آج یہ اخبار نوجوانوں کے مطالعے میں ہے۔ یہ نئے قاری اس کی بڑی طاقت ہیں۔ کیا آپ کو محسوس ہورہا ہے کہ یہ ۸۷؍ برس کا ہوچکا ہے؟
کوئی ہے جو ہر صبح آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے، خاموشی سے پڑھ رہا ہوتا ہے۔ ہر صبح ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں رات پوری طرح رخصت نہیں ہوئی ہوتی اور دن پوری طرح وارد نہیں ہوا ہوتا۔ روشنی ذرا سی ہچکچاہٹ کے ساتھ سڑکوں پر قدم رکھتی ہے، درختوں کے سائے ابھی انگڑائی لے رہے ہوتے ہیں، اور دھواں اڑاتی گرم چائے کے پہلے گھونٹ میں نیند کی آخری پرچھائیاں رخصت ہورہی ہوتی ہیں۔ اسی لمحے، جی ہاں، بالکل اسی لمحے میں، اخبار آتا ہے۔ نہ کسی دروازے پر دستک، نہ کسی الارم کی آواز۔ دروازے کے قریب کاغذ کی ہلکی سی سرسراہٹ جیسے کسی نے آہستہ سے سانس لی ہو۔
سیاہی ابھی تازہ ہوتی ہے۔ لفظوں میں رات کی تھکن باقی ہوتی ہے۔ خبریں رات بھر جاگ کر قاری کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس لمحے میں اخبار محض صفحات کا مجموعہ نہیں رہ جاتا۔ وہ شہر کی نبض بن جاتا ہے۔ وہ رات اور دن کے بیچ وہ پل بن جاتا ہے جس پر سے گزرے بغیر ایک ہوشمند آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم اسے اٹھاتے ہیں، بغل میں دباتے ہیں، موڑتے ہیں؛ کبھی بے دلی سے، کبھی بے صبری سے، اور کبھی اس خاموش احترام کے ساتھ جو برسوں میں عادت بن چکا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اخبار پڑھ رہے ہیں، مگر دراصل وہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہماری آنکھوں میں نیند کا خمار، اس کے الفاظ پر پھسلتی ہماری بے چین نگاہیں، ہماری انگلیوں میں تیزی، ہمارے سوالوں کی شدت، اور سطر بہ سطر ہمارے دل کی کیفیت۔
آج جو اخبار آپ کے ہاتھوں میں ہے، ۸۷؍ برس کا ہے۔ آج مختلف عمروں کے بچوں، نوعمروں، نوجوانوں، ادھیڑ عمر اور معمر افراد کے ہاتھوں میں یہ اخبار ہے۔ کیا آپ کو محسوس ہورہا ہے کہ یہ ۸۷؍ برس کا ہوچکا ہے؟ یہ اس کی عمر ہی ہے جو اسے اس قدر سکون اور اطمینان بخشتی ہے۔ اس عمر میں انسان چیخنا چلانا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اس بات سے واقف ہوتا ہے کہ ہر بات فوراً کہنا ضروری نہیں، اور ہر سچ کو بلند آواز کی حاجت نہیں ہوتی۔ یہ اخبار بھی عمر کے اس مرحلے میں ہے، اور غالباً ہمیشہ سے اتنا ہی سنجیدہ تھا۔ یہ جلدی نہیں کرتا۔ یہ بھاگتا نہیں۔ یہ جانتا ہے کہ وقت کے ساتھ چلنے کیلئے دوڑنا ضروری نہیں، کبھی کبھی اپنی رفتار پر قائم رہنا ہی سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔
