔ یہ ان کی اور اُس وقت کے ایم ایل اے رضوان حارث کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ اس دوران مہاراشٹر کا یہ واحد اسکول تھا جس کو گرانٹ کے ساتھ ہی منظوری ملی۔ اس دوران مجھے اور بلال مومن (پرنسپل) کو ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
انہیں ۲۵؍ مئی ۱۹۷۶ء کو صدر جمہوریۂ ہند فخر الدین علی احمد کے ہاتھوں سے مجاہدِ آزادی کی سند(تامبر پتر) تفویض کیا گیا نیز حکومتِ مہاراشٹر کی جانب سے مجاہدِ آزادی کا ایوارڈ ۱۹۹۱ء میں دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہریجن گریجن سماج انتی منڈل اور بھیونڈی نظامپور میونسپل کاؤنسل کی جانب سے بھی اعزازت دیئے گئے۔ ان کا انتقال ۶؍ اپریل ۱۹۹۵ء کو ہوا۔ایسے بے لوث اور مخلص خادم کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ اب صرف آپ کی یادیں ہی یادیں ہیں۔
ڈانڈیکر واڑی
بھیونڈی کے کلیان ناکے یعنی راجیو گاندھی چوک سے کلیان جانے والے روڈ کے دونوں جانب کا علاقہ بشمول اشوک نگر اور گوپال نگر ڈانڈیکر واڑی کہلاتا ہے۔ بھیونڈی کا مرکزی پوسٹ آفس بھی ’دانڈیکر واڑی پوسٹ آفس‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس علاقے میں رہنے والوں ، دن میں دس بار یہاں سے گزرنے والوں اور بار بار دانڈیکرواڑی کا نام لینےوالوں میں سے شایدکچھ ہی لوگ ایسے ہوں جواس بات سے واقف ہوں کہ آخر یہ علاقہ ڈانڈیکر واڑی کیوں کہلاتا ہے؟ یہ جاننے کیلئے ہمیں ماضی میں جھانکنا ضروری ہے۔
ایک دور تھا جب بھیونڈی شہر چاول کی کاشت کیلئے بہت مشہور تھا ۔ دھان سے چاول نکالنےاور چاول کو پالش کرنے کیلئے رائس مل کی ضرورت ہوتی تھی ۔ گوپال گنیش ڈاندیکر اسی پیشے سے منسلک تھے۔ انھوں نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے ۱۹۱۷ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ناسک سے بھیونڈی منتقل ہو گئے اور برہمن آلی میں ایک فیکٹری کی بنیاد ڈالی ۔اس جگہ اب بھی ڈانڈیکر ودیا نگری قائم ہے جہاں پی آر اسکول ،این ای ایس اسکول، ڈانڈیکر ہال اور آر ایس ایس کا آفس موجود ہے۔

گوپال گنیش ڈانڈیکر عرف دادا صاحب ڈانڈیکرنے کلیان روڈ پر خالی زمینیں خرید لیںجن میں سندر بینی پٹرول پمپ، لاہوٹی کمپاؤنڈ اور ڈانڈیکر پوسٹ آفس وغیرہ قائم ہیں۔۱۹۳۳ میں جب فیکٹری کو کلیان روڈ منتقل کیا گیا تو اس کا نام گوپال گنیش مشین ورکس(جی جی مشین ورکس ) رکھا گیا۔ اس کی خالی زمین پر اشوک نگر قائم ہوا۔ پوسٹ آفس اور پولیس چوکی کو بھی جگہ دی گئی۔ ۱۹۵۵ ء میں تعلیم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ششو وہار (بال واڑی) کھولا گیا۔پہلے اس میں چہارم بعد ازاں ہفتم تک تعلیم کا نظم تھا۔ بڑھتی ہوئی آباد ی اور اس علاقے میں سیکنڈری اسکول کی ضرورت کے تحت ڈانڈیکر مادھیامک ودیالیہ کا قیام عمل میں آیا جہاں جونیئر کالج تک کی تعلیم کا نظم ہے۔۱۹۵۸ء میںگوپال گنیش ڈانڈیکر کی جنم شتابدی کے موقع پر اشوک نگر سے متصل علاقے کوان کے نام پر گوپال نگر رکھا گیا۔
بھیونڈی شہر کو ملک اور بیرون ملک متعارف کرانے اور اس کی معاشی، صنعتی اور سماجی تبدیلیاں لانے میں دادا صاحب ڈانڈیکر کا اہم رول رہاہے ۔انہوں نے نہ صرف ڈانڈیکر مشین ورکس کی بنیادڈالی بلکہ ڈیزل انجن کی مدد سے شہر میں بجلی سپلائی کا کام بھی شروع کیا۔ کاروبار کےساتھ ہی سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ اپنی فیکٹری کی خالی زمین میں غریب اور نادار لوگوں کیلئے بلا تفریق مذہب کھانے کا بندوبست کرتے رہے۔
ڈانڈیکر مشین ورکس کی تیار کی ہوئی رائس ملیں ملک اور بیرون ملک کافی مشہور تھیں۔یہاں تیار ہونےوالی مشینیں آندھرا پردیش، ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، آسام، مدراس، کیرالا، میسور اور پنجاب کے علاوہ سیلون ، افریقہ، انڈونیشیا اورپاکستان وغیرہ ممالک میں فروخت کیلئے جاتی تھیں۔ ۱۹۱۴ء میں تیار کی گئی رائس مشین آج بھی برہمن آلی میں جوگلیکر کی رائس مل میں جاری ہے۔ان کا انتقال ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو ہوا۔ ڈانڈیکر واڑی کے ساتھ ہی ان کا نام ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