یہ اخبار ۸۷؍ برس میں بھی نوجوان ہے جس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو بدل دیا بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بکھرنے نہیں دیا۔ زمانے نے کئی روپ بدلے، لفظوں کے وزن بدلے، خبروں کی شکل بدلی، مگر اس اخبار نے اپنا مزاج نہیں بدلا۔ یہ آج بھی ٹھہر کر بات کرتا ہے۔ یہ آج بھی سنسنی سے زیادہ معنی کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ آج بھی شور میں شامل ہونے کے بجائے خاموشی میں اپنی جگہ بناتا ہے۔
اگر اخبار بول سکتا تو شاید وہ ہم سے آج شکوہ نہ کرتا۔ وہ طنز بھی نہ کرتا۔ وہ بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اتنا کہتا کہ ’’آپ صبح مجھے سب سے پہلے نہیں اٹھاتے۔ پہلے موبائل فون دیکھتے ہیں، پھر چائے بناتے ہیں، پھر کہیں جا کر مَیں یاد آتا ہوں۔ کوئی بات نہیں۔ میں یہی ہوں۔‘‘ وہ شاید یہ بھی کہتا کہ ’’ آپ چائے کا کپ یا پانی کا گلاس رکھ کر مجھ پر ’’انگوٹھی‘‘ بنادیتے ہیں، کبھی بحث کے دوران مجھے میز پر زور سے پٹخ دیتے ہیں، کبھی غصے میں ’’رول‘‘ بناکر کسی کی پشت پر برسا دیتے ہیں، کبھی پورا پڑھتے ہیں، کبھی آدھا، اور کبھی سرخیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔‘‘
اخبار اور قاری کے درمیان جو رشتہ ہے وہ کبھی اعلان نہیں مانگتا۔ یہ وفاداری کا مطالبہ بھی نہیں کرتا۔ یہ ایک خاموش معاہدہ ہے روزانہ کا۔ اس میں ناراضی بھی ہے، بے اعتنائی بھی، مگر دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔
شہر و مضافات کی صبح اخبار کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔سگنل پر رکی ٹیکسی میں اخبار ایک لمحے کیلئے ڈرائیور کی چھوٹی سی دنیا کو اتنا وسیع کردیتا ہے کہ وہ ممبئی میں بیٹھا امریکہ کی سڑکوں پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ شاید پوری خبر نہ پڑھے، مگر سرخی اسے یہ احساس دلا دیتی ہے کہ وہ شہر میں اکیلا نہیں ہے۔ لوکل ٹرین میں کسی کونے کی نشست پر اخبار قاری کو ہجوم سے الگ کر دیتا ہے۔ اسے پھر اطراف کا شور سنائی نہیں دیتا، بھانت بھانت کی بولیاں قوت سماعت سے بہت دور ہوجاتی ہیں۔ لوگ چڑھتے، اترتے، دھکے دیتے رہتے ہیں، لیکن قاری کیلئےصفحہ پلٹتے وقت ایک لمحے کیلئے سب کچھ ٹھہر جاتا ہے۔
ایرانی کیفے کی میز پر اخبار بحث کو جنم دیتا ہے۔ وہاں خبریں محض خبریں نہیں رہتیں، وہ یادیں بن جاتی ہیں، حوالہ بنتی ہیں، اختلاف پیدا کرتی ہیں۔ چوکیدار، جو شاید پورا مضمون نہ پڑھے، پھر بھی ہر صفحہ احترام سے پلٹتا ہے جیسے یہ کاغذ نہیں، کوئی بڑی ذمہ داری ہو۔ کسی دفتر میں اخبار فائلوں کے نیچے دب جاتا ہے، کسی دکان پر ترازو کے پاس رکھا جاتا ہے، کسی گھر میں دوپہر تک صوفے کے کونے پر ٹھہرا رہتا ہے۔
یہ اخبار اپنی لاکھوں نقل کے سبب شہر و مضافات یا دور دراز شہروں میں گھومتا رہتا ہے۔ جان لیجئے، اس نے آپ سے زیادہ دنیا دیکھی ہے، آپ سے زیادہ حکمرانوں کو ختم ہوتے دیکھا ہے، اور آپ سے زیادہ ممبئی دیکھی ہے۔
زمانہ بدل گیا ہے۔ خبریں اب دوڑتی ہیں۔ وہ آتی ہیں، چیختی ہیں، اور اگلے لمحے بھلا دی جاتی ہیں۔ بریکنگ نیوز اب ’’بریک‘‘ نہیں ہوتی، صرف شور برپا کرتی ہے۔ ہر واقعہ فوری رائے مانگتا ہے، ہر خبر فوری فیصلہ چاہتی ہے، ہر سچ کو فوراً انجام تک پہنچانے کی ہوڑ لگ جاتی ہے۔ لوگ جلد سے جلد فیصلہ صادر کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ان حالات میں بھی یہ اخبار جلدی میں نہیں ہے۔ یہ جانتا ہے کہ کچھ حقائق وقت مانگتے ہیں۔ کچھ زخموں کو سرخی نہیں، خاموشی درکار ہوتی ہے۔ کچھ کہانیاں تب سمجھ آتی ہیں جب ان پر گرد بیٹھ چکی ہو۔ یہ اخبار وقت دیتا ہے خبر کو بھی، قاری کو بھی، اور خود کو بھی۔
راقم نے اس اخبار کے ساتھ جدید دنیا کے دس برس گزارے ہیں۔ اسے صبح کی پہلی روشنی میں بھی دیکھا ہے اور رات گئے آخری ایڈیشن کی خاموشی میں بھی۔ یہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں لفظ کیسے تولے جاتے ہیں، جملے کیسے روکے اور بدلے جاتے ہیں، اور کبھی کبھی کس طرح خاموشی کوصفحے پر جگہ دی جاتی ہے۔ یہ سیکھا ہے کہ ہر بات لکھی نہیں جاتی، اور ہر نہ لکھی گئی بات کمزوری نہیں ہوتی۔ کچھ انکار بھی تحریر ہوتے ہیں لیکن سیاہی کے بغیر۔
یہ اخبار صرف خبریں نہیں چھاپتا۔ یہ مزاج بناتا ہے۔ یہ صبر سکھاتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ جلدی نہ کرنا بھی ایک قسم کی صحافت ہے۔ یہ ٹرینڈ بنتا ہے نہ بناتا ہے مگر ٹرینڈ کے درمیان بھی مضبوطی سے اسی سوچ کے ساتھ کھڑا رہتا ہے کہ ٹرینڈ آتے جاتے رہتے ہیں۔ آج کچھ اور ہے، کل کچھ اور ہوگا۔ یہ پیرس کا وہ ایفل ٹاور ہے جس نے بلندی سے نیچے بدلتی دنیا اور لوگ دیکھے ہیں۔ جس نے ہر بدلتے موسم کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ ان کی مار بھی سہی ہے۔ اس کے باوجود اپنا وجود یوں قائم کر رکھا ہے کہ اسے احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ۸۷؍ برس کا ہوجانے کے بعد بھی لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔
۸۷؍ برس کوئی عدد نہیں۔ یہ سانسوں کی تعداد ہے۔ یہ صبحوں کا حساب ہے۔ یہ ان لا تعداد قارئین کی کہانی ہے جنہوں نے اسے موڑا، سنبھالا، بحث کی، ناراض ہوئے، دور گئے اور پھر لوٹ آئے۔ کچھ صبحیں ایسی بھی ہوتی ہیں جب یہ اخبار دیر سے اٹھایا جاتا ہے۔ کبھی اٹھایا ہی نہیں جاتا۔ تب بھی وہ وہیں رہتا ہے۔ خاموش۔ بغیر شکوے کے۔
اور کل صبح بھی، جب یہ شہر پھر سانس لے گا، جب دروازے کے باہر اخبار خاموشی سے رکھا جائے گا، جب کوئی نیا قاری اسے تجسس سے اٹھائے گا، اور کوئی پرانا قاری ویسے ہی موڑے گا جیسے برسوں سے موڑتا آیا ہے، یہ اخبار وہی ہوگا۔ نہ بوڑھا، نہ نیا، بس اس کی طاقتور موجودگی۔ سانس لیتا ہوا،سانس دیتا ہوا۔ عمر نے اسےپرانا نہیں بلکہ قابل اعتماد بنایا ہے۔